آپ کی تواضع کی ایک اورپیاری مثال یہ ہے کہ ایک سفر میں صحابہ کرام نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اسے پکانے کے کام تقسیم فرمالیے۔ ایک نے ذبح کرنا اپنے ذمہ لیا، دوسرے نے کھال اتار نا اور کسی صحابی نے پکانے کی ذمہ داری لی۔ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، لکڑیاں چن کرلانا میرے ذمہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یہ کام ہم خود کرلیں گے۔ آپ نے فرمایا، تم یقیناً یہ کرسکتے ہو مگر مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں تم سے خود کو ممتاز کروں۔ پھر آپ لکڑیاں جمع کرکے لائے۔()
11...عدل و انصاف:
رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام لو گوں سے زیادہ عادل اورامین تھے اوراس حقیقت کا کفار مکہ کو بھی اعتراف تھا۔ حضرت ربیع بن خثیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعلان نبوت سے قبل اہل مکہ اپنے جھگڑوں اور معاملات کا فیصلہ حضور و صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی سے کرایاکرتے تھے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے عدل کے حوالے سے یہ بتانا بھی مناسب ہو گاکہ آپ ایام شیر خوارگی میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی صرف دا ئیں طرف سے دودھ پیتے اور دوسری طرف ان کے شیرخواربچہ کے لیے چھوڑ دیتے۔()
ایک دفعہ خاندان مخزوم کی کسی عورت نے چوری کی۔ قریش نے چاہا کہ وہ سزا سے بچ جائے۔ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے محبوب غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سفارش کی درخواست کی۔ حضرت اسامہ نے سفارش عرض کردی۔ رہبر مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’تم حد میں سفارش کرتے ہو؟ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے تباہ ہو گئے کہ وہ امیروں کو چھوڑدیتے اور غریبوں پہ حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم!اگر محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بھی ایسا کرتی تومیں اسے بھی ایسی ہی سزا دیتا‘‘۔()
حضرت اُسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ خوش طبعی کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمتشریف لے آئے اورآپ نے خوش طبعی کے طور پر ان کی کمر میں چھڑی چبھودی۔ وہ عرض گذار ہوئے، مجھے قصاص دیجیے۔ فرمایا، قصاص لے لو۔ انہوں نے عرض کی، آپ کے جسم اطہر پر قمیص ہے اور میرے جسم پر نہیں تو حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنی قمیص اٹھادی۔ وہ فوراً آپ سے لپٹ گئے اور آپ کی کمر مبارک کو چومنے لگے۔ پھر عرض کی، میرے آقا! میں نے تو دراصل یہی چاہا تھا کہ اس طرح آپ کے جسم اقدس کو بوسہ دینے کا شرف حاصل ہو جائے گا۔()
اسی طرح ایک روز حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیااور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر جھک گیا۔ آپ نے کھجور کی شاخ سے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ فرمایا جس سے اس کے منہ پر ہلکی سی خراش آگئی۔ آپ نے فرمایا، تم مجھ سے قصاص لے لو۔ اس نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں نے معاف کردیا۔ ()
خیبر کے دن آپ سیدنا بلا ل رضی اللہ عنہ کی چادر میں مال وزرجمع کررہے تھے کہ ایک شخص کہنے لگا، اے محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)!انصاف کرنا۔ آپ نے فرمایا، اگر میں نے بھی انصاف نہ کیا تو پھر کون انصاف کرے گا؟سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اس منا فق کو قتل کر نے کی اجازت مانگی۔ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ لوگ یہ کہیں، محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کردیا کرتے تھے۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں عدل کا اتنا خیال تھاکہ وصال سے قبل بھی ایک خطبہ میں یوں ارشاد فرمایا،
Page 69 of 120

