مجھے جلوۂ پاک رسول دکھا، تجھے اپنے ہی عِزّ و عُلا کی قسم
اللھم ارزقنا زیارۃ النبی الکریم الرؤف الرحیم
علیہ وعلیٰ اٰلہٖ واصحابہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔ آمین
٭٭٭٭
باب چہارم
اخلاق عظیم
اخلاقِ حسنہ :
اگرکسی شخص میں کو ئی ایک امتیازی خوبی پائی جائے تو اہلِ دانش اسے عزت و احترم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس خو بی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتے ہیں کہ فلاں بہت سخی ہے یا فلاں بہت بہادر ہے یافلاں بہت صابر و شا کرہے، تو جس ذاتِ بابر کات میں پسند یدہ اخلاق، کمالات اور خو بیاں اس کثرت سے پائی جائیں کہ ذہن انہیں شمار کرنے سے اور زبان انہیں بیان کرنے سے عاجز ہو جائے اور کسب و محنت کے ذریعے ان خصائص و کمالات کا حصول ممکن نہ ہو، اس مقدس ذات کی تعریف کا حق ادا کرنا یقیناً ممکن نہیں۔
امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ عزوجل کے سوا کسی میں یہ طاقت ہی نہیں کہ وہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خصائص و کمالات کا احاطہ کرسکے‘‘۔
مزید فرماتے ہیں،’’حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے محا سن واخلاق عالیہ ایسے ہیں کہ جن میں محنت وکسب کا کوئی دخل نہیں، بلکہ یہ اخلاق حسنہ آپ کی جبلت میں پیدائشی طور پر موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ذات بابر کات میں تمام محاسن و کمالات فطری طور پر اس طرح جمع فرما دیے گئے تھے کہ کوئی خو بی اور کمال اس کے احاطے سے باہر نہیں تھا ‘‘۔()
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ کی عظمت یوں بیان فرمائی ہے، ارشاد ہوا،
﴿وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)﴾
’’اور(اے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!)بیشک آپ کی خوبو یعنی اخلاقِ حسنہ بڑ ی عظمت اور شان والے ہیں‘‘۔()
حضرت عائشہ ر ضی اللہ عنہا سے جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا،
کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن
یعنی ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا اخلاق قرآن تھا‘‘۔()
خود آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمانِ عالیشان ہے،’’میں محاسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیاہوں ‘‘۔()
حلم و عفو،صبرو استقامت،جودو سخا، عدل وانصاف ، شجاعت واستقلال، شرم وحیا، شفقت و رحمت، ایفائے عہدو صلہ رحمی، تو اضع وانکسار ی، صداقت وایمانداری، ایثار و مہمان نوازی، زہد و قناعت،سادگی وبے تکلفی، حسن ادب و حسن سلوک غرض یہ کہ حسن اخلاق کا وہ کونسا پہلو ہے جو آقائے کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اخلاقِ عظیم کا حصہ نہ ہو۔ بلاشبہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس تمام اخلاق جمیلہ اور خصائص حمیدہ کی جامع ہے۔
علم و عقل مبارک :
امام شرف الدین بوصیری ،قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں ،
فَاقَ النَّبِیِّیْنَ فِیْ خَلْقٍ وَّ فِیْ خُلُقٍ
وَلَمْ یُدَانُوْہُ فِیْ عِلْمٍ وَّ لَا کَرَمِ
’’حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمظاہر ی حسن و جمال اور باطنی حسن و اخلاق میں تمام انبیاء کرام پر فوقیت رکھتے ہیں اور علم و کرم میں بھی کو ئی آ پصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مرتبہ کے قریب نہیں پہنچ سکا‘‘۔
تمام اوصاف وکمالات کا سر چشمہ عقل ہوتی ہے، اسی سے علم و عرفان کے دریا نکلتے ہیں۔ امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ کے حسنِ تدبیر کے بارے میں غورکرے گا وہ جان لے گا کہ عرب اس وقت دنیا کی وحشی ترین قوم تھی جسے کسی تہذیب و تمدن کی ہو اتک نہ لگی تھی، نہ ان کے سامنے ماضی کی تاریخ تھی نہ مستقبل کے اندیشے۔ جن کے پاس تعلیم و تدریس کا کو ئی ذریعہ نہیں تھا، اس و حشی قوم کی تربیت آپ نے اس انداز سے کی کہ چند ہی سالوں میں ان کی کا یاپلٹ گئی۔ قتل و غارت گر ی کی جگہ محبت اور ایثار ان کا شعاربن گیا۔ ()
Page 55 of 120

