حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مجھے ایک کام سے کسی جگہ بھیجا۔ میرے دل میں یہ تھا کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا مگر زبان سے کہہ دیا، خدا کی قسم ! میں نہ جاؤں گا۔ پھر میں باہر نکلا اور بچوں کا کھیل دیکھنے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آکر میرے سر کے بال پیچھے سے پکڑ لیے۔ جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کو ہنستا ہوا پایا، آپ نے فرمایا، تم وہاں کیوں نہ گئے جہاں میں نے بھیجا تھا؟ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں ضرور جاؤں گا۔ ()
حضر ت انس رضی اللہ عنہ آپ کے حسن سلوک کی گواہی یوں دیتے ہیں کہ ’’میں نے دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمت کی۔ آپ نے مجھے کبھی اُف تک نہ کہا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ یہ کام تو نے کیو ں کیا یا کیوں نہ کیا ؟‘‘۔ ()
اُم المؤ منین حضرت خدیجہ ر ضی اللہ عنہا کا ارشاد مبارک ہے کہ’’آ پ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، سب کا بو جھ اٹھا تے ہیں، مہمانوں کی توا ضع فرماتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب میں لو گو ں کی مدد فرماتے ہیں‘‘۔()
10...تو اضع اور حسن سلوک:
آقا ئے د و جہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عظمت و فضیلت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو نے کے با و جود تمام لوگوں سے زیادہ متواضع تھے اور غرورو تکبر کا آپ کے قریب سے بھی گذرنہ ہواتھا۔ اس سلسلے میں یہ دلیل کا فی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو یہ اختیار عطا فرمایا تھاکہ چاہیں تو نبوت کے ساتھ شاہانہ زندگی گزاریں اور چاہیں تو نبوت کے ساتھ فقر و بند گی اختیار کریں، تو آپ نے فقر و بندگی کو پسند فرمایا۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو اضع اور انکساری میں سب سے بڑھ کرتھے۔ آپ بہت کم گو تھے مگر آپ کی کم گوئی تکبر کی وجہ سے نہ تھی، آپ جب بات کرتے تو مختصر کرتے۔ آپ بہت خو برو تھے نیز کسی مشکل سے مشکل کا م سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔ آپ اس حد تک بھی تواضع و انکساری نہیں فرماتے تھے کہ کوئی آپ کو حقیر سمجھنے لگے۔
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد ِگرامی ہے، ’’مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو حد سے بڑھایا (اور اللہ تعا لیٰ کا بیٹا کہا)۔ بے شک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ پس تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کارسول کہو‘‘۔()
ایک اورحدیث میں ارشاد ہوا، ’’میں کھانا کھا تا ہوں جیسے بندہ کھایا کرتا ہے اور میں بیٹھتا ہوں جیسے بندہ بیٹھتاہے‘‘۔()
ایک مرتبہ ایک شخص با رگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو رعب و ہیبتِ نبوت سے کانپنے لگا۔ آقاو مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’گھبراؤ نہیں! میں بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سو کھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی‘‘۔()
احمدِ مختار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ فرمانا تو اضع کے طور پر ہے،یہ ان کی عظمت کی دلیل ہے مگر ہمیں یہ جائز نہیں کہ ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کریں۔ یو ں سمجھئے کہ اگر بادشاہ کہے کہ ’’میں تمہارا خادم ہوں‘‘ تو یہ صحیح ہے لیکن اگر لوگ اسے خادم کہیں تو یہ بے ادبی و گستاخی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت و مقام کے متعلق پہلے گفتگوکی جا چکی ہے، اسے بھی ذہن نشین ر کھیے۔
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبیماروں کی عیادت فرماتے، جنازوں میں تشریف لے جاتے، پیدل چلنا بھی پسند فرماتے اور دراز گو ش پر بھی سوار ہوتے، آپ غلام کی دعوت بھی قبول فرماتے۔ ()
Page 67 of 120

