Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 65 of 120
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا اپنی گنا ہ گار امت کے لیے بارگاہ الٰہی میں راتوں کو رونا اور گریہ وزار ی کرنا حدیث سے ثابت ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے جبریل! میرے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے کہہ دو کہ تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں ر اضی کردیں گے اور رنجیدہ نہیں کریں گے‘‘۔()بخاری میں ہے کہ ’’جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دو کا موں کا اختیار دیا جاتا توآپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشر طیکہ وہ گناہ نہ ہوتا‘‘۔ یہ بھی آپ کی شفقت و رحمت ہی ہے کہ آپ قیامت میں مسلمانوں کی شفاعت فرمائیں گے۔ ()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے عورتوں کے ساتھ اچھے بر تاؤکی و صیت فرمائی۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے اچھا ہو،اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے تم سب سے اچھا ہوں‘‘۔()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عورتوں پر شفقت و رحمت کا اندازہ اس سے بھی ہو تا ہے کہ آپ نے عورتوں کو دین سکھانے کے لیے ایک د ن مخصو ص فرمایاتھا۔ ()
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یتیم، مسکین اور غرباء کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بھی بار ہا تلقین فرمائی۔ آپ یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ مجھے مسکین زندہ رکھ اور مجھے مسکین ہی وفات دے اور قیامت میں مساکین میں میر احشر فرما۔()
حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے غلاموں کے آزاد کرنے کو جہنم سے نجات کا مو جب فرمایا اور ان کے حقوق یوں بیان فرمائے :
’’ تمہارے غلاموں میں جو تمہارے مو افق ہو، اسے وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہواور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور جو تمہیں پسند نہ ہو اسے بیچ دو مگر اسے عذاب نہ دو‘‘۔()
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمبچوں سے نہایت شفقت کا سلوک فرماتے تھے، آپ انہیں چومتے اور پیار کرتے اور کبھی کبھی ان سے مذا ق بھی فرمایا کرتے۔ ایک دن آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے تھے کہ اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے کہا، میرے دس لڑکے ہیں۔ میں نے ان کو کبھی نہیں چوما۔آپ نے فرمایا،’’ جو ر حم نہیں کرتا ،اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔ ()
ایک روزاُم قیس بن محصن رضی اللہ عنہااپنے شیر خوار بچہ کو بارگا ہ نبوی میں لے کر آئیں۔ آپ نے شفقت سے اس بچہ کو اپنی گود مبارک میں بیٹھالیا۔ اس بچہ نے پیشاب کردیا۔ آپ نے اس پر پانی بہا دیا اوربالکل بھی اظہارِ ناراضگی نہ فرمایا۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام فرماتے۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نئی فصل کا کو ئی پھل پکتا تو لوگ اسے بارگاہ ِ نبوی میں لے کر آتے۔ آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس پر دعائے برکت فرماتے اور سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عطافرماتے۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے’’باپ پر بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھے آداب سکھائے۔ ()
ر حمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمانسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے ر حمت ہیں۔ آپ جانوروں پر بھی شفقت فرماتے اور ان سے شفقت و رحمت کا بر تاؤ کرنے کی تعلیم دیتے۔ ایک صحابی نے پر ندے کے بچے پکڑ لیے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ان سے فرمایا، ان بچوں کو وہیں رکھ آؤ جہاں سے لائے ہو۔
ایک روز ایک انصاری کے باغ سے آپ کا گزر ہوا، و ہاں ایک اونٹ بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو دیکھتے ہی او نٹ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ نے اونٹ کے پاس آکر دستِ شفقت پھیرا اور پھر اونٹ کے مالک کو بلا کر فرمایا، خد اتعا لیٰ سے ڈرو، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھو کار کھتے ہو اورزیادہ مشقت لیتے ہو۔()
Share:
keyboard_arrow_up