نبی کریم ﷺ کا اپنی گنہگار امت کے لیے بارگاہ الٰہی میں راتوں کو رونا اور گریہ وزاری کرنا حدیث سے ثابت ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا،
اے جبریل! میرے حبیب ﷺ سے کہہ دو کہ تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں راضی کر دیں گے اور رنجیدہ نہیں کریں گے‘‘۔
(مسلم ، ج1، ص191، حدیث نمبر:202)
بخاری میں ہے کہ:
’’جب حضور ﷺ کو دوکاموں کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہوتا‘‘۔ یہ بھی آپ کی شفقت و رحمت ہی ہے کہ آپ قیامت میں مسلمانوں کی شفاعت فرمائیں گے۔
(بخاری، ج11، ص395، حدیث نمبر:3296، مسلم ، ج4، ص1813، حدیث نمبر:2327)
حضور ﷺنے عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت فرمائی۔ آپ کا ارشاد ہے،
’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے اچھا ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے تم سب سے اچھا ہوں‘‘۔
(بخاری، ج1، ص178، حدیث نمبر:99)
آپ ﷺ کی عورتوں پر شفقت و رحمت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے عورتوں کو دین سکھانے کے لیے ایک دن مخصوص فرمایا تھا۔(سنن ابن ماجہ،ج 12، ص154، حدیث نمبر:4116، ترمذی، ج8،ص354،حدیث نمبر:2275)
آپ ﷺنے یتیم، مسکین اور غرباء کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بھی بارہا تلقین فرمائی۔ آپ یہ دعا فرماتے تھے،
اے اللّٰہ مجھے مسکین زندہ رکھ اور مجھے مسکین ہی وفات دے اور قیامت میں مساکین میں میرا حشر فرما۔
(ترمذی،ج4، ص157، حدیث نمبر: 2359 ، ابن ماجہ، ج4، ص433، حدیث نمبر: 4126)
حضور رحمتِ عالم ﷺ نے غلاموں کے آزاد کرنے کو جہنم سے نجات کا موجب فرمایا اور ان کے حقوق یوں بیان فرمائے :
’’تمہارے غلاموں میں جو تمہارے موافق ہو، اسے وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور جو تمہیں پسند نہ ہو اسے بیچ دو مگر اسے عذاب نہ دو‘‘۔ (مسند احمد، ج33، ص158،حدیث نمبر:15813)
رحمت عالم ﷺ بچوں سے نہایت شفقت کا سلوک فرماتے تھے، آپ انہیں چومتے اور پیار کرتے اور کبھی کبھی ان سے مذاق بھی فرمایا کرتے۔ ایک دن آپ حضرت حسن رضی اللّٰہ عنہ کو چوم رہے تھے کہ اقرع بن حابس تمیمی رضی اللّٰہ عنہ نے کہا،میرے دس لڑکے ہیں۔ میں نے ان کو کبھی نہیں چوما۔ آپ نے فرمایا، ’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔ (بخاری،ج 18 ص403، حدیث نمبر:5538)
ایک روزاُم قیس بن محصن رضی اللّٰہ عنہا اپنے شیر خوار بچہ کو بارگاہ نبوی میں لے کر آئیں۔ آپ نے شفقت سے اس بچہ کو اپنی گود مبارک میں بیٹھا لیا۔ اس بچہ نے پیشاب کردیا۔ آپ نے اس پر پانی بہا دیا اور بالکل بھی اظہارِ ناراضگی نہ فرمایا۔
(بخاری، ج1، ص373، حدیث نمبر:216)
آقا کریم ﷺ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام فرماتے۔
(صحیح بخاری، ج19، ص269، حدیث نمبر:5778، مسلم،ج4، ص1805،حدیث نمبر:2310)
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
جب بھی نئی فصل کا کوئی پھل پکتا تو لوگ اسے بارگاہِ نبوی میں لے کر آتے۔ آپ ﷺ اس پر دعائے برکت فرماتے اور سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عطا فرماتے۔ (مسلم، ج2، ص1000، حدیث نمبر:1373)
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے
’’باپ پر بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھے آداب سکھائے۔
(مشکوٰۃ، ج2، ص211، حدیث نمبر:3138)
رحمت عالم ﷺ انسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے رحمت ہیں۔ آپ جانوروں پر بھی شفقت فرماتے اور ان سے شفقت و رحمت کا برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتے۔ ایک صحابی نے پر ندے کے بچے پکڑ لیے تھے۔
حضور ﷺ نے ان سے فرمایا،
ان بچوں کو وہیں رکھ آؤ جہاں سے لائے ہو۔ ایک روز ایک انصاری کے باغ سے آپ کا گزر ہوا، و ہاں ایک اونٹ بھی تھا۔ حضور ﷺ کو دیکھتے ہی او نٹ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ نے اونٹ کے پاس آکر دستِ شفقت پھیرا اور پھر اونٹ کے مالک کو بلا کر فرمایا، خدا تعالیٰ سے ڈرو، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور زیادہ مشقت لیتے ہو۔
(سنن ابی داؤد،ج 7، ص91، حدیث نمبر:2186)

