Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 60 of 118

ایک بار کسی شخص نے سوال کیا کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان جتنی بکریاں ہیں سب اسے دے دی جائیں۔ آپ نے وہ ساری بکریاں اسے عطا فرما دیں۔ اس نے اپنے قبیلے والوں سے جاکر کہا، تم اسلام قبول کرلو، خدا کی قسم! محمد ایسی سخاوت کرتے ہیں کہ مال کے ختم ہو نے کا اند یشہ دل میں لاتے ہی نہیں۔ (مشکوٰۃ، ج3، ص262، حدیث نمبر:5806)

 

ایک بار آقا و مولیٰ نے حضرت ابوذر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا،

اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو تب بھی میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دینا ر بھی میرے پاس تین راتوں تک رہ جائے سوائے اس کے جو قرض ادا کرنے کے لیے ہو۔ (بخاری، ج8، ص217، حدیث نمبر:2213)

 

ایک دفعہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں سوال کیا تو حضور اکرم نے فرمایا،

اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ لیکن تم میرے نام پر اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لو، جب میرے پاس کچھ آئے گا تو ادا کروں گا۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ! آپ اس کو پہلے بھی دے چکے ہیں اور آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں بنایا ہے۔ حضور کو یہ بات پسند نہ آئی۔

ایک انصاری عرض گذار ہو ئے، یارسول اللّٰہ ! آپ خرچ کرتے جائیں کیونکہ مالکِ عرش آپ کو مال کی کمی کا اندیشہ کبھی لاحق نہیں ہو نے دے گا۔ یہ سن کر آپ مسکرائے اور چہرۂ انور پر خو شی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ آپ نے فرمایا، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ (شمائل ترمذی،ص294)

 

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللّٰہ عنہ کا بیان ہے کہ:

حضور حنین کے دن مجھے مال عطا فرماتے رہے اور اتنا مال عطا فرمایا کہ پہلے آپ میری نظر میں انتہائی نا پسندیدہ شخص تھے پھر آپ میرے نزدیک محبوب ترین ہو گئے۔ (ترمذی،ج3، ص77 ، حدیث نمبر:602)

 

حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ حضور کے مالی امور کے نگراں یا خزانچی تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ

’’آقا کے پاس کوئی مال جمع نہ رہتا، بعثت مبارکہ سے وصال ظاہری تک مالی معاملات میرے سپرد رہے۔ جب کوئی بھوکا ننگا مسلمان آپ کے پاس آتا تو آپ مجھے حکم دیتے اور میں کسی سے قرض لے کر اس کے کھانے اور پہننےکا انتظام کرتا‘‘۔ (الشفا، ج2، ص154)

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

رحمتِ عالم نے نصف وسق غلہ قرض لے کر ایک سائل کو عطا فرمایا۔ جب قرض خواہ وصولی کے لیے آیا تو اسے پورا وسق دیتے ہوئے فرمایا، نصف تمہارا قرض ہے اور نصف ہماری عطا ہے۔ (الشفا،ج1، ص114)

 

حضرت سہل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:

ایک عورت نے بارگاہ نبوی میں چادر کا ہدیہ پیش کیا۔ آپ اس چادر کو بطور تہبند باندھ کر تشریف لائے تو کسی صحابی نے عرض کی، کتنی اچھی چادر ہے ! یہ مجھے عطا فرما دیجیے۔ آپ جب مجلس سے تشریف لے گئے تو وہ چادر اتار کر اس صحابی کو بِھجوادی۔ صحابہ کرام اس سے کہنے لگے، تم نے اچھا نہیں کیا کہ چادر مانگ لی جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ حضور کسی کا سوال رد نہیں فرماتے۔ اس صحابی نے کہا، اللّٰہ کی قسم !میں نے یہ چادر صرف اس لیے مانگی کہ یہ میرا کفن بنے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ چادر اس صحابی کا کفن ہی بنی۔ (بخاری، ج7، ص272، حدیث نمبر:1951)

 

آقا ئے دو جہاں نے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا،

اے جابر! اپنا اونٹ مجھے بیچ دو۔ انہوں نے عرض کی، میرے آقا !مفت حاضر ہے۔ فرمایا، مفت نہیں چاہیے، بیچ دو۔

انہوں نے ارشاد کی تعمیل کی۔ حضور   نے حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کو اونٹ کی قیمت ادا کرنے کا حکم دیا

پھر حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا،

اے جابر!قیمت اور اونٹ دونوں  لے جاؤ، اللّٰہ تعالیٰ تمہیں یہ دونوں مبارک کرے۔ (بخاری، ج7، ص272، حدیث نمبر:1951)

Share:
keyboard_arrow_up