9...صلہ رحمی و حسن معاشرت:
نبی کریم ﷺ سب لوگوں کے ساتھ بہترین سلوک فرماتے، عزیز واقارب کے ساتھ صلہ رحمی فرماتے، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے اور ان کی مدد فرماتے۔ آپ فضیلت کا بھی لحاظ فرماتے تھے۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
جب رسولِ معظم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں کو ئی ہدیہ پیش کیا جاتا تو آپ فرماتے کہ اسے فلاں عورت کے پا س لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ(رضی اللّٰہ عنہا) کی سہیلی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
جتنا رشک میں نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا پر کیا، اتنا کسی اور عورت پر نہیں کیا کیونکہ آقا ﷺ اکثر انہیں یاد فرماتے۔ جب آپ بکری ذبح فرماتے تو ان کی سہیلیوں کے لیے گو شت ہدیہ فرماتے۔
(کتاب الشفاء، ج2، ص101)
حضورِ اکرم ﷺ حضرت ثو یبہ رضی اللّٰہ عنہا کو ہدیہ بھیجتے رہتے تھے۔ انہوں نے چند دن حضور ﷺ کو دودھ پلایا تھا اور یہ ابولہب کی لو نڈی تھیں۔ حضور ﷺ کا اپنی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللّٰہ عنہا ، رضاعی والد اور رضاعی بھائی کے لیے چادر بچھانا اور ان کا احترام فرمانا احادیث سے ثابت ہے۔
(خصائص الکبری،ج 1، ص351)
آقا و مولیٰ ﷺ روزانہ اپنی ازواج مطہرات سے ملاقات فرماتے اور ان کی ضروریات کا اہتمام فرماتے۔
(مسلم، 2، ص1084، حدیث نمبر:1462)
آپ اپنی صاحبزادیوں کے گھر بھی جلوہ افروز ہو کر ان کی خبر گیری فرماتے اور ان کے بچوں پر بھی خاص شفقت و رحمت فرماتے۔ پڑوسیوں کی خبر گیری کرنا اور ان پر کرم فرمانا بھی آپ کا معمول تھا۔
نبی کریم ﷺ کے ازدواجی تعلقات حسن سلوک و حسن معاشرت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ آپ ازواج مطہرات کے حقوق میں عدل و مساوات فرماتے۔ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو قرعہ ڈالتے، جن زوجہ مطہرہ کا نام نکل آتا، انہیں ساتھ لے جاتے۔
ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کیا جس میں حضرت عائشہ آگے نکل گئیں۔کچھ مدت بعد دوبارہ دوڑ ہوئی تو نبی کریم ﷺ آگے نکل گئے اور آپ نے متبسم ہوکر فرمایا، یہ تمہارے پچھلی مرتبہ آگے نکل جانے کا بدلہ ہے۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص68)
علامہ نبہانی فرماتے ہیں ،
آقا ﷺ کی گھریلو زندگی انتہائی مثالی تھی۔ آپ گھر تشریف لے جاتے تو ازواج مطہرات سے نہایت خو ش مزاجی سے پیش آتے، گھر میں ہمیشہ مسکراتے رہتے اور کسی بات پر ناگواری کا اظہار نہ فرماتے۔ آپ بچوں سے بھی شفقت فرماتے، خصوصاً اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے سر اور ہونٹوں کو بو سہ دیتے۔
امام قسطلانی بھی فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ حسن سلوک فرماتے اور کوئی خلافِ طبیعت بات ہوجاتی تو در گذر فرماتے۔
اُم المو منین عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
جب میں کسی برتن سے پانی پیتی تو آپ میرے ہاتھ سے برتن لے کر بقیہ پانی خود پی لیتے اور جب کھانا کھا تے ہو ئے ہڈی پر تھوڑی سی بوٹی رہ جاتی تو آپ مجھ سے لے کر اسے کھا لیتے۔
میں نے ایک روز آپ کے لیے خاص قسم کا گو شت پکایا۔ اُم المو منین حضرت سودہ رضی اللّٰہ عنہا بھی مو جود تھیں۔ میں نے انہیں کھانے کو کہا ، انہوں نے انکار کیا۔ میں نے کہا، یا تو تم کھاؤ ورنہ میں سالن تمہارے منہ پر مل دوں گی۔ انہوں نے نہ کھایا تو میں نے سالن ہاتھ پر لگا کر ان کے منہ پر مل دیا۔ میری یہ حرکت دیکھ کر حضور ﷺ کو ہنسی آگئی۔ (شرح زرقانی،ج 11، ص420)

