4... صدق و امانت :
سرکا رِ دو عالمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمتمام لو گو ں سے بڑ ھ کر صدق و امانت کے پیکر تھے۔ آپ کے بدترین دشمن بھی اعلانِ نبوت سے قبل آپ کو’’صادق ‘‘ اور’’امین‘‘ کہتے تھے۔
جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کو ہِ صفاپر چڑ ھ کر قریش کو اسلام کی دعوت دینا چاہی تو پہلے ان سے دریافت فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرلو گے ؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا، ’’بیشک ہم یقین کریں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ تمہیں سچ بو لتے دیکھا ہے‘‘۔()
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہجو پہلے یہود کے بڑے عالم تھے، ایمان لانے سے قبل جب پہلی بار بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اوران کی نظر چہرۂ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر پڑی تو دیکھتے ہی پکار اٹھے ، ’’یہ چہرہ کسی جھو ٹے کا چہرہ نہیں‘‘۔()
حضرت علی کر م اللہ و جہہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو جہل نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے کہا، ’’ہم تمہیں جھو ٹا نہیں کہتے لیکن جو دعوت و پیغام تم لائے ہو ہم تو اسے جھٹلاتے ہیں‘‘۔()
کتاب الشفا میں ہے کہ غزوہ بدر کے روزا خنس بن شریق نے ابو جہل سے تنہائی میں دریافت کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) سچے ہیں یا جھو ٹے ؟ تو ابو جہل نے جواب دیا، ’’خدا کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)سچے ہیں اور جھو ٹ تو وہ کبھی بو لتے ہی نہیں ‘‘۔
شاہ رو م ہر قل نے ابو سفیان سے (جو اس وقت ایمان نہ لائے تھے) حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے متعلق یہ سوال کیا کہ کیا نبوت کے اعلان سے قبل تمہیں ان پر کبھی جھوٹ بولنے کا گمان ہوا؟ابو سفیان نے جو اب دیا، ہر گز نہیں انہوں نے کبھی جھو ٹ نہیں بولا‘‘۔()
حارث بن عامر ان فتنہ پرور اور شریر لو گو ں میں سے تھا جو لو گو ں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی نبوت کا انکار کیا کرتے تھے لیکن وہ جب گھر والوں کے ساتھ تنہائی میں ہوتا تو کہتا ، ’’خدا کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) ہر گز جھوٹے نہیں ہیں‘‘۔()
گو یا آپ کی صداقت ایسی مسلم حقیقت ہے کہ جس کا انکار بد تر ین د شمن بھی نہ کر پاتے تھے۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امانت داری کا بھی کا فروں کو اعتراف تھا اسی لیے وہ آپ کو امین یعنی امانت دار کہا کرتے تھے۔ کتاب الشفا میں ہے کہ کفاردور جاھلیت میں آپ سے اپنے فیصلے کروایا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ارشاد گرامی ہے، ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! میں آسمانوں میں امین ہوں اورزمین میں بھی امین ہوں‘‘۔
یہی وجہ تھی کہ کفار و مشرکین آپ سے مخالفت ودشمنی کے باوجود اپنا مال آپ ہی کے پاس امانت رکھو ایا کر تے تھے نیز کسی اورکو آپ سے بڑھ کر امانت دار نہیں سمجھتے تھے۔ جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قتل کی پور ی تیاری کرلی اور حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہجرت کا حکم ہو گیا اس مشکل وقت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لو گو ں کی امانتوں کی فکر تھی۔ اس لیے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ تمام لو گوں کی امانتیں انہیں واپس کر کے مدینہ منو رہ آئیں۔
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے غلاموں کو بھی اخلاق حسنہ اپنانے کی بے حد تاکید فرماتے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’تم لو گ اپنے نفس کے بارے میں میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ وہ چھ باتیں یہ ہیں: جب تم بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کر و تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو حفاظت سے ادا کرو، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ (ناجائز اُمور سے)روک لو‘‘۔()
Page 61 of 120

