حضو ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہکے قاتل وحشی رضی اللہ عنہفتح مکہ کے بعد 9ہجری میں بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ آپ نے ان سے صرف اتنا فرمایا، مجھے اپنا چہرہ نہ دکھا یا کرو۔ اسی طرح ہندہ بنت عتبہ جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایاتھا، فتح مکہ کے دن اسلام لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں بھی معاف فرمادیا۔ تاریخ عالم میں ایسے حسن اخلاق کی مثال نہیں ملتی۔
2...صبرو استقامت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمصبرو استقامت کا پیکر تھے۔ راہ حق میں آپ کو بیشمار تکلیفیں اور اذیتیں دی گئیں مگر آپ نے صبرکا دامن ہاتھ سے نہ چھو ڑ ا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے فرمایا، ’’تو تم صبرکر وجیساہمت والے رسولوں نے صبر کیا‘‘۔()
ودسر ی جگہ ارشاد ہوا، ’’اوراے محبوب! تم صبر کرو اورتمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے‘‘۔()
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے دعوتِ حق کا آغا ز فرمایا تو آپ کو صادق و امین کہنے والے آپ کے جانی دشمن بن گئے اور آپ پر ظلم و ستم ڈھانا شروع کردیا۔ آپ جب گھر میں ہوتے توصحن میں پتھر اور گندگی پھینک دیتے۔ راستے میں کا نٹے بچھادیتے جس سے آپ کے مبارک تلوے لہولہان ہوجاتے۔ ایک بار سراقدس پر کیچڑ پھینک دیا، ایک مرتبہ شیطان صفت کافروں نے منیٰ میں دعوت حق دیتے ہوئے آپ کو نر غے میں لے لیا، گالیاں دیں اور پتھر برسائے۔ ان مصیبتوں کے باوجود آپ صبرو استقامت کے ساتھ ان کی ہدایت کے لیے دعا فرماتے رہے۔
ایک دن آ پ خانہ کعبہ میں دعوتِ حق دے رہے تھے کہ کفار نے آپ کو مارنا شروع کردیا۔ حضرت حارث بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ کو کسی نے خبر دی۔ وہ دوڑے آئے اورحضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو کفار کے نرغے سے نکال لیا لیکن کا فروں نے انہیں تلواریں مارکر شہیدکردیا۔ اسی طرح جب بنی ہاشم کے افراد کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعوت اسلام د ی تو عقبہ بن ابی معیط اپنی چادر آ پ کی گردن میں ڈال کر مروڑنے لگا۔ آپ کی تکلیف دیکھ کر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا، وہ بچانے کے لیے آگے بڑھے تو مشرکوں نے انھیں اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔
ایک دن عقبہ ملعون نے خون اور گو بر سے بھری ہوئی اوجھڑی لاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی پشت مبارک پر رکھ دی جبکہ آپ سجد ے کی حالت میں تھے۔ حضرت فاطمہ ر ضی اللہ عنہا نے آکر اس نجاست کو پشت مبارک سے دور کیا اور شریروں کو برا کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، ’’بیٹی صبر کرو، اللہ تعالیٰ ان نا دانوں کو ہدایت دے گا یہ نہیں جانتے کہ ان کی بھلائی کس میں ہے‘‘۔
ابو جہل ملعون آپ کواکثر مارا کرتا تھا، ایک دن اس ملعون نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو زدو کوب کیا اس کی یہ ناپاک حرکت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا باعث بنی۔ اسی دشمنِ رسول کے ہاتھوں حضرت عماررضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت پائی جو کہ اسلام میں پہلی شہادت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ملنے والوں پر اور آپ کی دعوت قبول کرنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مگر ان کے پائے استقامت میں ذراسی جنبش نہ آئی۔
قریش کے بے حد دبا ؤپر جب ابو طالب نے آ پ کو تبلیغ سے با زرکھنے کی کو شش کی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’اے چچا جان!خدا کی قسم اگر یہ لو گ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تو میں حق کہنے سے باز نہیں آؤں گا خواہ اس را ہ میں میری جان ہی کیو ںنہ چلی جائے‘‘۔
Page 58 of 120

