حضرت عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک را ت حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میں نے ایک نامناسب ارادہ کیا، وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو کھڑا رہنے دوں اور خود بیٹھ جاؤں۔()
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکبھی رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے اور کبھی اتنا ہی وقت بیٹھ کر نماز ادا فرماتے۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم (رمضان کے علاوہ ) کسی مہینہ میں کبھی مسلسل افطارفرماتے(یعنی روزہ نہ رکھتے)یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اس ماہ میں کو ئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور کبھی آپ مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اس ماہ میں با لکل افطار نہیں کریں گے۔ اگر کوئی آپ کو رات میں نماز پڑھتے ہو ئے دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا اور کوئی آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا‘‘۔()
یعنی آ پ تمام رات نمازنہ ادا فرماتے بلکہ کچھ وقت آرام بھی فرماتے۔ گویا نفل عبادات میں افراط و تفریط سے دور رہتے البتہ آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قلبِ اطہر کسی بھی لمحے اللہ تعالیٰ کی یا د سے غافل نہ ہو تا تھا۔
حضرت عبداللہ بن شخیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’ایک روز میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنما ز ادا فرمارہے ہیں اور سینۂ اقدس سے رونے کے باعث اس طرح آواز آرہی ہے جیسے کھولتی ہوئی ہا نڈی سے آیا کرتی ہے‘‘۔()
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے قرآن حکیم کی تلاوت کا حکم دیا۔ میں نے سورہ نسا ء تلاوت کی ،جب اس آیت پر پہنچا (جس کا ترجمہ یہ ہے ’’تو کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے ایک گو اہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں‘‘)تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی آنکھو ں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔()
حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہسے ایک طویل روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم (سورج گہن کے وقت حالت نماز میں)سجدہ میں رورہے تھے اور دعا فرما رہے تھے، اے اللہ! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ میری موجو دگی میں میری امت کو عذاب نہ ہوگا، اے رب! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایاکہ جب تک یہ لو گ استغفار کرتے رہیں گے، ان پر عذاب نہ آئے گا۔ اے اللہ !ہم سب استغفار کرتے ہیں اورتجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں ‘‘۔()
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکثرت سے استغفار فرماتے تھے۔ آپ کا اِستغفار فرمانا کسی خطایاگناہ کی وجہ سے ہر گز نہ تھا کیو نکہ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام تمام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہو تے ہیں۔ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا استغفارفرمانا ازراہِ تواضع تھایا بطور عبادت؛ اور اس کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اِستغفار کرنا امت کے لیے سنت بن جائے۔
حضرت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثر اوقات غمگین اور متفکر رہتے۔ایک مرتبہ صحابہ نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!ہم آپ پر بڑھاپے کے آثار (ضعف و غیرہ ) دیکھتے ہیں(اس کی کیا وجہ ہے؟) ارشاد فرمایا، مجھے سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں نے ضعیف کردیا۔()
Page 74 of 120

