غور فرمائیے کہ جس بات پر حضور ﷺ مسکرائے تھے، اسی بات پر سنت کی پیروی میں سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ بھی مسکرائے۔ یہ شمع رسالت کے پروانوں کی اپنے آقا و مولیٰ ﷺ سے محبت و اطاعت کی ایک جھلک ہے۔
اب آقا و مولیٰ ﷺ کی شگفتہ مزاجی اور خوش طبعی کے بارے میں چنداحادیث ملاحظہ فرمائیں۔
نبی کریم ﷺ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے خوش طبعی کے طور پر فرماتے،
’’اے دوکانوں والے‘‘۔ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کے چھوٹے بھائی کے پاس بلبل کا ایک بچہ تھا جو مرگیا۔ جب وہ آپ کی خدمتِ اقدس میں آتا تو آپ ﷺ خوش طبعی کے طور پر اس سے فرماتے،”اے عمیر! تیرے بلبل کو کیا ہوا؟“ (شمائل ترمذی،ص194)
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
صحابہ نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ ! آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں؟(ہمیں اس پر حیرت ہوتی ہے)
ارشاد فرمایا، ’’میں خوش طبعی میں بھی ہمیشہ سچ بولتاہوں(یعنی باوجود خوش طبعی کے جھوٹی با ت نہیں کہتا)‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص194)
ایک شخص نے حضور آقا کریم ﷺ سے سواری مانگی۔ ارشاد فرمایا،
ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے عرض کی،میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ فرمایا، اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔ (شمائل ترمذی، ص195)
حضرت محمود بن ربیع انصاری خزرجی پانچ سال کے تھے کہ رسول معظم ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ ان کے گھر میں ایک کنواں تھا جس سے حضور ﷺ نے پانی پیا اور خوش طبعی کے طور پر پانی کی ایک کلی حضرت محمود بن ربیع رضی اللّٰہ عنہ کے چہرے پر ماری۔ (بخاری، ج1، ص137، حدیث نمبر:75)
محدثین فرماتے ہیں کہ:
اس کی برکت سے ان کو وہ حافظہ حاصل ہوا کہ اس قصہ کو یاد رکھتے اور بیان فرماتے، اور اسی وجہ سے صحابہ میں شمار ہوئے۔
ایک بوڑھی صحابیہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ!دعا فرمائیے اللّٰہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمائے۔ آپ نے فرمایا، جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔ وہ رونے لگیں۔رحمت عالم ﷺ نے فرمایا، بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوں گی(بلکہ جوان ہوکر جائیں گی)۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’بیشک ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر پیدا کیا اور پھر انہیں کنواریاں بنایا‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص197)
ایک دیہاتی صحابی زاہر بن حرام رضی اللّٰہ عنہ حضور ﷺ کی خدمتِ اقدس میں دیہات کی چیزیں بطور تحفہ لایا کرتے تھے۔ آپ ان کو شہر کی چیزیں تحفہ دیا کرتے۔ وہ اگر چہ زیادہ خوش شکل نہیں تھے مگر حضور ﷺ ان سے بہت زیادہ محبت فرماتے۔ ایک دن وہ بازار میں سامان بیچ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو پیچھے سے آکر اس طرح بازوؤں میں لے لیا کہ وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔انہوں نے کہا، ’’ یہ کون ہے مجھے چھوڑ دے‘‘۔ پھر انہوں نے دیکھ لیا کہ حضور ﷺ ہیں تو وہ اپنی پشت کو حضور ﷺ کے سینہ اقدس سے برکت کے لیے ملنے لگے۔
آپ نے ارشاد فرمایا،
یہ غلام کون خریدے گا؟ انہوں نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ﷺ !اللّٰہ تعالیٰ کی قسم آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، تم اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔ (شمائل ترمذی، ص196)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں،
’’بعض احادیث میں جو مزاح اور کھیل وغیرہ کی ممانعت آئی ہے وہ کثرت اور زیادتی سے ہے۔ یعنی جو خوش طبعی اور کھیل وغیرہ خدا کی یاد سے اور دینی امور پر غور و فکر سے غافل کر دے، وہ منع ہے۔ اور جو شخص ان کے باعث دینی امور سے غافل نہ ہو، اس کے لیے یہ مباح یعنی جائز ہے۔ اگر اس سے کسی کی دلجوئی اور کسی سے دلی محبت کا اظہار مقصود ہو جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فعل مبارک تھا تو یہ مستحب ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ کے اخلاق حسنہ میں تواضع اور خوش طبعی نہ ہوتی تو کسی میں یہ قدرت و طاقت نہ ہوتی کہ وہ آپ کی خدمت میں بیٹھ سکتا یا آپ سے کلام کرسکتا کیونکہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں انتہائی درجہ کا رعب و جلال اور عظمت و دبدبہ تھا‘‘۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص70)

