Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 54 of 118

سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کے پوتے حضرت محمد بن ابراہیم رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جب آقائے دو جہاں کا حلیہ مبارک بیان فرماتے تو کہا کرتے کہ:

’’رسولِ معظم نہ بہت لمبے قد کے تھے اور نہ ہی زیادہ چھوٹے قد کے بلکہ میانہ قد تھے۔ آپ کے بال مبارک نہ تو زیاد ہ گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ کچھ خم دار تھے۔ آپ کا جسم اقدس نہ تو موٹا اور نہ ہی آپ کا چہرہ ٔانور بالکل گول تھا البتہ چہرہ ٔاقدس میں تھوڑی سی گولائی تھی۔ آپ کا رنگ مبارک سرخی مائل سفید تھا۔

آپ کی مقدس آنکھیں نہایت سیاہ و سرمگیں اور پلکیں گھنی اور لمبی تھیں۔ آپ کے جسم اقدس کے جوڑ مضبوط تھے اور شانوں کے درمیان کی جگہ بھی پُر گوشت اور مضبوط تھی۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے (یعنی بہت کم بال تھے) البتہ سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالوں کی ایک باریک لکیر تھی۔ آپ کے ہاتھ اور قدم مبارک پُر گوشت تھے۔ جب آپ کہیں تشریف لے جاتے تو قوت سے پاؤں مبارک اٹھاتے گویا بلندی سے اتر رہے ہوں، اور جب کسی کی طرف دیکھتے تو پو رے بدن کے ساتھ تو جہ فرماتے۔

آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپ آخری نبی ہیں۔

آپ سب سے زیاد ہ سخی دل والے، سب سے زیادہ سچی زبان والے، نہایت نرم طبیعت اور شریف ترین گھرانے والے تھے۔ جو شخص آپ کو اچانک دیکھتا وہ (آپ کے حسن و جمال اور رعب و وقار کے باعث) مرعوب ہو جاتا اور جو آپ کو جان پہچان سے دیکھتا وہ آپ سے محبت کرتا اور آپ کی تعریف کرنے والا ہر شخص یہ کہتا کہ میں نے حضور جیسا (صاحبِ حسن و جمال اور صاحبِ فضل و کمال )نہ آپ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد‘‘۔
(
شمائل ترمذی، ص32،حدیث نمبر:7)

 

مذکورہ دو احادیث مبارکہ کے علاوہ نبی کریم کے حلیہ مبارک سے متعلق جس حدیث پاک کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی وہ ایک ضعیف العمر صحابیہ حضرت اُم معبد خزراعیہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے اور اسے ائمہ حدیث حاکم، طبرانی، بیہقی اور ابو نعیم رحمہم اللّٰہ تعالیٰ نے روایت کیا ہے۔اس حدیث مبارکہ کو بھی تسکینِ قلب و روح کا ذریعہ بنائیے۔

حضرت اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

’’نورِ مجسم نمایاں حسن و جمال والے تھے، آپ کا جسم اقدس، حسن تخلیق کا بے مثل شاہکار تھا۔ چہرہ اقدس ملاحت سے بھرپور اور شکم مبارک ہموار تھا۔ آپ کے حسن و جمال کو چھوٹا سر معیوب نہ بنا رہا تھا۔ آپ نہایت حسین و جمیل اور خوبرو تھے۔

آپ کی مقدس آنکھیں سیاہ اور بڑی، پلکیں اعتدال کے ساتھ لمبی، آواز مبارک گونج دار، آنکھیں سرمگیں، ابرو باریک اور ملے ہوئے،گردن مبارک حسین و چمکدار اور داڑھی مبارک گھنی تھی۔ جب آپ خامو ش ہو تے تو پُر وقار دکھائی دیتے اور جب کلام فرماتے تو چہرۂ انور مزید پر وقار اوربا رونق ہوجاتا۔ دل موہ لینے والی، آسان اور واضح گفتگو فرماتے۔ آپ کا کلام نہ تو بے فائدہ ہوتا اور نہ ہی بیہودہ۔

آپ کی گفتگو موتیوں کی لڑی معلوم ہوتی جس سے موتی جھڑ رہے ہوں۔ آقا دور سے دیکھنے پر زیادہ با رعب اور خوبصورت دکھائی دیتے اور قریب سے دیدار کرنے پر نہایت نرم خو و شیریں اور سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آتے۔

آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا، نہ اتنا لمبا کہ آنکھوں کو برا لگے اور نہ اتنا چھوٹا کہ دیکھنے والوں کو حقیر نظر آئے۔ آپ دو شاخوں کے درمیان ایک ایسی شاخ کی طرح تھے جو سب سے زیادہ سر سبز و شاداب اور حسن و جمال میں نمایاں ہو۔ آپ کے ساتھی آپ کے گرد پروانہ وار رہتے، جب آپ گفتگوفرماتے تو غور سے سنتے اور جب آپ انہیں حکم دیتے تو وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتے۔ آپ سب کے مخدوم و محترم تھے اور ترش رونہ تھے اور نہ ہی آپ کے فرمان کی مخالفت کی جاتی تھی‘‘۔ (سیرت ابن کثیرج2،  ص 261)

بارگا ہِ الٰہی میں عاشقانِ مصطفی ایسی ہی دعا کرتے ہیں، تو ہی بندوں

پہ کرتا ہے لطف وعطا، ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دعا
مجھے جلوۂ پاک رسول دکھا، تجھے اپنے ہی عِزّ و عُلا کی قسم

 

اللھم ارزقنا زیارۃ النبی الکریم الرؤف الرحیم علیہ وعلیٰ اٰلہٖ واصحابہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

آمین

Share:
keyboard_arrow_up