حضور ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللّٰہ عنہ فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ آپ نے ان سے صرف اتنا فرمایا،
مجھے اپنا چہرہ نہ دکھایا کرو۔
اسی طرح ہندہ بنت عتبہ جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا، فتح مکہ کے دن اسلام لائیں۔ حضور ﷺ نے انہیں بھی معاف فرمادیا۔ تاریخ عالم میں ایسے حسن اخلاق کی مثال نہیں ملتی۔
2...صبرو استقامت:
نبی کریم ﷺصبر و استقامت کا پیکر تھے۔ راہ حق میں آپ کو بیشمار تکلیفیں اور اذیتیں دی گئیں مگر آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ سے فرمایا،
’’تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا‘‘۔
(پارہ نمبر: 26، سورۃالاحقاف، آیت نمبر:35)
دوسری جگہ ارشاد ہوا،
’’اور اے محبوب! تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللّٰہ ہی کی توفیق سے ہے‘‘۔
(پارہ نمبر: 14، سورۃ النحل، آیت نمبر:127)
جب رسول اللّٰہ ﷺ نے دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو آپ کو صادق و امین کہنےوالے آپ کے جانی دشمن بن گئے اور آپ پر ظلم و ستم ڈھانا شروع کر دیا۔
آپ جب گھر میں ہوتے تو صحن میں پتھر اور گندگی پھینک دیتے۔ راستے میں کانٹے بچھا دیتے جس سے آپ کے مبارک تلوے لہو لہان ہو جاتے۔
ایک بار سر اقدس پر کیچڑ پھینک دیا، ایک مرتبہ شیطان صفت کافروں نے منیٰ میں دعوت حق دیتے ہوئے آپ کو نرغے میں لے لیا، گالیاں دیں اور پتھر برسائے۔ ان مصیبتوں کے با وجود آپ صبر و استقامت کے ساتھ ان کی ہدایت کے لیے دعا فرماتے رہے۔ ایک دن آ پ خانہ کعبہ میں دعوتِ حق دے رہے تھے کہ کفار نے آپ کو مارنا شروع کردیا۔
حضرت حارث بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ کو کسی نے خبر دی۔ وہ دوڑے آئے اور حضور ﷺ کو کفار کے نرغے سے نکال لیا لیکن کافروں نے انہیں تلواریں مارکر شہید کردیا۔
اسی طرح جب بنی ہاشم کے افراد کو حضور ﷺ نے دعوت اسلام دی تو عقبہ بن ابی معیط اپنی چادر آ پ کی گردن میں ڈال کر مروڑنے لگا۔ آپ کی تکلیف دیکھ کر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سے نہ رہا گیا، وہ بچانے کے لیے آگے بڑھے تو مشرکوں نے انھیں اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔
ایک دن عقبہ ملعون نے خون اور گوبر سے بھری ہوئی اوجھڑی لاکر نبی کریم ﷺ کی پشت مبارک پر رکھ دی جبکہ آپ سجدے کی حالت میں تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا نے آکر اس نجاست کو پشت مبارک سے دور کیا اور شریروں کو برا کہا۔
حضور ﷺ نے فرمایا،
’’بیٹی صبر کرو، اللّٰہ تعالیٰ ان نادانوں کو ہدایت دے گا یہ نہیں جانتے کہ ان کی بھلائی کس میں ہے‘‘۔
ابو جہل ملعون آپ کو اکثر مارا کرتا تھا، ایک دن اس ملعون نے آپ ﷺ کو زد وکوب کیا اس کی یہ نا پاک حرکت حضرت حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے اسلام لانے کا باعث بنی۔
اسی دشمنِ رسول کے ہاتھوں حضرت عمار رضی اللّٰہ عنہ کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنہا نے شہادت پائی جو کہ اسلام میں پہلی شہادت ہے۔
حضور ﷺ کے ملنے والوں پر اور آپ کی دعوت قبول کرنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مگر ان کے پائے استقامت میں ذراسی جنبش نہ آئی۔
قریش کے بے حد دباؤ پر جب ابو طالب نے آ پ کو تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی تو حضور ﷺ نے فرمایا،
’’اے چچا جان!خدا کی قسم اگر یہ لو گ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تو میں حق کہنے سے باز نہیں آؤں گا خواہ اس راہ میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے‘‘۔

