35...حسن سراپا:
آخر میں اہل محبت کے جذب و کیف کو فزوں کرنے کے لیے وصاف رسول ﷺ حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے مروی مکمل احادیث پاک کا ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ ایک ہی بار مکمل سراپائے مصطفی ﷺ کا ذکر شمع رسالت کے پروانوں کے مشام ِجاں معطر کردے۔
حضرت حسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک دریافت کیا جو کہ حضور ﷺ کے حلیہ مبارک سے بخوبی واقف تھے۔ میری خو اہش تھی کہ وہ آقا ومولیٰ نورِ مجسم ﷺ کے اوصاف مجھ سے بیان کریں تاکہ میں انہیں یاد رکھ سکوں اور دل و دماغ میں بسالوں۔
انہوں نے فرمایا،
’’رسول اللّٰہ ﷺ اپنی ذات والا صفات کے لحاظ سے بھی بڑی شان والے تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی عظمت والے تھے۔آپ کا چہرۂ انور چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ آپ میانہ قد والے سے قدرے لمبے اور زیادہ دراز قد سے قدرے پست تھے۔
آپ کا سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ آپ کے بال مبارک قدرے خم دار تھے۔ اگر سر کے بالوں میں خود بخود مانگ نکل آتی تو مانگ رہنے دیتے ورنہ مانگ نکالنے کا اہتمام نہ فرماتے۔ جب بال مبارک بڑھ جاتے تو کانوں کی لو سے تجاوز کر جاتے۔
آقا ﷺ کا رنگ نہایت چمکدار اور پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ آپ کے ابروئے مبارک خم دار، باریک، گھنے اور ایک دوسرے سے جدا تھے۔ ان کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت سرخ ہو جاتی تھی۔
آپ کی ناک مبارک بلندی مائل اور نہایت خوبصورت تھی۔ اس پر ایک نور چمکتا تھا جس کی وجہ سے غور سے نہ دیکھنے والا آپ کی ناک مبارک کو بلند سمجھتا۔
آپ کی داڑھی مبارک گھنی اور رخسار مبارک نرم اور ہموار تھے۔ آپ کا دہن اقدس اعتدال کے ساتھ فراخ تھا۔ دندان مبارک حسین و خوبصورت تھے اور سامنے کے دانتوں کے درمیان باریک باریک ریخیں بھی تھیں۔ سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالوں کی ایک لکیر تھی۔
آپ کی گردن مبارک ایسی حسین اور پتلی تھی کہ جیسے کسی مورت کی گردن صاف تراشی ہوئی ہو اور رنگت میں چاندی کی طرح صاف اور خوبصورت تھی۔
آپ ﷺ کے تمام اعضائے مبارکہ نہایت معتدل، پُر گوشت اور کسے ہوئے تھے۔ پیٹ مبارک اور سینہ اقدس برابر و ہموار تھے۔ سینہ اقدس کشادہ اور چوڑا تھا۔ دونوں کندھوں کے درمیان قدرے فاصلہ تھا۔ آپ کے بدن مبارک کے جوڑ مضبوط اور طاقتور تھے۔جسم اقدس کا کھلا رہنے والا حصہ بھی روشن و چمکدار تھا۔
سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالوں کی لکیر تھی، اس کے علاوہ سینہ اقدس کے اطراف اور شکم مبارک بالوں سے خالی تھے البتہ دونو ں کلائیوں، کندھوں اور سینہ مبارک کے بالائی حصہ پر قدرے بال تھے۔ آپ کی مبارک کلائیاں دراز اور مقدس ہتھیلیاں فراخ تھیں نیز ہتھیلیاں اور دونوں قدم مبارک پُرگوشت تھے۔
آپ کے مبارک ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں مناسب طور پر لمبی تھیں۔ پاؤں مبارک کے تلوے قدرے گہرے تھے، قدم مبارک ہموار تھے اور ان پر پانی نہیں ٹھہرتا تھا۔
آپ جب چلتے تو قوت سے قدم اٹھاتے اور آگے کو جھک کر تشریف لے جاتے۔ آپ قدم مبارک زمین پر آہستہ رکھتے اور چھوٹے چھوٹے قدم چلنے کی بجائے مناسب کشادہ قدم رکھتے۔ جب چلتے تو معلوم ہوتا کہ گویا بلندی سے اتر رہے ہیں۔ جب کسی کی طرف دیکھتے تو پو رے بدن کے ساتھ پھر کر توجہ فرماتے۔ آپ نیچی نگا ہ والے تھے اورآسمان کی بجائے زمین کی طرف زیادہ نظر رکھتے تھے۔ آپ کا زیاد ہ تر دیکھنا گو شۂ چشم (آنکھ کے کنارے )سے ہوتا(یعنی شرم و حیا کے باعث آنکھ بھر کرنہ دیکھتے )۔آپ چلنے میں صحابہ کرام کو آگے روانہ فرماتے، خود پیچھے تشریف لاتے اور جب کسی سے ملتے تو سلام کرنے میں خود ابتدا فرماتے‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص33،36، حدیث نمبر:7،8)

