حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں نے ایک رات حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میں نے ایک نا مناسب ارادہ کیا، وہ یہ کہ حضور ﷺ کو کھڑا رہنے دوں اور خود بیٹھ جاؤں۔ (شمائل ترمذی، ص224)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
آقا و مولیٰ ﷺ کبھی رات کا طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز ادا فرماتے اور کبھی اتنا ہی وقت بیٹھ کر نماز ادا فرماتے۔
(شمائل ترمذی، ص225)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’نبی مکرم ﷺ رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں کبھی مسلسل افطار فرماتے یعنی روزہ نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اس ماہ میں کوئی روزہ نہیں رکھیں گے، اور کبھی آپ مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اس ماہ میں بلکل افطار نہیں کریں گے۔ اگر کوئی آپ کو رات میں نماز پڑھتے ہو ئے دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا اور کوئی آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا‘‘۔ (بخاری،ج 10، ص15، حدیث نمبر:2676)
یعنی آپ تمام رات نماز نہ ادا فرماتے بلکہ کچھ وقت آرام بھی فرماتے۔ گویا نفل عبادات میں افراط و تفریط سے دور رہتے البتہ آپ ﷺ کا قلبِ اطہر کسی بھی لمحے اللّٰہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہوتا تھا۔
حضرت عبداللّٰہ بن شخیر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’ایک روز میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آقا کریم ﷺ نماز ادا فرما رہے ہیں اور سینۂ اقدس سے رونے کے باعث اس طرح آواز آرہی ہے جیسے کھولتی ہوئی ہانڈی سے آیا کرتی ہے‘‘۔
(شمائل ترمذی، ص263، مشکوٰۃ،ج 1، ص219، حدیث نمبر:1000)
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
آقا و مولیٰ ﷺ نے مجھے قرآن حکیم کی تلاوت کا حکم دیا۔ میں نے سورہ نساء تلاوت کی، جب اس آیت پر پہنچا (جس کا ترجمہ یہ ہے ’’تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں‘‘) تو میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ (شمائل ترمذی، ص264)
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہ سے ایک طویل روایت میں ہے کہ:
حضور ﷺ (سورج گہن کے وقت حالت نماز میں )سجدہ میں رو رہے تھے اور دعا فرما رہے تھے، اے اللّٰہ! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ میری موجودگی میں میری امت کو عذاب نہ ہوگا، اے رب! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے، ان پر عذاب نہ آئے گا۔ اے اللّٰہ !ہم سب استغفار کرتے ہیں اور تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں ‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص265)
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ:
نبی کریم ﷺ کثرت سے استغفار فرماتے تھے۔ آپ کا اِستغفار فرمانا کسی خطا یا گناہ کی وجہ سے ہر گز نہ تھا کیونکہ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام تمام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہو تے ہیں۔
رسولِ معظم ﷺ کا استغفار فرمانا ازراہِ تواضع تھا یا بطور عبادت؛ اور اس کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اِستغفار کرنا امت کے لیے سنت بن جائے۔
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
نبی کریم ﷺ اکثر اوقات غمگین اور متفکر رہتے۔ ایک مرتبہ صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ !ہم آپ پر بڑھاپے کے آثار (ضعف و غیرہ) دیکھتے ہیں(اس کی کیا وجہ ہے؟)
ارشاد فرمایا،
مجھے سورہ ھود اور اس جیسی سورتوں نے ضعیف کردیا۔
(شمائل ترمذی، ص58)
یعنی جن سورتوں میں حساب و عذاب کا ذکر ہے، اسے یاد کر کے اپنی گناہگار امت کی فکر میں مبتلا رہنے نے مجھ پر ضعف طاری کر دیا۔ رحمتِ عالم ﷺ کی پیاری روح پرور دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی،
’’اے اللّٰہ !مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو زور سے برسنے اور خوب رونے والی ہوں اور تیرے عذاب و عتاب سے ڈرنے والی ہوں، اس سے پہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں انگارے‘‘۔
(انظر مواہب اللدنیہ،ج 5، ص502)
اس دعا میں امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہونے سے پہلے اس کا ڈر اور خوف اپنے دل میں پیدا کیا جا ئے تاکہ ہماری آنکھیں خوفِ خدا سے روئیں اور ہمارے آنسوؤں سے جہنم کی آگ بجھ جائے۔

