12...مسکراہٹ اور خوش طبعی:
نبی کریم ﷺ متانت اور وقار کا پیکر تھے۔ آپ بلا ضرورت کبھی گفتگو نہ فرماتے اور نہ ہی آواز سے ہنستے۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،
’’زیادہ نہ ہنسا کرو کیو نکہ زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کر دیتا ہے‘‘۔
(سنن ترمذی، ج8، ص275، حدیث نمبر:2227، مسند احمد،2، ص310، حدیث نمبر:8081)
آقا ﷺ اپنے غلاموں کی دلجوئی کے لیے کبھی کبھی خوش طبعی فرمایا کرتے تھے۔ احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہو تاہے کہ حضور ﷺ اکثر تبسم فرمایا کرتے جس سے غم زدوں کو تسکین ملتی اور روتے ہوئے اپنا غم بھول جاتے۔
حضرت عبداللّٰہ بن حارث رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ
’’میں نے آقا و مولیٰ ﷺ سے بڑھ کر مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص186)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’آقا و مولیٰ حضورِ اکرم ﷺ کی ہنسی مبارک صرف تبسم ہوتی تھی‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص186)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ
’’میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ آقا ﷺ نے سب کے ساتھ ہنسی مذاق کیا ہو، آپ عام لوگوں کی طرح دوسروں کے ساتھ ناشائستہ ہنسی مذاق نہیں فرماتے تھے‘‘۔ آپ کے صحابہ کرام بھی زور سے نہیں ہنستے تھے بلکہ آپ کی طرح مسکراتے تھے۔ وہ آپ کی مجلس میں ایسی سنجیدگی اور متانت سے بیٹھتے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ (خصائص الکبری، ج2، ص172)
حضرت علی بن ربیعہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کی سواری کے لیے گھوڑا لایا گیا، آپ نے جب رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللّٰہ کہا، پھر اس کی پیٹھ پر سوار ہوئے تو الحمدللّٰہ فرمایا۔ پھر سواری کی دعا پڑھی، پھر تین بار الحمدللّٰہ اورپھر اللّٰہ اکبر فرمایا اور یہ دعاپڑھی،
سُبْحَانَکَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔
’’یارب تو پاک ہے، بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے، تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں ہے‘‘۔
یہ کہہ کر آپ ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا، امیر المو منین !آپ کس بات پر ہنسے ؟فرمایا، میرے سامنے ایک بار حضور ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا اور پھر آپ ہنسے تھے۔ وجہ پوچھنے پر آقا ﷺ نے فرمایا تھا، بندہ جب یہ کہتا ہے،’’یارب میرے گناہ معاف فرما دے‘‘ اور بزعم خویش یہ سمجھتا ہے کہ صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی میرے گناہ معاف کرے گا، اور کوئی بخشنے والا نہیں، تو اللّٰہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے۔ (شمائل ترمذی،ص191)

