سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بعض اوقات حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی فاقہ کشی کی حالت دیکھ کر رو پڑتی اور عرض کرتی، میرے آقا !آپ دنیا سے کم ازکم اتنا حصہ تو قبول فرما لیں جس سے فاقے کی اذیت نہ ہو۔توآپ ارشاد فرماتے، ’’مجھے دنیا سے کیا غرض! میرے بھائی اولو العزم پیغمبروں نے اس سے بھی مشکل حالات میں صبر کا دامن تھامے رکھا اور صبر و قناعت کے باعث بارگاہِ خدا میں عزت و شرف اور اجر عظیم کے حقدار ٹھہرے۔ میں اگر دنیا میں آرام و سکون پسند کروں گاتو مجھے ان سے کم اجر ملے گا جو میرے لیے ندامت کا باعث ہو گا اس لیے مجھے اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب بندوں کی موافقت سے بڑھ کر کو ئی شے مطلوب نہیں ہے‘‘۔()
حضر ت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمایک چٹائی پر سوئے، جب بیدار ہوئے تو جسم اقدس پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا۔عرض کی ، آپ اجازت دیتے کہ ہم آپ کے لیے بستر بچھا دیتے۔ فرمایا، مجھے دنیا سے کیا غرض!میرا دنیا سے تعلق بس ایسا ہے جیسے کو ئی سوار کسی درخت کے سائے میں کھڑا ہو اورپھر درخت کو چھوڑ کر آگے چلا جائے۔()
سیدنا عمررضی اللہ عنہ آپ کے جسم اقد س پر چٹا ئی کے نشا نات اور آپ کی کل جمع پو نجی دیکھ کر رونے لگے۔ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، کیو ں روتے ہو؟عرض کی، قیصرو کسریٰ تو عیش و عشرت میں رہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماس حال میں زندگی گزاریں ؟ ارشاد فرمایا، ابنِ خطاب !کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ آخرت ہمارے لیے ہو اور دنیا ان کے لیے۔ ()
14...خوف و عبادت:
ارشادِباری تعالیٰ ہے،
﴿اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا﴾
’’اللہ سے اُس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں‘‘۔()
اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو سب سے زیادہ علم اور اپنی معرفت کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکثرت سے عبادت فرماتے اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد گرامی ہے،’’میں تم سب سے زیادہ اسرارِ قدرت سے آگاہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں‘‘۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکاایک اور فرمانِ عالی شان ہے، ’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم ان حقیقتوں کو جان لیتے جنہیں میں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے‘‘۔()
علامہ نبہانی فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا رونا بھی آپ کی مسکراہٹ کی مانند تھا یعنی جیسے آپ کبھی آواز کے ساتھ نہیں ہنسے، ایسے ہی کبھی آواز کے ساتھ روئے بھی نہیں۔ آپ کا رونایہ تھا کہ آنکھوں سے آنسوبہہ نکلتے اور سسکیوں کی آواز سنائی دیتی۔ کبھی کسی کی وفات پر رنج و غم سے آپ کے آنسو بہہ نکلتے ، کبھی آپ اپنی امت کے لیے آبد یدہ ہوجاتے اورکبھی خوفِ خدا کے باعث روتے۔()
حضرت ابو ہر یرہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنماز پڑھتے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب تمام اگلوں اورپچھلوں کے گنا ہ بخش دیے۔ ارشاد فرمایا،’’کیا میں اپنے رب کا شکر گذار بندہ نہ ہوں‘‘۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ تہجد میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ پاؤں مبارک پر ورم آجاتا۔()
Page 73 of 120

