ایک بار کسی شخص نے سوال کیا کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان جتنی بکریاں ہیں سب اسے دے دی جائیں۔ آپ نے وہ ساری بکریاں اسے عطا فرمادیں۔ اس نے اپنے قبیلے والوں سے جاکر کہا،تم اسلام قبول کرلو، خدا کی قسم! محمدصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمایسی سخاوت کرتے ہیں کہ مال کے ختم ہو نے کا اند یشہ دل میں لاتے ہی نہیں۔()
ایک بار آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرمایا، اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سو ناہو تب بھی میں یہ پسند نہیں کرو ں گا کہ اس میں سے ایک دینا ر بھی میرے پاس تین راتوں تک رہ جائے سوائے اس کے جو قر ض ادا کرنے کے لیے ہو۔()
ایک دفعہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں سوال کیا توحضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ لیکن تم میرے نام پر اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لو، جب میرے پاس کچھ آئے گا تو ادا کروں گا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کی، یارسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! آپ اس کو پہلے بھی دے چکے ہیں اور آ پ کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں بنایا ہے۔ حضور کو یہ بات پسند نہ آئی۔ ایک انصاری عرض گذار ہو ئے،
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !آپ خرچ کرتے جائیں کیو نکہ مالکِ عرش آپ کو مال کی کمی کا اندیشہ کبھی لاحق نہیں ہو نے دے گا۔ یہ سن کر آپ مسکرائے اور چہرۂ انور پر خو شی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ آپ نے فرمایا، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔()
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمحنین کے دن مجھے مال عطا فرماتے رہے اور اتنا مال عطا فرمایا کہ پہلے آپ میری نظر میں انتہائی نا پسندیدہ شخص تھے پھر آپ میرے نزدیک محبوب ترین ہو گئے۔()
حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مالی امور کے نگراں یا خزانچی تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاس کو ئی مال جمع نہ رہتا، بعثت مبارکہ سے و صال ظاہری تک مالی معاملات میرے سپردر ہے۔ جب کو ئی بھو کا ننگا مسلمان آپ کے پاس آتا تو آپ مجھے حکم دیتے اور میں کسی سے قرض لے کر اس کے کھانے اورپہننے کا انتظا م کرتا‘‘۔()
حضر ت ابو ہر یرہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے نصف وسق غلہ قرض لے کر ایک سائل کو عطا فرمایا۔ جب قرض خو اہ وصو لی کے لیے آیا تو اسے پو را وسق دیتے ہوئے فرمایا، نصف تمہارا قر ض ہے اور نصف ہماری عطا ہے۔()
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے بارگاہ نبوی میں چادر کا ہدیہ پیش کیا۔ آ پ اس چادرکو بطور تہبند باندھ کر تشریف لائے تو کسی صحابی نے عرض کی، کتنی اچھی چادر ہے ! یہ مجھے عطا فرمادیجیے۔ آپ جب مجلس سے تشریف لے گئے تو وہ چادر اتا رکر اس صحابی کو بھجوادی۔ صحابہ کرام اس سے کہنے لگے، تم نے اچھا نہیں کیا کہ چادر مانگ لی جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کسی کا سوال رد نہیں فرماتے۔
اس صحابی نے کہا، اللہ کی قسم !میں نے یہ چادر صرف اس لیے مانگی کہ یہ میرا کفن بنے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ چادر اس صحابی کا کفن ہی بنی۔()
آقا ئے دو جہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے جابر !اپنااونٹ مجھے بیچ دو۔ انہوں نے عرض کی، میرے آقا !مفت حاضر ہے۔ فرمایا، مفت نہیں چاہیے، بیچ دو۔ انہوں نے ارشاد کی تعمیل کی۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضر ت بلال رضی اللہ عنہ کو او نٹ کی قیمت ادا کرنے کا حکم دیا پھر حضرت جابررضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے جابر!قیمت اوراونٹ دونو ں لے جاؤ،اللہ تعا لیٰ تمہیں یہ د ونوں مبارک کرے۔()
Page 60 of 120

