Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 63 of 118

6...عفت و حیا:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’تمہارے صاحب نہ بہکے اور نہ بے راہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو  اُنہیں کی جاتی ہے‘‘۔
(
پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:2،4)

 

آقا کریم ﷺ   کے سیدھی راہ پر ہونے کی گواہی رب تعالیٰ  نے دوسرے مقام پر یوں دی ہے۔

ارشاد ہوا،

’’بے شک تم سیدھی راہ پر ہو‘‘۔ (پارہ نمبر: 17، سورۃ الحج ، آیت نمبر: 67)

 

ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ    ہر قسم کی خطا وغلطی سے معصوم ہیں۔ اعلان نبوت سے قبل یا بعدمیں بھی آپ سے کبھی کوئی گناہ صادر نہیں ہوا۔ قرآن حکیم میں حضور ﷺ   کی حیا کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

’’بے شک تمہاری اس بات سے نبی کو ایذا ہوتی تھی لیکن وہ تمہار الحاظ فرماتے تھے (اور حیاکے باعث کچھ نہیں کہتے تھے)‘‘۔ (پارہ نمبر: 22، سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر:53)

 

حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم کنواری پردہ نشیں دو شیزہ سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔
(
بخاری، ج11، ص379، حدیث نمبر:3298، مسلم ،ج4، ص1809، حدیث نمبر:2320)

 

آقا و مولیٰ جب کسی چیز کو نا پسند فرماتے تو نا پسندیدگی کے آثار آپ کے چہرۂ انور سے ظاہر ہوجاتے(مگر حیا کے سبب منہ سے کچھ نہ فرماتے)۔
(
شمائل ترمذی،ص297، حدیث نمبر:358)

 

علماء فرماتے ہیں کہ:

’’حیا وہ خوبی ہے جو برائی کے ارتکاب سے بچانے کا موجب اور حق دار کے حق میں کوتاہی سے محفو ظ رکھنے کا باعث ہے‘‘۔ حدیث پاک میں حیا کو ایمان کا جزو کہا گیا ہے۔ (ترمذی،ج 7، ص294،حدیث نمبر:1932)

 

حضور ﷺ  کی ذات اقدس میں کمال درجہ کی حیا تھی۔ حدیث پاک میں ہے کہ آپ نے کبھی کسی عورت کو نہیں چھوا جس کے آپ مالک نہ ہوں۔ آپ رفع حاجت کے لیے اس قدر دور نکل جاتے کہ لوگوں کی نگاہوں سے او جھل ہو جاتے اور آپ اس وقت تک کپڑا نہ ہٹاتے جب تک بیٹھ نہ جاتے۔ آپ شرم و حیا کے باعث اکثر نگاہیں نیچی رکھتے۔ (ترمذی، ج1، ص 97، حدیث نمبر: 20، دار الفکر)

 

آپ جب آرام کے لیے تشریف لے جاتے تو چادر اوڑھ لیتے اور سر ڈھانپ لیتے۔ (وسائل الوصول)

جب کوئی خطا کار خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر معافی چاہتا تو آپ حیا سے گردن جھکا لیتے۔ آپ حیا کے باعث کسی کے چہرے کو مسلسل دیکھتے ہوئے گفتگو نہ فرماتے۔ اگر کسی میں کوئی ایسی بات نظر آتی جو آپ کو مکروہ و ناپسند ہوتی تو آپ یہ نہ فرماتے کہ فلاں شخص ایسا کہتا یا کرتا ہے بلکہ آپ نام لیے بغیر اس بری بات کی مخالفت فرماتے۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص78)

 

سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

سیدِ عالم نورِ مجسم نہ طبعاً فحش گو تھے اور نہ ہی با تکلف فحش یا غیر اخلاقی گفتگو فرماتے۔ آپ نہ تو اونچی آواز میں گفتگو فرماتے اور نہ ہی بازاروں میں شور کرتے۔ (شمائل ترمذی، ص287، حدیث نمبر:347)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول معظم فحش بات کہنے والے نہ تھے، آپ کسی پر لعنت کرنے والے یا برا کہنے والے بھی نہیں تھے۔ جب آپ کسی پر غصہ فرماتے تو یوں ارشاد فرماتے،

’’اسے کیا ہوا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو‘‘۔ (بخاری، ج18، ص456، حدیث نمبر:5571)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے گھر میں آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا،

یہ اپنے قبیلے کا برا شخص ہے۔ پھر اجازت عطا فرمائی۔ جب وہ داخل ہوا تو نہایت نرمی سے گفتگو فرمائی۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کی، پہلے تو آپ نے وہ بات فرمائی اور پھر نرمی سے گفتگو فرمائی، ایسا کیو ں؟

ارشاد فرمایا،

بیشک لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جسے لوگ اس کی فحش کلامی یا بدزبانی کی و جہ سے چھوڑ دیں۔ (شمائل ترمذی، ص289، حدیث نمبر:350)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں،

جب کوئی شخص آپ کی مجلس میں بیٹھتا تو جب تک وہ خود نہ چلا جاتا آپ اس کے پاس بیٹھے رہتے اور جو آپ کے سامنے اپنی ضرورت پیش کرتا، آپ اس کی حاجت پوری فرماتے یا نرمی سے جواب دیتے۔ (شمائل ترمذی، ص198،حدیث نمبر: 334)

 

7...شجاعت واستقلال:

قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ:

قوتِ غضب کی زیادتی اور اسے عقل کے تابع رکھنے کا نام شجاعت ہے اور مشکل ترین حالات میں ثابت قدم اور بے خوف رہنے کا نام استقلال ہے۔

نبی کریم دیگر اوصاف جمیلہ کی طرح اس وصف میں بھی بے مثل ہیں۔ بسا اوقات ایسے مشکل اور پریشان کن مواقع پر جہاں بہادروں کے قدم اکھڑ گئے، وہاں آقا و مولیٰ حضورِ اکرم شجاعت و استقلال کا پیکر بن کر ڈٹے رہے۔

Share:
keyboard_arrow_up