Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 68 of 118

آپ بیواؤں کی دستگیری فرماتے، اہل مدینہ کی لونڈیاں اپنے کاموں کے لیے آپ کو جہاں لے جاتیں، آپ تشریف لے جاتے۔
(بخاری،ج 10، ص42،حدیث نمبر:2692)

 

مدینہ طیبہ کے لونڈی غلام خدمتِ اقدس میں سخت سردی کی صبح کو بھی پانی لاتے تو آپ اپنا دست مبارک اس میں ڈبو دیتے تاکہ انہیں شفا اور برکت ملے۔ (مسلم ،ج4، ص1812،حدیث نمبر:2324)

 

فتح مکہ کے دن جب آپ فاتحانہ شان سے شہر میں داخل ہو نے لگے تو آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ سواری پر آپ نے سر اقدس اس قدر جھکایا ہوا تھا کہ سر اقدس پالان یا کجاوہ کے اگلے حصے سے چھو رہا تھا۔ (کتاب الشفاء،ج 1، ص132)

 

حضرت عبداللّٰہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ایک مرتبہ حضور اکرم کی نعلین مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ آپ اسے درست فرمانے لگے تو میں نے عرض کی، یارسول اللّٰہ !مجھے عطا فرمایئے تاکہ میں اسے درست کردوں۔

ارشاد فرمایا،

نہیں! میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم لوگوں پر اپنی بڑائی ظاہر کروں۔ (مواہب اللدنیہ،ج 6، ص49)

 

سرکارِ دو عالم اپنے گھریلو کاموں میں بھی مشغول ہو تے تھے، آپ اپنے کپڑے دھو لیتے، بکری کا دودھ دوہتے ، کپڑوں کو پیوند لگا لیتے، نعلین مبارک کی مرمت کر لیتے، اپنے ذاتی کام خود کرتے اور اونٹ باندھ کر انہیں خود چارہ ڈالتے۔ آپ غلام کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے بلکہ اس کے ساتھ آٹا گوندھ لیتے اور بازار سے اپنا سودا سلف خود اٹھا لاتے تھے۔ (کتاب الشفاء، ج1،ص132)

 

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ہمارے پاس آقاومولیٰ تشریف لائے۔ آپ نہ کسی گھوڑے پر سوار تھے اور نہ کسی دراز گوش پر۔ آپ سواری پر ہوتے تو کبھی اپنے پیچھے کسی غلام یا عام شخص کو بٹھا لیتے اور کبھی درمیان میں ہو جاتے اور آگے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے۔ جب آپ مکہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، آپ نے ایک کو آگے بٹھا لیا اور ایک کو پیچھے۔ (الانوار فی شمائل النبی المختار، ص371)

 

حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تو آقا کریم بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے، اور جب ہم آخرت کی باتیں کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ ان باتوں میں شریک ہو جاتے، پس میں آقا و مولیٰ کی مکمل سیرت تم سے بیان کرتا ہوں‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص284)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں کہ:

’’نبی کریم نے اپنے آپ کو تین کاموں یعنی جھگڑے، تکبر اور بے مقصد باتوں سے دور رکھا، اور آپ تین کاموں سے لوگوں کو دور رکھتے یعنی نہ تو کسی کی برائی کرتے، نہ کسی کو عیب لگا تے اور نہ ہی کسی کا عیب تلاش کرتے۔ آپ صرف وہی کلام فرماتے جس سے ثواب کی امید ہوتی۔ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے اصحاب سر جھکا لیتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں، جب آپ خاموش ہو جاتے تو وہ گفتگو فرماتے۔ وہ کسی بات پر نہ جھگڑتے، جب ایک بات کرتا تو دوسرے خاموش رہتے، ان سب کی گفتگو آپ کے نزدیک پہلے آدمی کی گفتگو کی طرح ہوتی یعنی آپ سب پر یکساں توجہ دیتے۔ جس بات پر باقی لوگ ہنستے، آپ بھی تبسم فرماتے اور جس بات پر دوسرے متعجب ہو تے، آپ بھی تعجب فرماتے۔

آپ گفتگو میں کسی اجنبی کی بدتمیزی کو برداشت فرماتے یہاں تک کہ صحابہ کرام اجنبیوں کو آپ کے پاس لے آتے تاکہ (ان کی بے تکلف گفتگو سے) وہ بھی فائد ہ اٹھائیں۔

آپ فرمایا کرتے کہ جب کسی حاجت مند کو حاجت طلب کرتا دیکھو تو اسے کچھ دے دیا کرو۔ آپ اپنی تعریف صرف اس شخص سے قبول فرماتے جو احسان کی وجہ سے تعریف کرتا۔ آپ کسی کی گفتگو کو قطع نہ فرماتے البتہ اگر وہ حدسے بڑھ جاتا تو اسے روک دیتے یا اُٹھ کر تشریف لے جا تے‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص32، حدیث نمبر:32)

 

آپ کی تواضع کی ایک اور پیاری مثال یہ ہے کہ:

ایک سفر میں صحابہ کرام نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اسے پکانے کے کام تقسیم فرمالیے۔ ایک نے ذبح کرنا اپنے ذمہ لیا، دوسرے نے کھال اتار نا اور کسی صحابی نے پکانے کی ذمہ داری لی۔ آقا نے فرمایا، لکڑیاں چن کر لانا میرے ذمہ ہے۔

صحابہ کرام نے عرض کی،

یہ کام ہم خود کرلیں گے۔ آپ نے فرمایا، تم یقیناً یہ کرسکتے ہو مگر مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں تم سے خود کو ممتاز کروں۔ پھر آپ لکڑیاں جمع کرکے لائے۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص297)

Share:
keyboard_arrow_up