Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 61 of 118

4... صدق و امانت :

سرکارِ دو عالم  تمام لوگوں سے بڑھ کر صدق و امانت کے پیکر تھے۔ آپ کے بدترین دشمن بھی اعلانِ نبوت سے قبل آپ کو’’صادق ‘‘ اور’’امین‘‘ کہتے تھے۔

جب حضور ﷺ   نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کو اسلام کی دعوت دینا چاہی تو پہلے ان سے دریافت فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرلو گے ؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا، ’’بیشک ہم یقین کریں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ تمہیں سچ بو لتے دیکھا ہے‘‘۔ (بخاری، ج14، ص439، حدیث نمبر:4397)

 

حضرت عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ جو پہلے یہود کے بڑے عالم تھے، ایمان لانے سے قبل جب پہلی بار بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اور ان کی نظر چہرۂ مصطفیٰ ﷺ     پر پڑی تو دیکھتے ہی پکار اٹھے،’’یہ چہرہ کسی جھو ٹے کا چہرہ نہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ، ج1، ص430،حدیث نمبر:1907)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں کہ:

ایک دفعہ ابو جہل نے حضور ﷺ      سے کہا، ’’ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے لیکن جو دعوت و پیغام تم لائے ہو ہم تو اسے جھٹلاتے ہیں‘‘۔ (ترمذی،ج 10، ص328، حدیث نمبر:2990)

 

کتاب الشفا میں ہے کہ:غزوہ بدر کے روز اخنس بن شریق نے ابو جہل سے تنہائی میں دریافت کیا کہ محمد ﷺ      سچے ہیں یا جھو ٹے ؟

تو ابو جہل نے جواب دیا، ’’خدا کی قسم! محمد ﷺ     سچے ہیں اور جھوٹ تو وہ کبھی بو لتے ہی نہیں ‘‘۔

شاہ روم ہرقل  نے ابو سفیان سے جو اس وقت ایمان نہ لائے تھے حضور ﷺ      کے متعلق یہ سوال کیا کہ کیا نبوت کے اعلان سے قبل تمہیں ان پر کبھی جھوٹ بولنے کا گمان ہوا؟ ابو سفیان نے جواب دیا، ہر گز نہیں انہوں  نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘‘۔ (الشفا، ج1، ص135)

 

حارث بن عامر ان فتنہ پرور اور شریر لوگوں میں سے تھا جو لوگوں کے سامنے حضور ﷺ       کی نبوت کا انکار کیا کرتے تھے لیکن وہ جب گھر والوں کے ساتھ تنہائی میں ہوتا تو کہتا ،

’’خدا کی قسم! محمد ﷺ      ہر گز جھوٹے نہیں ہیں‘‘۔ (مدارج النبوۃ، ج1،ص 87)

 

گویا آپ کی صداقت ایسی مسلم حقیقت ہے کہ جس کا انکار بدترین دشمن بھی نہ کر پاتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ      کی امانت داری کا بھی کافروں کو اعتراف تھا اسی لیے وہ آپ کو امین یعنی امانت دار کہا کرتے تھے۔

کتاب الشفا میں ہے کہ:کفار دور جاھلیت میں آپ سے اپنے فیصلے کروایا کرتے تھے۔ حضور ﷺ      کا ارشاد گرامی ہے،

’’ اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! میں آسمانوں میں امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں‘‘۔ یہی وجہ تھی کہ کفار و مشرکین آپ سے مخالفت و دشمنی کے باوجود اپنا مال آپ ہی کے پاس امانت رکھوایا کر تے تھے نیز کسی اور کو آپ سے بڑھ کر امانت دار نہیں سمجھتے تھے۔

جب کافروں نے نبی کریم کے قتل کی پوری تیاری کرلی اور حضور کو ہجرت کا حکم ہوگیا اس مشکل وقت میں بھی حضور ﷺ  کو لوگوں کی امانتوں کی فکر تھی۔ اس لیے آپ نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ تمام لوگوں کی امانتیں انہیں واپس کر کے مدینہ منورہ آئیں۔

آقا اپنے غلاموں کو بھی اخلاق حسنہ اپنانے کی بے حد تاکید فرماتے۔

آپ کا ارشاد ہے،

’’تم لو گ اپنے نفس کے بارے میں میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

وہ چھ باتیں یہ ہیں:

جب تم بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو حفاظت سے ادا کرو، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ (ناجائز اُمور سے)روک لو‘‘۔
(
مشکوٰۃ،ج 3، ص55، حدیث نمبر:4870)

Share:
keyboard_arrow_up