Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 52 of 118

امام قسطلانی نے مزید فرمایا، مروی ہے کہ:

رسول معظم  کے پیشاب مبارک اور خون مبارک کو بطور تبرک استعمال کیا جاتا تھا۔
(
مواہب اللدنیہ، ج5، ص551)

 

حافظ ابن حجر شافعی فرماتے ہیں کہ:

ائمہ کرام نے حضور ﷺ   کے فضلات مبارکہ کے پاک و طاہر ہونے کو آپ کی خصوصیت قرار دیا ہے۔
(
رد المختار،ج 1، ص318)

امام نووی شارح مسلم، امام اعظم ابو حنیفہ وغیرہ ائمہ کرام نے بھی یہی بیان فرمایا ہے۔

حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ کو جب حضور ﷺ    نے پچھنے لگوا کر خون دیا اور فرمایا کہ اسے کسی جگہ چھپا دو تو انہوں نے وہ پی لیا۔ آپ کے دریافت فرمانے پر عرض کی،

’’میں نے آپ کا خون اس لیے پی لیا کہ میں جانتا ہوں جس میں آپ کا خون ہوگا اسے جہنم کی آگ نہ چھو ئے گی‘‘۔

آقا و مولیٰ ﷺ   نے ارشاد فرمایا، بیشک تو دوزخ کی آگ سے بچ گیا، مگر افسوس ان پر جو تجھے قتل کر دیں گے اور افسوس کہ تو ان سے نہ بچے گا۔
(
مستدرک، ج3، ص638، حدث نمبر:6343، خصائص الکبری،ج 1، ص118، کتاب الشفاء، ج1، ص64، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص546)

 

اب آخر میں ایک اور ایمان افروز حدیث ملاحظہ فرمایئے۔

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ایک دن سرکار دو عالم ﷺ    عبداللّٰہ بن اُبی منافق کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ دراز گوش پر سوار تھے۔ اس منافق نے شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہو ئے کہا، اپنے جانور کو دورلے جاؤ، اس کی بد بونے مجھے پریشان کردیا ہے۔ یہ سنتے ہی ایک انصاری صحابی نے فرمایا، ’’اللّٰہ تعالیٰ کی قسم!آقا و مولیٰ ﷺ    کے گدھے کی خوشبو تم سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہے‘‘۔
(
بخاری، ج9، ص192، حدیث نمبر:2494، مسلم، ج3، 1424، حدیث نمبر:1799)

 

اس کی شرح میں محدثین فرماتے ہیں کہ:

آقا ﷺ     کے دراز گوش نے پیشاب کیا تو اس منافق نے نا گواری کا اظہار کیا جس پر حضرت عبداللّٰہ بن رواحہ رضی اللّٰہ عنہ نے آقا ﷺ     کی سواری گدھے کے پیشاب کی بو کو اس منافق سے اور کستوری سے بھی بہتر فرمایا۔ (عمدۃ القاری،ج2، 61) (عمدۃ القاری )

سبحان اللّٰہ!صحابی کا عقیدہ ملاحظہ فرمائیے کہ وہ گدھے کے پیشاب کی بو کو کستوری سے بہترین صرف اس لیے قرار دے رہے ہیں کہ وہ ان کے آقا کی سواری کا جانور ہے۔

ثابت ہوا کہ جب ایمان دل میں راسخ ہوجاتا ہے تو ہر وہ شے محبوب اور پیاری ہوجاتی ہے جس کی نسبت آقا و مولیٰ سے ہوجائے۔

 

عارف کامل امام سیدی عبدالوھاب شعرانی فرماتے ہیں کہ:شیخ الا سلام سراج البلقینی (جوکہ حافظ ابن حجر کے استاد ہیں)فرمایا کرتے تھے،

’’اللّٰہ تعالیٰ کی قسم ! کاش مجھے نبی مکرم کا بول و براز نصیب ہوجائے تو میں اسے شوق و محبت سے کھاؤں اور پیوں‘‘۔ (سبل الھدی و الرشاد، ج2، ص 73)

باری تعالیٰ ہمیں بھی اپنے حبیب لبیب کے فضلاتِ مبارکہ کی سچی تعظیم و محبت نصیب فرمائے، آمین۔

Share:
keyboard_arrow_up