Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 59 of 118

اعلان نبوت کے ساتویں سال حضور اور آپ کے اہل خاندان کو شعب ابی طالب میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ لوگ نہ کسی سے مل سکتے تھے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکتے تھے۔

غلہ ختم ہوگیا تو فاقے ہو نے لگے۔ عور تیں اور بچے بھو ک سے بیتاب ہوکر رو تے اور چلاتے مگر کافروں کو ترس نہ آتا۔ تین سال یہ بائیکاٹ رہا، ان مصیبتوں کے با وجود آپ دین کی تبلیغ فرماتے رہے۔ جب آپ تبلیغ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں کافروں نے اتنے پتھر برسائے کہ جسم اقدس کے ہر حصے سے خون بہا اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے پھر بھی آپ نے ان کے خلاف دعا نہ فرمائی اور صبر کیا۔

طائف سے واپسی پر ایک فرشتے نے عرض کی، اگر اجازت ہو تو طائف کو صفحۂ ہستی سے مٹادوں؟

ارشاد فرمایا،

میں یہ نہیں چاہتا کیو نکہ مجھے امید ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں خدائے واحد پر ایمان لائیں گی۔

قریش حضور کو مذمم کہہ کر گالیاں دیا کر تے مگر آپ فرماتے، دیکھو! رب تعالیٰ کس طرح قریش کی گالیوں سے مجھے محفوظ رکھتا ہے کہ وہ مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور لعنت کرتے ہیں حالانکہ میں تو محمد ہوں‘‘۔ (بخاری،ج 11، ص363، حدیث نمبر:3269)

 

جب کفار و مشرکین کی ایذا رسانیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپ نے اپنا گھر بار چھو ڑ کر راہِ خدا میں ہجرت فرمائی۔ غزوہ اُحد میں آپ کے دندان مبارک زخمی کر دیے گئے اور آپ کا چہر ۂ اقدس خون آلود ہوا، اس کے باوجود آپ نے کافروں کے لیے یہ دعا فرمائی، ’’اے اللّٰہ !میری قوم کو ہدایت عطا فرما، یہ لوگ میرے منصب کو نہیں پہچانتے‘‘۔

نبی کریم نے راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کا ذکر ایک حدیث پاک میں یوں فرمایا،

’’اللّٰہ تعالیٰ کی را ہ میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیا کہ اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مجھے اتنا زیادہ ستایا گیا کہ اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا۔ ایک مرتبہ تیس رات دن مجھ پر اس حال میں گزرے کہ میرے اور بلال (رضی اللّٰہ عنہ) کے لیے کھانے کی کو ئی چیز ایسی نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکے سوائے اس کے جو بلال نے اپنی بغل میں چھپا رکھا تھا‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص320، حدیث نمبر:375)

 

3... جودو کرم اور سخاوت:

اگر قیمتی اور فائدہ مند چیز خوشی سے خرچ کی جائے تو یہ کرم ہے اور سخاوت یہ ہے کہ اپنا مال دوسروں کے لیے آسانی سے خرچ کیا جائے اور بُری کمائی سے بچا جائے، اسی کو جود بھی کہتے ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد فرمایاگیا،

’’اور اپنی جانوں پر ان (مستحقین)کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو، اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں ‘‘۔
(
پارہ نمبر: 28، سورۃ الحشر، آیت نمبر:9)

 

اللّٰہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ جودو کرم والے نبی کریم ﷺ  ہیں۔ آپ کسی کے سوال کو رد نہ فرماتے، مال موجود ہو تا تو عطا فرماتے اور نہ ہوتا تو قرض لے کر دیتے یا عطا کرنے کا وعدہ فرماتے اور سائل سے معذرت فرماتے۔

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ   سے جس چیز کا بھی سوال کیا گیا تو آپ ﷺ   نے اس کے جو اب میں ’’نہیں‘‘ نہ فرمایا۔
(
شمائل ترمذی،ص292، حدیث نمبر:352)

 

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

 

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

سرکار دو عالم ﷺ  سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت ماہ رمضان میں بہت زیادہ ہو جاتی تھی۔ (شمائل ترمذی،ص292، حدیث نمبر:353)

Share:
keyboard_arrow_up