سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
میں بعض اوقات حضور ﷺ کی فاقہ کشی کی حالت دیکھ کر رو پڑتی اور عرض کرتی، میرے آقا ! آپ دنیا سے کم از کم اتنا حصہ تو قبول فرمالیں جس سے فاقے کی اذیت نہ ہو۔
توآپ ارشاد فرماتے، ’’مجھے دنیا سے کیا غرض! میرے بھائی اولو العزم پیغمبروں نے اس سے بھی مشکل حالات میں صبر کا دامن تھامے رکھا اور صبر و قناعت کے باعث بارگاہِ خدا میں عزت و شرف اور اجر عظیم کے حقدار ٹھہرے۔ میں اگر دنیا میں آرام و سکون پسند کروں گا تو مجھے ان سے کم اجر ملے گا جو میرے لیے ندامت کا باعث ہوگا اس لیے مجھے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب بندوں کی موافقت سے بڑھ کر کوئی شے مطلوب نہیں ہے‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص129)
حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا ﷺ ایک چٹائی پر سوئے، جب بیدار ہوئے تو جسم اقدس پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا۔عرض کی، آپ اجازت دیتے کہ ہم آپ کے لیے بستر بچھا دیتے۔ فرمایا، مجھے دنیا سے کیا غرض! میرا دنیا سے تعلق بس ایسا ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سائے میں کھڑا ہو اور پھردرخت کو چھوڑ کر آگے چلا جائے۔ (سنن ترمذی،ج 8، ص382، حدیث نمبر:2299)
سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ آپ کے جسم اقدس پر چٹائی کے نشانات اور آپ کی کل جمع پونجی دیکھ کر رونے لگے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، کیوں روتے ہو؟
عرض کی، قیصر و کسریٰ تو عیش و عشرت میں رہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ اس حال میں زندگی گزاریں ؟
ارشاد فرمایا،
ابنِ خطاب !کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ آخرت ہمارے لیے ہو اور دنیا ان کے لیے۔ (شمائل ترمذی،ص269)
14...خوف و عبادت:
ارشادِباری تعالیٰ ہے،
﴿اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا﴾
’’اللّٰہ سے اُس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں‘‘۔
(پارہ نمبر: 22، سورۃ فاطر، آیت نمبر:28)
اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق میں نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ علم اور اپنی معرفت کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا اس لیے حضور ﷺ کثرت سے عبادت فرماتے اور اللّٰہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرتے۔
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے،
’’میں تم سب سے زیادہ اسرارِ قدرت سے آگاہ ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں‘‘۔
(مسلم، ج2، ص1105، حدیث نمبر:1479)
آقا و مولیٰ ﷺ کا ایک اور فرمانِ عالی شان ہے،
’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم ان حقیقتوں کو جان لیتے جنہیں میں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے‘‘۔ (سنن ترمذی،ج8، ص275، حدیث نمبر:227)
علامہ نبہانی فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ کا رونا بھی آپ کی مسکراہٹ کی مانند تھا یعنی جیسے آپ کبھی آواز کے ساتھ نہیں ہنسے، ایسے ہی کبھی آواز کے ساتھ روئے بھی نہیں۔ آپ کا رونا یہ تھا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے اور سسکیوں کی آواز سنائی دیتی۔ کبھی کسی کی وفات پر رنج و غم سے آپ کے آنسو بہہ نکلتے، کبھی آپ اپنی امت کے لیے آبدیدہ ہوجاتے اور کبھی خوفِ خدا کے باعث روتے۔ (وسائل الوصول، ص97)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
رسول معظم ﷺ نماز پڑھتے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے سبب تمام اگلوں اورپچھلوں کے گناہ بخش دیے۔
ارشاد فرمایا،
’’کیا میں اپنے رب کا شکر گذار بندہ نہ ہوں‘‘۔
دوسری روایت میں ہے کہ:
آپ تہجد میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ پاؤں مبارک پر ورم آجاتا۔
(شمائل ترمذی، ص221)

