Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 56 of 118

حضور کی ذات اقدس سے جس والہانہ عشق و محبت کا انہوں نے عملی مظاہرہ کیا وہ دنیا کی تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔ باپ نے میدانِ جنگ میں بیٹے کو للکارا، بیٹے نے باپ کو قتل کیا، شوہر نے بیوی کو اور بیوی نے شوہر کو چھوڑ دیا، آپ ہی کی خاطر لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے، یہ تمام انقلاب آفریں حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کرکوئی دانا اور عقلمند نہیں ہوا۔

امام زرقانی اور امام قاضی عیاض نے ابن عساکرو ابونعیم کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ:

’’حضور کی مبارک عقل کے سامنے تمام انسانوں کی عقلیں دنیا کے تمام ریگستانوں کے مقابلے میں ریت کے ایک ذرے کی مانند ہیں ‘‘۔ نبی کریم کی عقل مبارک اور آ پ کے علوم و معارف کا ہماری محدود و ناقص عقلیں اندازہ ہی نہیں کرسکتیں ۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص56)

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں،

’’اگر یوں کہا جائے کہ عقل کے ہزار حصے ہیں جن میں سے نوسوننانوے حصے حضور  کے پاس ہیں اور ایک حصہ تمام لوگوں کے پاس، تو یہ کہنا بھی صحیح ہے کیو نکہ جب آپ  کی ذات میں بے انتہا کمالات ثابت ہیں تو جو کچھ بھی کہا جائے گابے جانہ ہوگا‘‘ ۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص56)

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’بیشک ہم نے آپ کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں‘‘۔ (پارہ نمبر: 30، سورۃ  الکوثر، آیت نمبر:1)

 

امام نووی فرماتے ہیں،

’’اللّٰہ تعالیٰ نے اخلاق کی تمام خوبیاں اور کمالات حضور     کی ذات اقدس میں جمع فرما دیے تھے۔ آپ کو تمام اولین و آخرین کے علم سے نوازا گیا۔ اگرچہ آپ اُمی نبی تھے یعنی آپ نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا لیکن اس کے با وجود آپ کو وہ علوم عطا فرمائے گئے جن سے کائنات میں کوئی آگاہ نہ تھا۔ آپ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں مگر آپ نے دنیا کے مال کے بجائے ہمیشہ آخرت کو تر جیح دی‘‘۔

 

قاضی عیاض کتاب الشفا میں فرماتے ہیں ،

’’وہ تمام علوم جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے حضور    کو مطلع فرمایا،ان میں مَاکَانَ وَمَایَکُوْن (جو کچھ ہوا اورجو کچھ ہو گا) کا علم، اپنی قدرت کے عجائبات اور اپنی عظیم بادشاہت کے علو م بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص117)

 

’’اور (اے محبوب !)تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے،اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے‘‘۔ (پارہ نمبر: 6، سورۃ النساء ، آیت نمبر:113)

 

حقیقت یہ ہے کہ آپ  کے فضل و کمال کا انداز ہ کرنے میں عقلیں حیران اور آپ کے اوصاف بیان کرنے سے زبانیں گونگی ہیں اور نہ ہی اس کی انتہا تک پہنچ سکی ہیں‘‘۔

اس مختصر کتاب میں تفصیل کی گنجائش نہیں پھر بھی نبی کریم کی سیرتِ طیبہ کے معطر و معنبر گلدستہ سے چند مہکتے ہوئے پھول پیشِ خدمت ہیں۔

 

1...حلم و عفو :

کسی کی زیادتی پر طاقت کے با وجود ضبط کرنا اور کسی کی غلطی پر مؤاخذہ نہ کرنا عفو و درگذر کہلاتا ہے، نبی کریم کی ذات اقدس میں یہ اوصاف بد رجۂ اتم موجود تھے۔

ارشادِ ر بانی ہے،

’’اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگذر کریں ‘‘۔ (پارہ نمبر: 18، سورۃ النور، آیت نمبر:22)

دوسری جگہ فرمایا گیا ،

’’اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو‘‘۔ (پارہ نمبر: 9، سورۃ الاعراف، آیت نمبر:199)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

’’رحمت عالم ﷺ  نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیا لیکن جب آپ اللّٰہ تعالیٰ کی متعین فرمائی ہوئی حدود کی بے حرمتی یعنی شرعی احکام کی خلاف ورزی دیکھتے تو اللّٰہ کے لیے غضب ناک ہوتے اور اس کا بدلہ لیتے‘‘۔
(بخاری، ج19، ص88، حدیث نمبر:5661)

Share:
keyboard_arrow_up