Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 62 of 118

5...ایفائے عہد:

وعدہ پورا کرنا اسلامی اخلاق کا اہم جزو ہے۔ نبی کریم ہمیشہ وعدہ پورا فرماتے خواہ وہ مسلمان سے کیا ہوتا یا کافر سے، اور اپنے پرائے سبھی اس حقیقت کے معترف تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ابو سفیان  نے ہرقل روم کے دربار میں یہ گو اہی دی کہ آپ کبھی عہد شکنی نہیں کرتے۔

حضرت عبداللّٰہ بن ابی الحسماء رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے اعلان نبوت سے قبل حضور سے خرید و فروخت کی اور آپ کا کچھ بقایا رہ گیا۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ وہ چیز لے کر آتا ہوں پھر میں بھول گیا۔ تین دن بعد مجھے یاد آیا اور میں وہاں پہنچا تو حضور کو اسی جگہ پایا۔

آقا و مولیٰ ﷺ  نے فرمایا، تم  نے مجھ پر مشقت ڈال دی، میں تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، ج13، ص180، حدیث نمبر:4344)

 

حضرت ابو رافع رضی اللّٰہ عنہ قبولِ اسلام سے قبل قریش کے سفیر بن کر مدینہ منورہ آئے تو نورِ مجسم ﷺ  کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہو ئے کہ کفر سے نفرت ہو گئی۔ بارگاہ نبوی میں عرض کی، یارسول اللّٰہ ﷺ ! میں اب واپس مکہ نہیں جاؤں گا۔

حضور نے فرمایا،

’’میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی قاصدوں کو اپنے پاس رو کتا ہوں اب تم واپس جاؤ بعد میں چاہو تو آجانا‘‘۔ چنانچہ ابو رافع واپس چلے گئے پھر دوبارہ مدینہ شریف آئے اور اسلام قبول کیا۔
(
سنن ابی داؤد، ج7، ص398، حدیث نمبر:2377)

 

غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور انہیں ایک ایک آدمی کی اشد ضرورت تھی۔ حذیفہ بن یمان اور ابو حسیل رضی اللّٰہ عنہما بارگاہ نبوی میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوئے، یا رسول اللّٰہ ﷺ !ہم مکہ سے آرہے تھے کہ راستے میں ہمیں کفار  نے گرفتار کرلیا اور پھر اس شرط پر رہاکیا کہ ہم جنگ میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن یہ عہد ہم  نے مجبوراً کیا تھا، ہم جہاد میں ضرور حصہ لیں گے۔

حضور ﷺ   نے فرمایا،

’’ہر گز نہیں! تم اپنا و عدہ پو را کرو اور میدان جنگ سے واپس چلے جاؤ، ہم ہر حال میں اپناوعدہ پورا کریں گےاورہمیں صرف اللّٰہ تعالیٰ کی مددکی ضرورت ہے‘‘۔
(
مسلم ،ج3، ص1414، حدیث نمبر:1787)

 

حضور ﷺ    نے مذکو رہ تینوں اوصاف یعنی سچ بولنا، امانت دار ہو نا اور وعدہ کی پابندی کرنا اپنے غلاموں کو اپنانے کی بارہا تعلیم دی ہے اور ان تینوں اوصاف سے محروم رہنے والے کو منافق قرار دیا ہے۔

حدیث پاک میں ارشادِ گرامی ہے،

’’منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے تو جھو ٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے‘‘۔
(
بخاری،ج 1، ص58، حدیث نمبر:32، مسلم ،ج1، ص85، حدیث نمبر:74)

Share:
keyboard_arrow_up