Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 67 of 118

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ایک روز آقا نے مجھے ایک کام سے کسی جگہ بھیجا۔ میرے دل میں یہ تھا کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا مگر زبان سے کہہ دیا، خدا کی قسم ! میں نہ جاؤں گا۔ پھر میں باہر نکلا اور بچوں کا کھیل دیکھنے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں نبی کریم نے آکر میرے سر کے بال پیچھے سے پکڑ لیے۔ جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کو ہنستا ہوا پایا، آپ نے فرمایا، تم وہاں کیوں نہ گئے جہاں میں نے بھیجا تھا؟ میں نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ میں ضرور جاؤں گا۔ (مشکوٰۃ، ج1، ص323)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ آپ کے حسن سلوک کی گواہی یوں دیتے ہیں کہ

’’میں نے دس سال نبی کریم کی خدمت کی۔ آپ نے مجھے کبھی اُف تک نہ کہا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ یہ کام تو نے کیو ں کیا یا کیوں نہ کیا ؟‘‘۔ (بخاری، ج18، ص464، حدیث نمبر:5578)

 

اُم المؤ منین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کا ارشاد مبارک ہے کہ

’’آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، سب کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی تواضع فرماتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب میں لوگوں کی مدد فرماتے ہیں‘‘۔ (کتاب الشفا، ج1، ص130)

 

10...تو اضع اور حسن سلوک:

آقا ئے دو جہاں عظمت و فضیلت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو نے کے باوجود تمام لوگوں سے زیادہ متواضع تھے اور غرور و تکبر کا آپ کے قریب سے بھی گذر نہ ہوا تھا۔ اس سلسلے میں یہ دلیل کافی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار عطا فرمایا تھاکہ چاہیں تو نبوت کے ساتھ شاہانہ زندگی گزاریں اور چاہیں تو نبوت کے ساتھ فقر و بندگی اختیار کریں، تو آپ نے فقر و بندگی کو پسند فرمایا۔ (کتاب الشفاء ، ج1، ص130،  مواہب اللدنیہ، ج2, ص 184)

 

حضور تواضع اور انکساری میں سب سے بڑھ کر تھے۔ آپ بہت کم گو تھے مگر آپ کی کم گوئی تکبر کی وجہ سے نہ تھی، آپ جب بات کرتے تو مختصر کرتے۔ آپ بہت خوبرو تھے نیز کسی مشکل سے مشکل کام سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔ آپ اس حدتک بھی تواضع و انکساری نہیں فرماتے تھے کہ کوئی آپ کو حقیر سمجھنے لگے۔

آقا کا ارشادِ گرامی ہے،

’’مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو حد سے بڑھایا (اور اللّٰہ تعالیٰ کا بیٹا کہا)۔ بے شک میں اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ پس تم مجھے اللّٰہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو‘‘۔
(
شمائل ترمذی،ص271، حدیث نمبر:330)

 

ایک اورحدیث میں ارشاد ہوا،

’’میں کھانا کھاتا ہوں جیسے بندہ کھایا کرتا ہے اور میں بیٹھتا ہوں جیسے بندہ بیٹھتا ہے‘‘۔
(
مشکوٰۃ، ج3، ص268،حدیث نمبر:5836)

 

ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو رعب و ہیبتِ نبوت سے کانپنے لگا۔ آقا و مولیٰ نے فرمایا،

’’گھبراؤ نہیں! میں بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی‘‘۔
(
مواہب اللدنیہ،ج6، ص71)

 

احمدِ مختار کا یہ فرمانا تواضع کے طور پر ہے، یہ ان کی عظمت کی دلیل ہے مگر ہمیں یہ جائز نہیں کہ ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کریں۔ یوں سمجھئے کہ اگر بادشاہ کہے کہ ’’میں تمہارا خادم ہوں‘‘ تو یہ صحیح ہے لیکن اگر لوگ اسے خادم کہیں تو یہ بے ادبی و گستاخی ہے۔

حضور کی عظمت و مقام کے متعلق پہلے گفتگو کی جاچکی ہے، اسے بھی ذہن نشین ر کھیے۔ حضور ﷺ  بیماروں کی عیادت فرماتے، جنازوں میں تشریف لے جاتے، پیدل چلنا بھی پسند فرماتے اور دراز گو ش پر بھی سوار ہوتے، آپ غلام کی دعوت بھی قبول فرماتے۔ (ترمذی،ج 10،ص2، حدیث نمبر:2733)

Share:
keyboard_arrow_up