Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 70 of 120
’’اے لوگو!میرے تم سے جدا ہو نے کا وقت قریب آگیا ہے پس جس کا کوئی بھی حق مجھ پر ہووہ اپنا حق لے لے اور جان ومال جس سے چاہے اس کا قصاص لے لے۔
ایک شخص عرض گذار ہوا، یا رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میرے آپ پر تین درہم ہیں۔ ارشاد فرمایا، میں کسی کونہ جھٹلاتا ہوں اور نہ اس کو قسم دیتا ہوں ،صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ درہم کس سلسلے کے ہیں؟ عرض کی، ایک دن ایک سائل آپ کے پاس آیا تھا آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اسے تین درہم دے دو۔ آپ نے فرمایا، اے فضل (رضی اللہ عنہ)اس کو تین درہم دے دو۔
پھر فرمایا، اے لوگو!جس کسی پر جو حق ہو اسے چاہیے کہ آج ہی اپنی گردن سے اتارلے اور یہ خیال نہ کرے کہ میں رسوائی سے ڈرتا ہوں۔ جان لو اور آگاہ ہو جاؤکہ دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے ہلکی اور آسان ہے۔()
12...مسکراہٹ اور خوش طبعی:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممتانت اور وقار کا پیکر تھے۔آپ بلا ضرورت کبھی گفتگونہ فرماتے اور نہ ہی آواز سے ہنستے۔ آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشادِ گرامی ہے، ’’زیادہ نہ ہنسا کرو کیو نکہ زیادہ ہنسنا دلو ں کو مردہ کردیتا ہے‘‘۔()
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے غلاموں کی دلجوئی کے لیے کبھی کبھی خوش طبعی فرمایا کرتے تھے۔ احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہو تاہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماکثر تبسم فرمایاکرتے جس سے غم زدوں کو تسکین ملتی اور روتے ہوئے اپنا غم بھول جاتے۔
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’میں نے آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے بڑھ کر مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا‘‘۔()
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’آقا ومولیٰ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ہنسی مبارک صرف تبسم ہوتی تھی‘‘۔()
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ’’میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سب کے ساتھ ہنسی مذاق کیاہو، آپ عام لوگوں کی طرح دوسروں کے ساتھ ناشائستہ ہنسی مذاق نہیں فرماتے تھے‘‘۔ آپ کے صحابہ کرام بھی زور سے نہیں ہنستے تھے بلکہ آپ کی طرح مسکراتے تھے۔ وہ آپ کی مجلس میں ایسی سنجیدگی اور متانت سے بیٹھتے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔()
حضرت علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی سواری کے لیے گھوڑا لایا گیا، آپ نے جب رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، پھر اس کی پیٹھ پر سوار ہوئے تو الحمد للہ فرمایا۔ پھر سواری کی دعا پڑھی، پھر تین بار الحمدللہ اورپھر اللہ اکبرفرمایااوریہ دعاپڑھی،
سُبْحَانَکَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔
’’یارب تو پاک ہے، بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے، تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ یہ کہہ کر آپ ہنس پڑے۔
میں نے پوچھا، امیر المو منین !آپ کس بات پر ہنسے ؟فرمایا، میرے سامنے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ایسا ہی کیا تھا اورپھر آپ ہنسے تھے۔ وجہ پوچھنے پر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا تھا،بندہ جب یہ کہتا ہے،’’یارب میرے گناہ معاف فرما دے‘‘ اور بزعم خویش یہ سمجھتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی میرے گناہ معاف کرے گا،اور کوئی بخشنے والا نہیں، تو اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتاہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up