Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 57 of 120
آپ ہی سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ’’رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بازار میں اونچی آواز سے گفتگو نہ فرماتے اور نہ ہی آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیا کرتے بلکہ معاف کردیتے اور درگذر فرماتے ‘‘۔() (شمائل ترمذی)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمہمیشہ کشادہ رو، نر م عادت اور نرم مزاج رہتے تھے۔ آپ بد اخلاق نہ تھے اور نہ ہی سخت دل، نہ چلانے والے، نہ عیب ڈھونڈنے والے اور نہ ہی تنگی کرنے والے۔ آپ جس چیز کی خو اہش نہ رکھتے اس سے خود چشم پو شی فرماتے لیکن دوسروں کو مایوس نہ فرماتے اور خو د اس کی دعوت قبول نہ فرماتے تھے۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ جار ہاتھا کہ ایک اعرابی ملااور اس نے آ پ کی چادر پکڑ کر آپ کونہایت زور سے کھینچا۔ میں نے دیکھا کہ اس اعرابی کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی گردن مبارک پر چادر کے نشان پڑگئے ہیں۔ اعرابی بولا، اے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!اللہ کا جومال آپ کے پا س ہے، اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم کیجیے۔ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس کی طرف دیکھ کر ہنس دیے اور اسے کچھ مال دینے کاحکم فرمایا۔()
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے سوائے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے اپنے ہاتھ مبارک سے کبھی کسی(خادم یا عورت) کو نہیں مارا۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’ایک اعرابی نے(احترا م مسجد سے ناواقف ہونے کی وجہ سے)مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ کرا م اسے مارنے کے لیے بڑھے تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’اسے جانے دواور پانی کا ڈول لاکر بہادو کیو نکہ تم نرم گیر بنا کر بھیجے گئے ہو، سخت گیر نہیں ‘‘۔()
حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ پہلے یہودی عالم تھے۔ قبولِ اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ان سے ایک مقررہ مدت کے لیے قرض لیاتھا۔ وہ مدت پوری ہو نے سے تین دن پہلے آگئے اورقرضے کی واپسی کے لیے بھرے مجمع میں سختی سے تقاضہ کیااور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی چادر مبارک کھینچ کرکہا، عبدالمطلب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ لو گو ں کا مال واپس کرنے میں بہانہ کرتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا۔
وہ غضب ناک لہجے میں بولے، ’’اے خداکے دشمن!تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ اگر حضور کا خیال نہ ہو تو میں ابھی تیری گردن اڑادوں‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، اے عمر!تمہیں چاہئے تھا کہ اسے تم محبت سے سمجھاتے کہ نرمی سے تقاضہ کرے اور مجھے ادائے حق کے لیے کہتے۔ پھر آپ نے فرمایا، ’’اس کا قرض ابھی ادا کر دو اور بیس صاع زیادہ دینا کیو نکہ تم نے اسے ڈرایا دھمکایا ہے‘‘۔
مال لیتے ہو ئے حضر ت زید حضر ت عمررضی اللہ عنہ سےکہنے لگے، ’’اے عمر! اصل بات یہ ہے کہ میں نے تو ریت میں آخری نبی کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں وہ سب میں نے دیکھ لیں تھیں سوائے ان دو کے: اول یہ کہ ان کا علم جہل پر غالب رہے گا اور دوم ان کے ساتھ جتنازیاد ہ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اتنا ہی ان کا حلم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ آج میں نے یہ دونوں نشانیاں بھی دیکھ لیں۔ اب میں گو اہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up