Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 52 of 120
امام قسطلانی نے مزید فرمایا، مروی ہے کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پیشاب مبارک اور خون مبارک کو بطور تبرک استعمال کیا جا تا تھا۔()
حا فظ ابن حجر شافعی فرما تے ہیں کہ ائمہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضلات مبارکہ کے پاک و طاہر ہونے کو آپ کی خصوصیت قرار دیا ہے۔()
امام نو وی شارح مسلم، امام اعظم ابو حنیفہ و غیرہ ائمہ کرام نے بھی یہی بیان فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کو جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے پچھنے لگوا کر خون دیا اور فرمایا کہ اسے کسی جگہ چھپا دو تو انہوں نے وہ پی لیا۔ آپ کے دریافت فرمانے پر عر ض کی، ’’میں نے آپ کا خو ن اس لیے پی لیا کہ میں جانتا ہوں جس میں آپ کا خو ن ہو گا اسے جہنم کی آگ نہ چھو ئے گی‘‘۔
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ارشاد فرمایا، بیشک تو دوزخ کی آگ سے بچ گیا، مگر افسوس ان پر جو تجھے قتل کر دیں گے اور افسوس کہ تو ان سے نہ بچے گا۔()
اب آخرمیں ایک اور ایمان افروز حدیث ملاحظہ فرمایئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمعبداللہ بن اُبی منافق کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ دراز گوش پر سوار تھے۔ اس منافق نے شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہو ئے کہا، اپنے جانور کو دورلے جاؤ ،اس کی بد بونے مجھے پریشان کردیا ہے۔
یہ سنتے ہی ایک انصاری صحابی نے فرمایا، ’’اللہ تعا لیٰ کی قسم!آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے گدھے کی خوشبو تم سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہے‘‘۔()
اس کی شرح میں محدثین فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دراز گوش نے پیشاب کیا تو اس منافق نے نا گواری کا اظہا ر کیا جس پر حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سواری گدھے کے پیشاب کی بو کو اس منافق سے اور کستوری سے بھی بہتر فرمایا۔() (عمدۃ القاری )
سبحان اللہ!صحابی کا عقیدہ ملا حظہ فرمائیے کہ وہ گدھے کے پیشاب کی بو کو کستوری سے بہترین صرف اس لیے قرار دے رہے ہیں کہ وہ ان کے آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سواری کا جا نور ہے۔ ثابت ہو اکہ جب ایمان دل میں راسخ ہو جا تا ہے تو ہر وہ شے محبوب اورپیاری ہو جاتی ہے جس کی نسبت آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے ہو جائے۔
عارف کامل امام سید ی عبد الوھاب شعرانی فرماتے ہیں کہ شیخ الا سلام سراج البلقینی (جوکہ حافظ ابن حجر کے استا د ہیں)فرمایا کرتے تھے، ’’اللہ تعا لیٰ کی قسم !کاش مجھے نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا بول و براز نصیب ہوجائے تو میں اسے شوق و محبت سے کھاؤں اور پیوں‘‘۔()
باری تعا لیٰ ہمیں بھی اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضلاتِ مبارکہ کی سچی تعظیم و محبت نصیب فرمائے، آمین۔
35...حسن سراپا:
آخر میں اہل محبت کے جذب و کیف کو فزوں کرنے کے لیے و صاف رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی مکمل احادیث پاک کا ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ ایک ہی بار مکمل سراپا ئے مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا ذکر شمع رسالت کے پروانوں کے مشام ِجاں معطر کردے۔
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا حلیہ مبارک دریافت کیا جو کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حلیہ مبارک سے بخوبی واقف تھے۔ میری خو اہش تھی کہ وہ آقا ومولیٰ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اوصاف مجھ سے بیان کریں تاکہ میں انہیں یاد رکھ سکوں اور د ل ودماغ میں بسالوں۔ انہوں نے فرمایا،
Share:
keyboard_arrow_up