اگر اس سے کسی کی دلجوئی اورکسی سے دلی محبت کا اظہار مقصود ہو جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فعل مبارک تھا تو یہ مستحب ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ میں تواضع اور خوش طبعی نہ ہوتی توکسی میں یہ قدرت وطاقت نہ ہوتی کہ وہ آپ کی خدمت میں بیٹھ سکتا یا آپ سے کلام کرسکتا کیو نکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذاتِ اقدس میں انتہائی درجہ کا رعب و جلال اور عظمت و دبدبہ تھا‘‘۔()
13...زہدو قناعت:
فقر و زہد کے معنی ہیں، رضائے الٰہی کے لیے دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا؛اور قناعت کا مفہوم ہے، زندگی گزار نے کے لیے صرف ضروری اشیاء پر اکتفا کرنا اور انہیں بھی جمع نہ کرنا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمان دونوں او صاف کے بھی جامع تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فقر اختیار ی تھا، اضطراری نہ تھا۔ امام قاضی عیاض، شفا شریف میں فرماتے ہیں،
’’آقاومولیٰ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے دنیا کے مال و متاع سے ایسی حالت میں بھی اجتناب فرمایا جبکہ وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر تھا اور مسلسل فتو حات ہو رہی تھیں۔ اور یہ فقر و زہد ہی تھا کہ جب آپ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو اس وقت آپ کی زرہ مبارک ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی‘‘۔()
سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے، ’’اے اللہ تعالیٰ !محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم )کے اہل بیت کو صرف اتنا رزق عطا فرماجس سے وہ زندہ رہ سکیں ‘‘۔()
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں ،’’آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے وصال مبارک تک کبھی مسلسل تین دن شکم سیرہو کر کھانا نہ کھایا‘‘۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کچھ لو گوں کے پاس سے گذرے جو بکری کا بھنا ہوا گوشت کھارہے تھے۔ انہوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کیا اور فرمایا، ’’رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماس دنیا سے تشریف لے گئے اورجو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی‘‘۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے صحابہ کرام کے ساتھ شریکِ طعام ہو نے کے علاوہ کبھی بھی روٹی یا گوشت پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ ()
حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اہلِ بیت کبھی مسلسل دورو زجو کی روٹی سے سیر نہ ہو ئے یہاں تک کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دنیا سے پردہ فرماگئے۔()
آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کاشانۂ اقدس میں بسا اوقات دودو مہینے چولھانہ جلتا تھا اورصرف کھجور وں اور پانی پر گزار ہ ہو تا تھا۔ ()
سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمدوسرے دن کے لیے کو ئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔()
مالکِ کل صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،’’بیشک مجھ پر میرے رب نے پیش فرمایاکہ میرے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دیا جائے تو میں نے عرض کی، یارب !میری خواہش یہ ہے کہ میں ایک روز بھوکا رہوں اوردوسرے رو ز شکم سیر ہوا کروں تا کہ جب بھوکا رہوں تو تیرے لیے عاجزی کروں اور تجھے پکاروں اورجب سیرہو جاؤں تو تیری حمد اور تیرا شکر ادا کروں۔“()
آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے بھوک کی شکایت کی اورہم نے کپڑا اٹھاکر دکھایا کہ ہم میں سے ہرایک نے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھا ہواہے۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے شکم اقدس پر سے کپڑا اٹھایا تو وہاں دو پتھربندھے ہوئے تھے۔()
Page 72 of 120

