حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات اقدس سے جس و الہا نہ عشق و محبت کا انہوں نے عملی مظاہرہ کیا وہ دنیا کی تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔باپ نے میدانِ جنگ میں بیٹے کو للکارا، بیٹے نے باپ کو قتل کیا، شوہر نے بیوی کو اوربیوی نے شوہر کو چھو ڑدیا، آپ ہی کی خاطر لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑدیے، یہ تمام انقلاب آفریں حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بڑھ کرکو ئی دانااور عقلمند نہیں ہوا۔
امام زرقانی اور امام قاضی عیاض نے ابن عساکر و ابونعیم کے حو الے سے روایت کیا ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک عقل کے سامنے تمام انسانوں کی عقلیں دنیا کے تمام ریگستانوں کے مقابلے میں ریت کے ایک ذرے کی مانند ہیں ‘‘۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی عقل مبارک اور آ پ کے علوم و معارف کا ہماری محدودو ناقص عقلیں انداز ہ ہی نہیں کرسکتیں )۔ ()
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں ،’’ اگر یوں کہا جائے کہ عقل کے ہزار حصے ہیں جن میں سے نو سو ننانو ے حصے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاس ہیں اور ایک حصہ تمام لو گوں کے پاس، تویہ کہنا بھی صحیح ہے کیو نکہ جب آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات میں بے انتہا کمالات ثابت ہیں تو جو کچھ بھی کہا جائے گا ،بے جانہ ہوگا‘‘۔()
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’بیشک ہم نے آپ کو بے شمار خو بیاں عطا فرمائیں‘‘۔()
امام نووی فرماتے ہیں، ’’ اللہ تعالیٰ نے اخلاق کی تمام خو بیاں اورکمالات حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات اقدس میں جمع فرمادیے تھے۔ آ پ کو تمام اولین و آخرین کے علم سے نوازا گیا۔ اگرچہ آ پ اُمی نبی تھے یعنی آ پ نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا لیکن اس کے باوجود آ پ کووہ علوم عطا فرمائے گئے جن سے کا ئنات میں کوئی آگاہ نہ تھا۔
آپ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں مگر آپ نے دنیا کے مال کے بجائے ہمیشہ آخرت کو تر جیح دی‘‘۔
قاضی عیاض کتاب الشفا میں فرماتے ہیں ، ’’وہ تمام علوم جن پراللہ تعالیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو مطلع فرمایا،ان میں مَاکَانَ وَمَایَکُوْن (جو کچھ ہوا اورجو کچھ ہو گا) کاعلم، اپنی قدرت کے عجائبات اور اپنی عظیم بادشاہت کے علو م بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔()
’’اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !)تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے، اور اللہ کا تم پر بڑافضل ہے‘‘۔()
حقیقت یہ ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فضل و کمال کا انداز ہ کرنے میں عقلیں حیران اور آپ کے اوصاف بیان کرنے سے زبانیں گو نگی ہیں اور نہ ہی اس کی انتہاتک پہنچ سکی ہیں‘‘۔
اس مختصر کتاب میں تفصیل کی گنجائش نہیں پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سیرتِ طیبہ کے معطر و معنبر گلدستہ سے چند مہکتے ہوئے پھول پیشِ خدمت ہیں۔
1...حلم و عفو :
کسی کی زیادتی پر طاقت کے باو جود ضبط کرنا اور کسی کی غلطی پر مؤاخذہ نہ کرنا عفو و درگذر کہلاتا ہے، نبی کریمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات اقدس میں یہ اوصاف بد رجۂ اتم موجود تھے۔
ارشادِ ر بانی ہے،’’اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگذر کریں ‘‘۔()
دوسری جگہ فرمایا گیا ، ’’اے محبوب !معا ف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو‘‘۔()
حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیا لیکن جب آپ اللہ تعالیٰ کی متعین فرمائی ہوئی حد ود کی بے حرمتی یعنی شرعی احکام کی خلاف ورزی دیکھتے تو اللہ کے لیے غضب ناک ہوتے اور اس کا بدلہ لیتے‘‘۔()
Page 56 of 120

