’’بے شک تمہاری اس بات سے نبی کو ایذا ہوتی تھی لیکن وہ تمہار الحاظ فرماتے تھے (اور حیاکے باعث کچھ نہیں کہتے تھے)‘‘۔ ()
حضر ت ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکنواری پردہ نشیں دو شیزہ سے بھی زیاد ہ حیادار تھے۔()
آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ناپسند ید گی کے آثار آپ کے چہرۂ انور سے ظاہر ہوجاتے(مگر حیا کے سبب منہ سے کچھ نہ فرماتے)۔ ()
علماء فرماتے ہیں کہ ’’حیا وہ خو بی ہے جو برائی کے ارتکاب سے بچانے کا مو جب اور حق دار کے حق میں کو تا ہی سے محفو ظ رکھنے کا باعث ہے‘‘۔ حدیث پاک میں حیاکو ایمان کا جزو کہا گیاہے۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات اقدس میں کمال درجہ کی حیا تھی۔ حدیث پاک میں ہے کہ آپ نے کبھی کسی عورت کو نہیں چھوا جس کے آپ مالک نہ ہوں۔ آپ رفع حاجت کے لیے اس قدر دور نکل جاتے کہ لوگوں کی نگاہوں سے او جھل ہو جاتے اور آپ اس وقت تک کپڑا نہ ہٹاتے جب تک بیٹھ نہ جاتے۔ آپ شرم و حیا کے باعث اکثر نگاہیں نیچی رکھتے۔()
آپ جب آرام کے لیے تشریف لے جاتے تو چادر اوڑھ لیتے اور سر ڈھانپ لیتے۔ (وسائل الوصول )
جب کو ئی خطا کا ر خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر معافی چاہتا توآپ حیا سے گردن جھکالیتے۔
آپ حیا کے باعث کسی کے چہرے کو مسلسل دیکھتے ہو ئے گفتگو نہ فرماتے۔اگر کسی میں کوئی ایسی بات نظر آتی جو آ پ کو مکر وہ وناپسند ہوتی توآپ یہ نہ فرماتے کہ فلاں شخص ایسا کہتا یا کرتا ہے بلکہ آپ نام لیے بغیر اس بری بات کی مخالفت فرماتے۔()
سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنہ طبعاًفحش گوتھے اور نہ ہی باتکلف فحش یا غیر اخلاقی گفتگو فرماتے۔آپ نہ تو اونچی آواز میں گفتگو فرماتے اور نہ ہی بازاروں میں شور کرتے۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فحش بات کہنے والے نہ تھے، آپ کسی پر لعنت کرنے والے یا براکہنے والے بھی نہیں تھے۔ جب آپ کسی پر غصہ فرماتے تو یوں ارشاد فرماتے، ’’اسے کیا ہو ا، اس کی پیشانی خاک آلو د ہو‘‘۔()
حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے گھر میں آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا، یہ اپنے قبیلے کا بر اشخص ہے۔ پھر اجازت عطا فرمائی۔ جب وہ داخل ہوا تو نہایت نرمی سے گفتگو فرمائی۔ جب وہ چلاگیا تو میں نے عرض کی، پہلے تو آپ نے وہ بات فرمائی اور پھر نرمی سے گفتگو فرمائی، ایساکیو ں؟ ارشاد فرمایا، بیشک لوگوں میں سب سے براشخص وہ ہے جسے لوگ اس کی فحش کلامی یا بد زبانی کی و جہ سے چھوڑ دیں۔()
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں، جب کو ئی شخص آپ کی مجلس میں بیٹھتا تو جب تک وہ خودنہ چلاجاتا آپ اس کے پاس بیٹھے رہتے اور جو آپ کے سامنے اپنی ضرورت پیش کرتا، آپ اس کی حاجت پور ی فرماتے یانرمی سے جواب دیتے۔()
7... شجاعت و استقلال:
قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ قوتِ غضب کی زیادتی اور اسے عقل کے تابع رکھنے کا نام شجاعت ہے اور مشکل ترین حالات میں ثابت قدم اور بے خو ف رہنے کا نام استقلال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمدیگر اوصاف جمیلہ کی طرح اس وصف میں بھی بے مثل ہیں۔ بسا اوقات ایسے مشکل اور پریشان کن مو اقع پر جہاں بہادروں کے قد م اکھڑ گئے، وہاں آقاومولیٰ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمشجاعت و استقلال کا پیکر بن کر ڈٹے رہے۔
Page 63 of 120

