Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 64 of 118

حضور نے مدنی زندگی کے دس برسوں میں ستائیس غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی جن میں نو غزوات میں قتال کی نوبت آئی جبکہ مجاہد اعظم نے چوالیس لشکر مختلف جنگی مہمات کے لیے خود روانہ فرمائے۔ آپ میدان جنگ میں افواج کی کمان خود فرماتے ان کی تنظیم و ترتیب، ضروری ہدایات اور جنگی حکمت عملی، یہ تمام امور خود انجام دیتے۔

 

حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’جب گھمسان کا معرکہ ہوتا اور جنگ کی شدت ہوتی تو ہم آقا ومولیٰ   کی پناہ ڈھونڈا کرتے تھے اور ہم میں سے دلیر و بہادر وہ ہو تا تھا جو آپ کے ساتھ د شمن کے مقابل کھڑا ہوتا تھا‘‘۔ (مسلم، ج3، ص1400، حدیث نمبر:1776)

 

حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

’’میں  نے رسولِ معظم سے بڑھ کر کسی کو بہادر، دلیر، سخی اور اللّٰہ تعالیٰ سے راضی نہیں دیکھا‘‘۔ (سنن الدارمی،ج 1، ص44، حدیث نمبر:59)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں کہ:

’’جب جنگ نہایت شدید اور خوں ریز ہوتی اور لڑنے والوں کی آنکھوں میں خون اتر آتا اُس وقت ہم آقا و مولیٰ کی آڑلیا کرتے اور دشمنوں کے سب سے زیادہ قریب حضور ہی ہوتے تھے‘‘۔ (شرح السنۃ للبغوی، ج7 ،ص47، حدیث نمبر: 3592، 3593)

 

حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

کفار کا لشکر جب لڑائی کے لیے سامنے آتا تو ان پر حملہ کر نے والوں میں سب سے آگے سرکارِ دو عالم ہی ہوتے تھے۔

 

حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:غزوہ حنین کے دن سخت معرکہ ہوا۔ نبی کریم دراز گوش پر سوار تھے اور برابر آگے بڑھتے ہوئے یہ فرما رہے تھے،

’’میں نبی ہوں، اس بات میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں‘‘۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص115)

 

حضور جسمانی طاقت میں بھی سب سے افضل و اعلیٰ تھے۔ غزوہ احزاب میں جب خندق کھودتے ہو ئے سخت چٹان آگئی اور کسی سے نہ توڑی گئی تو آپ نے اس زور سے کدال ماری کہ وہ ریت بن گئی۔
(
بخاری، ج13، ص10، حدیث نمبر:3797)

 

رکانہ قریش کا ناقابلِ شکست پہلوان تھا، آپ نے اسے تین د فعہ پچھاڑا۔ وہ آپ کی قوت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ (سیرت ابن ہشام، ج1، ص390)

 

رکانہ مسلمان ہوگئے تھے۔ جبکہ ابو الاسود جمحی جو ایسا طاقتور تھا کہ گائے کی کھال پر کھڑا ہوجاتا اور دس پہلوان اس کھال کو کھینچتے تو چمڑا پھٹ جاتا مگر اس کے پاؤں کے نیچے سے نہ نکلتا۔ اس نے بارگاہ نبوی میں چیلنج دیا کہ اگر آپ مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ آپ نے اسے زمین پر چِت کردیا مگر وہ ایمان نہ لایا۔ (مدارج النبوۃ،ج1، ص76)

 

8...شفقت و رحمت:

حضورِ اکرم تمام جہانوں کے لیے مجسم رحمت ہیں۔ آپ ہی کے وجودِ مسعود کے صدقے میں کافر دنیاوی عذاب سے محفوظ رہے۔
(پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:32)

اوریہ آپ کی کفار پر رحمت و مہربانی ہی تھی کہ ان کی ایذا رسانیوں کے با وجود آپ نے ان کے خلا ف دعا نہ فرمائی بلکہ ہدایت کی دعا فرماتے رہے۔

رحمت عالم کی اپنی امت پر شفقت و رحمت قرآن حکیم میں یوں بیان فرمائی گئی،

’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بےحد شفقت فرمانے والے مہربان ہیں‘‘۔
(
پارہ نمبر: 24، سورۃ  التوبۃ، آیت نمبر: 128)

 

قاضی عیاض فرماتے ہیں،

’’رحمتِ عالم امت پر شفقت و رحمت ہی کی وجہ سے ان کے لیے آسانی اور تخفیف چاہتے۔ کئی امور اس خوف سے ترک فرما دیتے کہ وہ امت پر فرض نہ ہو جائیں۔

جیسا کہ آپ کا ارشادہے،

اگر مجھے امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کےساتھ مسواک کرنےکا حکم دیتا۔ اسی طرح نماز تروایح نہ پڑھانا، صوم وصال کے روزوں سے منع فرمانا، و غیرہ اسی قسم کے اور اموربھی ہیں‘‘۔ (شفا، ج1، ص124)

Share:
keyboard_arrow_up