5...ایفا ئے عہد :
و عدہ پو را کرنا اسلامی اخلاق کا اہم جزو ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہمیشہ و عدہ پو را فرماتے خواہ وہ مسلمان سے کیا ہو تا یا کافر سے، اوراپنے پرائے سبھی اس حقیقت کے معترف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو سفیان نے ہر قل روم کے دربار میں یہ گو اہی د ی کہ آپ (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)کبھی عہد شکنی نہیں کرتے۔
حضرت عبداللہ بن ابی الحسماءرضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ میں نے اعلان نبو ت سے قبل حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے خریدو فروخت کی اورآپ کا کچھ بقا یا رہ گیا۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ وہ چیزلے کر آتا ہوں پھر میں بھو ل گیا۔ تین دن بعد مجھے یاد آیا اور میں وہاں پہنچا تو حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اسی جگہ پایا۔ آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، تم نے مجھ پر مشقت ڈال د ی، میں تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کر رہاہوں۔()
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ قبولِ اسلام سے قبل قریش کے سفیربن کر مدینہ منورہ آئے تو نور ِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو دیکھ کر اس قدر متا ثر ہو ئے کہ کفرسے نفرت ہو گئی۔ بارگاہ نبوی میں عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں اب واپس مکہ نہیں جاؤں گا۔ حضور نے فرمایا، ’’ میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی قاصد وں کو اپنے پاس رو کتا ہوں اب تم واپس جاؤبعد میں چاہو تو آجانا‘‘۔چنانچہ ابو رافع واپس چلے گئے پھر دو بارہ مدینہ شریف آئے اور اسلام قبول کیا۔()
غزوہ بدر کے مو قع پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور انہیں ایک ایک آدمی کی اشد ضرورت تھی۔ حذیفہ بن یمان اور ابو حسیل ر ضی اللہ عنہما بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض گذار ہوئے، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!ہم مکہ سے آرہے تھے کہ راستے میں ہمیں کفار نے گرفتار کرلیا اور پھر اس شرط پر رہاکیا کہ ہم جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن یہ عہد ہم نے مجبوراً کیا تھا، ہم جہاد میں ضرور حصہ لیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،
’’ہر گز نہیں! تم اپنا و عدہ پو ر اکرو اورمیدان جنگ سے واپس چلے جاؤ،ہم ہر حال میں اپنا وعدہ پورا کریں گے اورہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے‘‘۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے مذکو ر ہ تینوں او صا ف یعنی سچ بولنا، امانت دار ہو نا اور وعد ہ کی پابندی کرنا اپنے غلاموں کو اپنانے کی بارہاتعلیم دی ہے اور ان تینوں اوصاف سے محروم رہنے والے کو منافق قرار دیا ہے۔ حدیث پاک میں ارشاد ِگرامی ہے، ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں۔جب بات کرے تو جھو ٹ بولے، جب وعدہ کر ے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے‘‘۔()
6... عفت و حیا :
ار شا دِ باری تعا لیٰ ہے ، ’’تمہارے صاحب نہ بہکے اور نہ بے راہ چلے، اور وہ کو ئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے ،وہ تو نہیں مگر و حی جو اُنہیں کی جاتی ہے‘‘۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے سیدھی را ہ پر ہونے کی گواہی رب تعالیٰ نے دوسرے مقام پر یوں دی ہے۔ ارشاد ہوا، ’’بے شک تم سیدھی راہ پر ہو‘‘۔()
ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہر قسم کی خطاو غلطی سے معصوم ہیں۔ اعلان نبوت سے قبل یا بعدمیں بھی آپ سے کبھی کو ئی گناہ صادر نہیں ہوا۔
قرآن حکیم میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حیا کا بھی ذکر فرمایاگیاہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
Page 62 of 120

