Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 57 of 118

آپ ہی سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ:

’’رسول معظم بازار میں اونچی آواز سے گفتگو نہ فرماتے اور نہ ہی آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیا کرتے بلکہ معاف کر دیتے اور درگذر فرماتے ‘‘۔
(
شمائل ترمذی، ص287، حدیث نمبر:347) (شمائل ترمذی)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ ہمیشہ کشادہ رو، نرم عادت اور نرم مزاج رہتے تھے۔ آپ بد اخلاق نہ تھے اور نہ ہی سخت دل، نہ چلانے والے، نہ عیب ڈھونڈنے والے اور نہ ہی تنگی کرنے والے۔ آپ جس چیز کی خو اہش نہ رکھتے اس سے خود چشم پوشی فرماتے لیکن دوسروں کو مایوس نہ فرماتے اور خود اس کی دعوت قبول نہ فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی، ص290، حدیث نمبر:351)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں آقا کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک اعرابی ملا اور اس نے آپ کی چادر پکڑ کر آپ کو نہایت زور سے کھینچا۔ میں نے دیکھا کہ اس اعرابی کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے حضور کی گردن مبارک پر چادر کے نشان پڑگئے ہیں۔ اعرابی بولا، اے محمد !اللّٰہ کا جو مال آپ کے پا س ہے، اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم کیجیے۔

آقا اس کی طرف دیکھ کر ہنس دیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم فرمایا۔ (بخاری، ج10، ص402، حدیث نمبر:2916)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،

رسول معظم  نے سوائے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے اپنے ہاتھ مبارک سے کبھی کسی(خادم یا عورت) کو نہیں مارا۔ (شمائل ترمذی،ص288، حدیث نمبر:348)

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’ایک اعرابی نے(احترا م مسجد سے نا واقف ہونے کی وجہ سے)مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ کرام اسے مارنے کے لیے بڑھے تو حضور نے فرمایا،

’’اسے جانے دو اور پانی کا ڈول لاکر بہا دو کیونکہ تم نرم گیر بنا کر بھیجے گئے ہو، سخت گیر نہیں ‘‘۔ (بخاری، ج1، ص370، حدیث نمبر:214)

 

حضرت زید بن سعنہ رضی اللّٰہ عنہ پہلے یہودی عالم تھے۔ قبولِ اسلام سے پہلے حضور نے ان سے ایک مقررہ مدت کے لیے قرض لیا تھا۔ وہ مدت پوری ہونے سے تین دن پہلے آگئے اور قرضے کی واپسی کے لیے بھرے مجمع میں سختی سے تقاضہ کیا اور حضور کی چادر مبارک کھینچ کر کہا، عبدالمطلب کی اولاد کا یہی طریقہ ہے کہ لوگوں کا مال واپس کرنے میں بہانہ کرتے ہیں۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو سخت غصہ آیا۔ وہ غضب ناک لہجے میں بولے،

’’اے خدا کے دشمن! تو رسول اللّٰہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ اگر حضور کا خیال نہ ہو تو میں ابھی تیری گردن اڑادوں‘‘۔

حضور اکرم نے فرمایا،

اے عمر! تمہیں چاہئے تھا کہ اسے تم محبت سے سمجھاتے کہ نرمی سے تقاضہ کرے اور مجھے ادائے حق کے لیے کہتے۔

پھر آپ نے فرمایا،

’’اس کا قرض ابھی ادا کر دو اور بیس صاع زیادہ دینا کیو نکہ تم نے اسے ڈرایا دھمکایا ہے‘‘۔

مال لیتے ہو ئے حضر ت زید حضر ت عمر رضی اللّٰہ عنہ سےکہنے لگے،

’’اے عمر! اصل بات یہ ہے کہ میں نے تو ریت میں آخری نبی کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں وہ سب میں نے دیکھ لیں تھیں سوائے ان دو کے:

اول یہ کہ: ان کا علم جہل پر غالب رہے گا

اور دوم: ان کے ساتھ جتنا زیاد ہ جہل کا برتاؤ کیا جائے گا اتنا ہی ان کا حلم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ آج میں نے یہ دونوں نشانیاں بھی دیکھ لیں۔ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں‘‘۔
(
دلائل النبوی، ابو نعیم، ج1، ص58، دلائل النبوۃ بیہقی، ج7، ص30، حدیث نمبر:2538،  مواہب اللدنیہ،ج 6، ص23)

Share:
keyboard_arrow_up