Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 59 of 120
اعلان نبوت کے ساتو یں سال حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماور آپ کے اہل خاندان کو شعب ابی طالب میں نظربند کردیا گیا۔یہ لوگ نہ کسی سے مل سکتے تھے اور نہ ہی خرید وفروخت کر سکتے تھے۔ غلہ ختم ہوگیاتو فاقے ہو نے لگے۔
عور تیں اور بچے بھو ک سے بیتاب ہو کر رو تے اورچلاتے مگر کافروں کو ترس نہ آتا۔ تین سال یہ بائیکاٹ رہا، ان مصیبتوں کے باوجو د آپ دین کی تبلیغ فرماتے رہے۔
جب آ پ تبلیغ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں کافروں نے اتنے پتھر برسائے کہ جسم اقدس کے ہر حصے سے خون بہااور نعلین مبارک خون سے بھر گئے پھر بھی آپ نے ان کے خلاف دعا نہ فرمائی اورصبر کیا۔ طائف سے واپسی پر ایک فرشتے نے عرض کی، اگر اجازت ہو تو طائف کو صفحۂ ہستی سے مٹادوں؟ ارشاد فرمایا، میں یہ نہیں چاہتا کیو نکہ مجھے امید ہے کہ ان کی آئند ہ نسلیں خدا ئے و احد پر ایمان لائیں گی۔
قریش حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مذمم کہہ کر گالیاں دیا کر تے مگر آپ فرماتے، دیکھو! رب تعالیٰ کس طرح قریش کی گالیوں سے مجھے محفوظ رکھتا ہے کہ و ہ مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور لعنت کرتے ہیں حالانکہ میں تو محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) ہوں‘‘۔()
جب کفارو مشرکین کی ایذار سانیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپ نے اپنا گھر بار چھو ڑ کر راہِ خدا میں ہجرت فرمائی۔ غزوہ اُحد میں آپ کے دندان مبارک زخمی کر دیے گئے اور آپ کا چہر ۂ اقد س خو ن آلود ہوا ،اس کے با وجود آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کافروں کے لیے یہ دعافرمائی،
’’اے اللہ !میری قوم کو ہدایت عطافرما،یہ لوگ میرے منصب کو نہیں پہچانتے‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کا ذکر ایک حدیث پاک میں یوں فرمایا،’’اللہ تعالیٰ کی را ہ میں مجھے اتنا ڈرایا دھمکایا گیاکہ اتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا اوراللہ تعالیٰ کی راہ میں مجھے اتنا زیادہ ستایا گیا کہ اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا۔ ایک مرتبہ تیس رات دن مجھ پر اس حال میں گزرے کہ میرے اور بلال(رضی اللہ عنہ) کے لیے کھانے کی کو ئی چیز ایسی نہ تھی جسے کوئی جاندار کھاسکے سوائے اس کے جو بلال نے اپنی بغل میں چھپا رکھا تھا‘‘۔()
3... جو دو کرم اورسخاوت:
اگر قیمتی اور فائدہ مند چیز خوشی سے خرچ کی جائے تو یہ کرم ہے اور سخاوت یہ ہے کہ اپنا مال دوسروں کے لیے آسانی سے خرچ کیا جائے اور بُری کمائی سے بچا جائے، اسی کو جود بھی کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایاگیا،
’’اور اپنی جانوں پر ان (مستحقین)کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو، اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کا میا ب ہیں ‘‘۔()
اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ جو دو کرم والے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہیں۔ آپ کسی کے سوال کو ردنہ فرماتے، مال موجو د ہو تا تو عطا فرماتے اور نہ ہو تا توقرض لے کر دیتے یا عطا کرنے کا وعد ہ فرماتے اورسائل سے معذرت فرماتے۔
حضر ت جابررضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے جس چیز کا بھی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اس کے جو اب میں ’’نہیں‘‘ نہ فرمایا۔()
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
حضر ت ابن عباس ر ضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسب سے زیاد ہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت ما ہ رمضان میں بہت زیادہ ہو جاتی تھی۔()
Share:
keyboard_arrow_up