Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 69 of 118

11...عدل و انصاف:

رسول معظم تمام لوگوں سے زیادہ عادل اور امین تھے اور اس حقیقت کا کفار مکہ کو بھی اعتراف تھا۔

حضرت ربیع بن خثیم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

اعلان نبوت سے قبل اہل مکہ اپنے جھگڑوں اور معاملات کا فیصلہ حضور ہی سے کرایا کرتے تھے۔
(
کتاب الشفاء، ج1، ص134)

 

حضور کے عدل کے حوالے سے یہ بتانا بھی مناسب ہو گا کہ آپ ایام شیر خوارگی میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللّٰہ عنہا کی صرف دائیں طرف سے دودھ پیتے اور دوسری طرف ان کے شیرخواربچہ کے لیے چھوڑ دیتے۔ (دلائل النبوۃ،ج 1، ص58، حدیث نمبر:46)

 

ایک دفعہ خاندان مخزوم کی کسی عورت نے چوری کی۔ قریش نے چاہا کہ وہ سزا سے بچ جائے۔ انہوں نے حضور کے محبوب غلام اسامہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ سے سفارش کی درخواست کی۔ حضرت اسامہ نے سفارش عرض کردی۔

رہبر مکرم نے فرمایا،

’’تم حد میں سفارش کرتے ہو؟ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے تباہ ہوگئے کہ وہ امیروں کو چھوڑ دیتے اور غریبوں پہ حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا بھی ایسا کرتی تومیں اسے بھی ایسی ہی سزا دیتا‘‘۔ (بخاری، ج11، ص294، حدیث نمبر:3216)

 

حضرت اُسید بن حضیر انصاری رضی اللّٰہ عنہ خوش طبعی کر رہے تھے کہ نبی کریم  تشریف لے آئے اور آپ نے خوش طبعی کے طور پر ان کی کمر میں چھڑی چبھو دی۔ وہ عرض گذار ہوئے، مجھے قصاص دیجیے۔ فرمایا، قصاص لے لو۔ انہوں نے عرض کی، آپ کے جسم اطہر پر قمیص ہے اور میرے جسم پر نہیں تو حضور ﷺ  نے اپنی قمیص اٹھا دی۔ وہ فوراً آپ سے لپٹ گئے اور آپ کی کمر مبارک کو چومنے لگے۔ پھر عرض کی، میرے آقا! میں نے تو در اصل یہی چاہا تھا کہ اس طرح آپ کے جسم اقدس کو بوسہ دینے کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد،ج 13، ص455، حدیث نمبر:4547)

 

اسی طرح ایک روز حضور مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا اور آپ پر جھک گیا۔ آپ نے کھجور کی شاخ سے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ فرمایا جس سے اس کے منہ پر ہلکی سی خراش آگئی۔

آپ نے فرمایا،

تم مجھ سے قصاص لے لو۔ اس نے عرض کی، یارسول اللّٰہ !میں نے معاف کردیا۔ (سنن ابی داؤد، ج13، ص457، حدیث نمبر:4548)

 

خیبر کے دن آپ سیدنا بلال رضی اللّٰہ عنہ کی چادر میں مال و زر جمع کر رہے تھے کہ ایک شخص کہنے لگا، اے محمد!انصاف کرنا۔ آپ نے فرمایا، اگر میں نے بھی انصاف نہ کیا تو پھر کون انصاف کرے گا؟ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے کھڑے ہو کر اس منافق کو قتل کر نے کی اجازت مانگی۔

آقاﷺ  نے فرمایا،

میں اس بات سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ لوگ یہ کہیں، محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔
(
مواہب اللدنیہ،ج 6، ص21)

 

رحمت عالم کو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں عدل کا اتنا خیال تھا کہ وصال سے قبل بھی ایک خطبہ میں یوں ارشاد فرمایا،

’’اے لوگو! میرے تم سے جدا ہو نے کا وقت قریب آگیا ہے پس جس کا کوئی بھی حق مجھ پر ہو وہ اپنا حق لے  لے اور جان و مال جس سے چاہے اس کا قصاص لے لے۔

ایک شخص عرض گذار ہوا، یارسول اللّٰہ !میرے آپ پر تین درہم ہیں۔ ارشاد فرمایا، میں کسی کونہ جھٹلاتا ہوں اور نہ اس کو قسم دیتا ہوں ،صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ درہم کس سلسلے کے ہیں؟ عرض کی، ایک دن ایک سائل آپ کے پاس آیا تھا آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اسے تین درہم دے دو۔ آپ نے فرمایا، اے فضل (رضی اللّٰہ عنہ)اس کو تین درہم دے دو۔

پھر فرمایا، اے لوگو! جس کسی پر جو حق ہو اسے چاہیے کہ آج ہی اپنی گردن سے اتارلے اور یہ خیال نہ کرے کہ میں رسوائی سے ڈرتا ہوں۔ جان لو اور آگاہ ہوجاؤ کہ دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے ہلکی اور آسان ہے۔ (مدارج النبوۃ،ج1، ص84)

Share:
keyboard_arrow_up