Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 68 of 120
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبیواؤں کی دستگیری فرماتے، اہل مدینہ کی لو نڈیاں اپنے کاموں کے لیے آپ کو جہاں لے جاتیں، آپ تشریف لے جاتے۔ ()
مدینہ طیبہ کے لو نڈی غلام خدمتِ اقدس میں سخت سرد ی کی صبح کو بھی پانی لاتے تو آپ اپنا دست مبارک اس میں ڈبو دیتے تاکہ انہیں شفا اور برکت ملے۔()
فتح مکہ کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمفاتحانہ شان سے شہر میں داخل ہو نے لگے تو آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ سواری پر آپ نے سر اقدس اس قدر جھکایاہوا تھا کہ سراقدس پالان یا کجاوہ کے اگلے حصے سے چھورہا تھا۔()
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی نعلین مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ آپ اسے درست فرمانے لگے تو میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!مجھے عطا فرمایئے تاکہ میں اسے درست کردوں۔ ارشاد فرمایا، نہیں! میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم لوگوں پر اپنی بڑائی ظاہر کروں۔()
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے گھریلوکا مو ںمیں بھی مشغول ہو تے تھے، آپ اپنے کپڑے دھو لیتے، بکری کا دودھ دوہتے ، کپڑوں کو پیوند لگا لیتے، نعلین مبارک کی مرمت کرلیتے، اپنے ذاتی کام خودکرتے اور اونٹ باند ھ کر انہیں خود چارہ ڈالتے۔ آپ غلام کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا تناول فرماتے بلکہ اس کے ساتھ آٹا گو ندھ لیتے اور بازار سے اپنا سوداسلف خود اٹھا لاتے تھے۔()
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پا س آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے۔ آپ نہ کسی گھوڑے پر سوار تھے اورنہ کسی دراز گوش پر۔ آپ سواری پر ہوتے تو کبھی اپنے پیچھے کسی غلام یا عام شخص کو بٹھا لیتے اور کبھی درمیان میں ہو جاتے اورآگے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے۔ جب آپ مکہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، آپ نے ایک کو آگے بٹھالیا اور ایک کو پیچھے۔()
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تو آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے، اور جب ہم آخرت کی باتیں کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ ان باتوں میں شریک ہو جاتے، پس میں آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مکمل سیرت تم سے بیان کرتا ہوں‘‘۔()
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے آپ کو تین کاموں یعنی جھگڑے ،تکبر اور بے مقصد باتوں سے دور رکھا، اور آپ تین کاموں سے لو گو ں کو دور رکھتے یعنی نہ تو کسی کی برائی کرتے، نہ کسی کو عیب لگا تے اورنہ ہی کسی کا عیب تلاش کرتے۔ آپ صرف وہی کلام فرماتے جس سے ثواب کی امید ہوتی۔
جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے اصحاب سر جھکا لیتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں، جب آپ خاموش ہو جاتے تو وہ گفتگو فرماتے۔ وہ کسی بات پر نہ جھگڑتے، جب ایک بات کرتا تو دوسرے خاموش رہتے، ان سب کی گفتگو آپ کے نزدیک پہلے آدمی کی گفتگو کی طرح ہوتی یعنی آپ سب پر یکسا ں توجہ دیتے۔ جس بات پر با قی لوگ ہنستے، آپ بھی تبسم فرماتے اور جس بات پر دوسرے متعجب ہو تے، آپ بھی تعجب فرماتے۔
آپ گفتگو میں کسی اجنبی کی بد تمیزی کو برداشت فرماتے یہاں تک کہ صحابہ کرام اجنبیوں کو آپ کے پاس لے آتے تاکہ (ان کی بے تکلف گفتگوسے) وہ بھی فائد ہ اٹھائیں۔
آپ فرمایا کرتے کہ جب کسی حاجت مند کو حاجت طلب کرتا دیکھو تو اسے کچھ دے دیا کرو۔ آپ اپنی تعریف صرف اس شخص سے قبول فرماتے جو احسان کی وجہ سے تعریف کرتا۔ آپ کسی کی گفتگو کو قطع نہ فرماتے البتہ اگر وہ حدسے بڑھ جاتا تو اسے روک دیتے یا اُٹھ کر تشریف لے جا تے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up