13...زہدو قناعت:
فقر و زہد کے معنی ہیں، رضائے الٰہی کے لیے دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا؛ اور قناعت کا مفہوم ہے، زندگی گزار نے کے لیے صرف ضروری اشیاء پر اکتفا کرنا اور انہیں بھی جمع نہ کرنا۔
سرکار دو عالم ﷺ ان دونوں اوصاف کے بھی جامع تھے۔ حضور ﷺ کا فقر اختیاری تھا، اضطراری نہ تھا۔
امام قاضی عیاض، شفا شریف میں فرماتے ہیں،
’’آقا و مولیٰ حضورِ اکرم ﷺ نے دنیا کے مال و متاع سے ایسی حالت میں بھی اجتناب فرمایا جبکہ وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر تھا اور مسلسل فتوحات ہو رہی تھیں۔ اور یہ فقر و زہد ہی تھا کہ جب آپ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو اس وقت آپ کی زرہ مبارک ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی‘‘۔ (شفا، ج1، ص140)
سید عالم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے،
’’اے اللّٰہ تعالیٰ ! محمد ﷺ کے اہل بیت کو صرف اتنا رزق عطا فرما جس سے وہ زندہ رہ سکیں ‘‘۔
(ترمذی،ج 8، ص364، حدیث نمبر:2284)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’آقا و مولیٰ ﷺ نے وصال مبارک تک کبھی مسلسل تین دن شکم سیرہو کر کھانا نہ کھایا‘‘۔
(بخاری، ج17،ص30، حدیث نمبر:4969، مسلم ، ج4، ص2281،حدیث نمبر:2970)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو بکری کا بھنا ہوا گوشت کھا رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کیا اور فرمایا،
’’رسولِ معظم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی‘‘۔
(بخاری، ج16،ص467، حدیث نمبر:4955)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ شریکِ طعام ہو نے کے علاوہ کبھی بھی روٹی یا گوشت پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ (شمائل ترمذی، ص130)
حبیبِ کبریا ﷺ کے اہلِ بیت کبھی مسلسل دو روز جو کی روٹی سے سیر نہ ہو ئے یہاں تک کہ حضورِ اکرم ﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (بخاری، ج17،ص30، حدیث نمبر:4969، مسلم ، ج4، ص2281،حدیث نمبر:2970)
آقا و مولیٰ ﷺ کے کاشانۂ اقدس میں بسا اوقات دو دو مہینے چولھا نہ جلتا تھا اور صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ ہوتا تھا۔
(بخاری، ج16، ص481، حدیث نمبر:4964)
سید عالم ﷺ دوسرے دن کے لیے کو ئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی، ص130)
مالکِ کل ﷺ نے فرمایا،
’’بیشک مجھ پر میرے رب نے پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دیا جائے تو میں نے عرض کی،یارب!میری خواہش یہ ہے کہ میں ایک روز بھوکا رہوں اور دوسرے روز شکم سیر ہوا کروں تا کہ جب بھوکا رہوں تو تیرے لیے عاجزی کروں اور تجھے پکاروں اور جب سیر ہو جاؤں تو تیری حمد اور تیرا شکر ادا کروں۔“ (شمائل ترمذی، ص309)
آقا و مولیٰ ﷺ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ ابوطلحہ انصاری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ہم نے رحمت عالم ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے کپڑا اٹھاکر دکھایا کہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھا ہوا ہے۔حضور ﷺ نے اپنے شکم اقدس پر سے کپڑا اٹھایا تو وہاں دو پتھربندھے ہوئے تھے۔ (سنن ترمذی،ج 8، ص347، حدیث نمبر:2270)

