Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 54 of 120
آپ کی مقدس آنکھیں نہایت سیاہ و سر مگیں اور پلکیں گھنی اور لمبی تھیں۔ آپ کے جسم اقدس کے جو ڑمضبو ط تھے اور شانو ں کے درمیان کی جگہ بھی پُرگو شت اور مضبوط تھی۔آ پ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے (یعنی بہت کم بال تھے)البتہ سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالو ں کی ایک باریک لکیر تھی۔ آپ کے ہاتھ اور قد م مبارک پُر گو شت تھے۔
جب آپ کہیں تشریف لے جاتے تو قوت سے پاؤں مبارک اٹھا تے گو یا بلندی سے اتر رہے ہوں، اور جب کسی کی طرف دیکھتے تو پو رے بدن کے ساتھ تو جہ فرماتے۔ آپ کے دو نوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپ آخری نبی ہیں۔
آپ سب سے زیاد ہ سخی دل والے، سب سے زیادہ سچی زبان والے، نہایت نرم طبیعت اور شریف ترین گھرانے والے تھے۔
جو شخص آپ کو اچانک دیکھتا وہ (آپ کے حسن و جمال اور رعب و وقار کے باعث) مرعوب ہو جاتا اورجو آپ کو جان پہچان سے دیکھتا وہ آپ سے محبت کرتا اور آپ کی تعریف کرنے والا ہر شخص یہ کہتا کہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجیسا (صاحبِ حسن و جمال اور صاحبِ فضل و کمال )نہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد‘‘۔()
مذ کور ہ دو احادیث مبارکہ کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے حلیہ مبارک سے متعلق جس حدیث پاک کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی وہ ایک ضعیف العمر صحابیہ حضرت اُم معبد خزراعیہ رضی اللہ عنہا سے مرو ی ہے اور اسے ائمہ حدیث حاکم،طبرانی، بیہقی اور ابو نعیم رحمہم اللہ تعالیٰ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کو بھی تسکینِ قلب وروح کا ذریعہ بنائیے۔
حضرت اُم معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
’’نور ِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نمایاں حسن و جمال والے تھے، آ پ کا جسم اقدس، حسن تخلیق کا بےمثل شاہکار تھا۔چہرہ اقدس ملاحت سے بھرپور اور شکم مبارک ہموار تھا۔ آپ کے حسن و جمال کو چھوٹا سر معیوب نہ بنا رہا تھا۔آپ نہایت حسین وجمیل اور خو بروتھے۔
آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس آنکھیں سیاہ اور بڑی،پلکیں اعتدال کے ساتھ لمبی، آواز مبارک گونج دار،آنکھیں سر مگیں ، ابروباریک اور ملے ہوئے،گردن مبارک حسین و چمکدار اور داڑھی مبارک گھنی تھی۔
جب آپ خامو ش ہو تے تو پُر وقار دکھائی دیتے اور جب کلام فرماتے تو چہرۂ انور مزید پروقار اور بارو نق ہوجاتا۔ دل موہ لینے والی، آسان اور واضح گفتگو فرماتے۔
آپ کاکلام نہ تو بے فائد ہ ہو تا اور نہ ہی بیہودہ۔آپ کی گفتگو موتیوں کی لڑی معلوم ہوتی جس سے موتی جھڑ رہے ہوں۔
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمدور سے دیکھنے پر زیادہ بار عب اورخو بصورت دکھائی دیتے اور قریب سے دیدار کرنے پر نہایت نرم خو وشیریں اور سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آتے۔
آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا ، نہ اتنا لمبا کہ آنکھوں کو برا لگے اور نہ اتنا چھو ٹا کہ دیکھنے والوں کو حقیر نظر آئے۔آپ دو شاخوں کے درمیان ایک ایسی شاخ کی طرح تھے جو سب سے زیادہ سر سبز و شاداب اور حسن و جمال میں نمایاں ہو۔
آپ کے ساتھی آپ کے گرد پروانہ واررہتے ، جب آپ گفتگوفرماتے تو غور سے سنتے اور جب آپ انہیں حکم دیتے تو وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتے۔ آپ سب کے مخدوم و محترم تھے اور ترش رونہ تھے اور نہ ہی آپ کے فرمان کی مخالفت کی جاتی تھی‘‘۔()
بارگا ہِ الٰہی میں عاشقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمایسی ہی دعا کرتے ہیں ،
تو ہی بندوں پہ کرتا ہے لطف وعطا،ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دعا
Share:
keyboard_arrow_up