Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 71 of 120
غور فرمائیے کہ جس بات پر حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسکرائے تھے، اسی بات پر سنت کی پیروی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مسکرائے۔ یہ شمع رسالت کے پروانوں کی اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے محبت و اطاعت کی ایک جھلک ہے۔اب آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی شگفتہ مزاجی اور خوش طبعی کے بارے میں چنداحادیث ملاحظہ فرمائیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمحضرت انس رضی اللہ عنہ سے خوش طبعی کے طور پر فرماتے، ’’اے دوکانوں والے‘‘۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی کے پا س بلبل کا ایک بچہ تھا جو مرگیا۔ جب وہ آپ کی خدمتِ اقدس میں آتا توآپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خوش طبعی کے طور پر اس سے فرماتے،”اے عمیر! تیرے بلبل کو کیا ہوا؟“()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں؟(ہمیں اس پر حیرت ہوتی ہے) ارشاد فرمایا،’’میں خوش طبعی میں بھی ہمیشہ سچ بولتاہوں(یعنی باوجود خوش طبعی کے جھوٹی با ت نہیں کہتا)‘‘۔()
ایک شخص نے حضورآقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے سواری مانگی۔ ارشاد فرمایا، ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے عرض کی ، میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ فرمایا، اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہی ہو تا ہے۔ ()
حضرت محمود بن ربیع انصاری خزرجی پانچ سال کے تھے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمان کے گھر تشریف لے گئے۔ ان کے گھر میں ایک کنواں تھا جس سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے پانی پیااور خوش طبعی کے طور پر پانی کی ایک کلی حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ماری۔()
محدثین فرماتے ہیں کہ اس کی برکت سے ان کو وہ حافظہ حاصل ہو اکہ اس قصہ کو یاد رکھتے اور بیان فرماتے،اور اسی وجہ سے صحابہ میں شمار ہوئے۔
ایک بوڑھی صحابیہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!دعا فرمائیے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمائے۔ آپ نے فرمایا، جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔ وہ رونے لگیں۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوں گی(بلکہ جوان ہوکرجائیں گی)۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’بیشک ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر پیدا کیا اور پھر انہیں کنواریاں بنایا‘‘۔()
ایک دیہاتی صحابی زاہر بن حرام رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمتِ اقدس میں دیہات کی چیزیں بطور تحفہ لایا کرتے تھے۔ آپ ان کو شہر کی چیزیں تحفہ دیا کرتے۔وہ اگر چہ زیادہ خوش شکل نہیں تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان سے بہت زیادہ محبت فرماتے۔
ایک دن وہ بازار میں سامان بیچ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ان کو پیچھے سے آکر اس طرح بازوؤں میں لے لیا کہ وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔انہوں نے کہا،’’ یہ کون ہے مجھے چھوڑ دے‘‘۔ پھر انہوں نے دیکھ لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہیں تو وہ اپنی پشت کو حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے سینہ اقدس سے برکت کے لیے ملنے لگے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، یہ غلام کون خریدے گا؟
انہوں نے عرض کی، یارسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!اللہ تعالیٰ کی قسم آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔()
شیخ عبدا لحق محد ث دہلوی فر ماتے ہیں، ’’بعض احادیث میں جو مزاح اور کھیل وغیرہ کی ممانعت آئی ہے وہ کثرت اور زیادتی سے ہے۔ یعنی جو خوش طبعی اور کھیل وغیرہ خداکی یاد سے اوردینی امور پر غورو فکر سے غافل کردے، وہ منع ہے۔ اور جو شخص ان کے باعث دینی امور سے غافل نہ ہو، اس کے لیے یہ مباح یعنی جائز ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up