Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 64 of 120
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مدنی زندگی کے د س بر سو ں میں ستائیس غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی جن میں نو غزوات میں قتال کی نو بت آئی جبکہ مجاہد اعظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے چوالیس لشکر مختلف جنگی مہمات کے لیے خود رو انہ فرمائے۔ آپ میدان جنگ میں افواج کی کمان خود فرماتے ان کی تنظیم و ترتیب، ضروری ہدایات اور جنگی حکمت عملی،یہ تمام امور خود انجام دیتے۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’ جب گھمسان کا معرکہ ہوتا اور جنگ کی شدت ہوتی تو ہم آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی پناہ ڈھو نڈا کرتے تھے اور ہم میں سے دلیر و بہادر وہ ہو تا تھا جو آپ کے ساتھ د شمن کے مقابل کھڑاہوتا تھا‘‘۔()
حضرت عبداللہ بن عمر ر ضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ’’میں نے رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے بڑھ کر کسی کو بہادر، دلیر، سخی اور اللہ تعالیٰ سے راضی نہیں دیکھا‘‘۔()
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ’’جب جنگ نہایت شدید اورخوں ریز ہوتی اور لڑنے والوں کی آنکھوں میں خون اتر آتااُس وقت ہم آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آڑلیا کرتے اور دشمنوں کے سب سے زیادہ قریب حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی ہوتے تھے‘‘۔()
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کفار کا لشکر جب لڑائی کے لیے سامنے آتا تو ان پر حملہ کر نے والوں میں سب سے آگے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہی ہوتے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ غزو ہ حنین کے دن سخت معرکہ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم درازگوش پر سوار تھے اور برابر آگے بڑھتے ہوئے یہ فرمارہے تھے، ’’میں نبی ہوں، اس بات میں کو ئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں‘‘۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جسمانی طاقت میں بھی سب سے افضل و اعلیٰ تھے۔ غزوہ احزاب میں جب خندق کھودتے ہو ئے سخت چٹا ن آگئی اورکسی سے نہ تو ڑی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اس زور سے کدال مار ی کہ وہ ریت بن گئی۔ ()
رکانہ قریش کا ناقابلِ شکست پہلوان تھا، آپ نے اسے تین د فعہ پچھاڑا۔ وہ آپ کی قوت دیکھ کر حیران رہ گیا۔()
رکانہ مسلمان ہو گئے تھے۔ جبکہ ابو الا سودجمحی جو ایسا طاقتور تھا کہ گائے کی کھال پر کھڑا ہو جاتا اور دس پہلوان اس کھا ل کو کھینچتے تو چمڑا پھٹ جا تا مگر اس کے پا ؤ ں کے نیچے سے نہ نکلتا۔ اس نے با رگاہ نبوی میں چیلنج دیا کہ اگر آپ مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ آپ نے اسے زمین پر چِت کردیا مگر وہ ایمان نہ لایا۔()
8...شفقت و رحمت:
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام جہا نوں کے لیے مجسم ر حمت ہیں۔ آپ ہی کے وجو دِ مسعود کے صدقے میں کافر دنیاوی عذاب سے محفوظ رہے۔()
اوریہ آپ کی کفا ر پر رحمت و مہر با نی ہی تھی کہ ان کی ایذار سانیوں کے با و جو د آپ نے ان کے خلا ف دعا نہ فرمائی بلکہ ہدایت کی دعا فرماتے رہے۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی اپنی امت پر شفقت و رحمت قرآن حکیم میں یو ں بیان فرمائی گئی،
’’بے شک تمہا رے پاس تشریف لا ئے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بے حد شفقت فرمانے والے مہر بان ہیں‘‘۔()
قاضی عیاض فرماتے ہیں،’’رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم امت پر شفقت و رحمت ہی کی و جہ سے ان کے لیے آسانی اورتخفیف چاہتے۔ کئی امور اس خوف سے ترک فرمادیتے کہ وہ امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ جیسا کہ آپ کا ارشادہے، اگر مجھے امت کی مشقت کا خیا ل نہ ہو تا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ اسی طرح نماز تروایح نہ پڑھانا، صوم وصال کے روزوں سے منع فرمانا، و غیرہ اسی قسم کے اور اموربھی ہیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up