Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 55 of 118

باب چہارم

اخلاق عظیم

 

اخلاقِ حسنہ :

اگر کسی شخص میں کوئی ایک امتیازی خوبی پائی جائے تو اہلِ دانش اسے عزت و احترم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس خوبی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتے ہیں کہ فلاں بہت سخی ہے یا فلاں بہت بہادر ہے یا فلاں بہت صابر و شاکر ہے، تو جس ذاتِ با برکات میں پسندیدہ اخلاق، کمالات اور خوبیاں اس کثرت سے پائی جائیں کہ ذہن انہیں شمار کرنے سے اور زبان انہیں بیان کرنے سے عاجز ہو جائے اور کسب و محنت کے ذریعے ان خصائص و کمالات کا حصول ممکن نہ ہو، اس مقدس ذات کی تعریف کا حق ادا کرنا یقیناً ممکن نہیں۔

امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ:

’’اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کے سوا کسی میں یہ طاقت ہی نہیں کہ وہ رحمتِ عالم کے خصائص و کمالات کا احاطہ کرسکے‘‘۔ 

مزید فرماتے ہیں،

’’حضور کے محاسن و اخلاق عالیہ ایسے ہیں کہ جن میں محنت و کسب کا کوئی دخل نہیں، بلکہ یہ اخلاق حسنہ آپ کی جبلت میں پیدائشی طور پر موجود تھے۔ آپ کی ذات با برکات میں تمام محاسن و کمالات فطری طور پر اس طرح جمع فرما دیے گئے تھے کہ کوئی خوبی اور کمال اس کے احاطے سے باہر نہیں تھا ‘‘۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص12)

 

اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضور کے اخلاق حسنہ کی عظمت یوں بیان فرمائی ہے، ارشاد ہوا،

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

’’اور(اے حبیب !)بیشک آپ کی خوبو یعنی اخلاقِ حسنہ بڑی عظمت اور شان والے ہیں‘‘۔ (پارہ نمبر: 29، سورۃ  القلم، آیت نمبر:4)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے جب حضور کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا،

کَانَ       خُلُقُہُ        الْقُرْآن

یعنی ’’نبی کریم کا اخلاق قرآن تھا‘‘۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص28)

 

خود آقائے دو جہاں کا فرمانِ عالیشان ہے،

’’میں محاسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیاہوں ‘‘۔ (مستدرک، ج2،ص670، حدیث نمبر:4221)

 

حلم و عفو، صبر و استقامت، جود و سخا، عدل و انصاف، شجاعت واستقلال، شرم و حیا، شفقت و رحمت، ایفائے عہد و صلہ رحمی، تواضع وانکساری، صداقت و ایمانداری، ایثار و مہمان نوازی، زہد و قناعت، سادگی و بے تکلفی، حسن ادب و حسن سلوک غرض یہ کہ حسن اخلاق کا وہ کونسا پہلو ہے جو آقائے کائناتکے اخلاقِ عظیم کا حصہ نہ ہو۔

بلاشبہ آقا و مولیٰ کی ذاتِ اقدس تمام اخلاق جمیلہ اور خصائص حمیدہ کی جامع ہے۔

علم و عقل مبارک :

امام شرف الدین بوصیری، قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں،

فَاقَ     النَّبِیِّیْنَ     فِیْ      خَلْقٍ     وَّ      فِیْ       خُلُقٍ

وَلَمْ        یُدَا      نُوْہُ        فِیْ       عِلْمٍ     وَّ           لَا کَرَمِ

’’حضور ظاہری حسن و جمال اور باطنی حسن و اخلاق میں تمام انبیاء کرام پر فوقیت رکھتے ہیں اور علم و کرم میں بھی کو ئی آپ ﷺ  کے مرتبہ کے قریب نہیں پہنچ سکا‘‘۔

تمام اوصاف وکمالات کا سر چشمہ عقل ہوتی ہے، اسی سے علم و عرفان کے دریا نکلتے ہیں۔

امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ:

جو شخص آپ کے حسنِ تدبیر کے بارے میں غور کرے گا وہ جان لے گا کہ عرب اس وقت دنیا کی وحشی ترین قوم تھی جسے کسی تہذیب و تمدن کی ہوا تک نہ لگی تھی، نہ ان کے سامنے ماضی کی تاریخ تھی نہ مستقبل کے اندیشے۔ جن کے پاس تعلیم و تدریس کا کو ئی ذریعہ نہیں تھا، اس وحشی قوم کی تربیت آپ نے اس انداز سے کی کہ چند ہی سالوں میں ان کی کایا پلٹ گئی۔ قتل و غارت گری کی جگہ محبت اور ایثار ان کا شعار بن گیا۔ (جواہر البحار، ج2، ص215)

Share:
keyboard_arrow_up