34...فضلاتِ مبارکہ :
’’حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کے فضلات مبارکہ طیب و طاہر ہیں۔امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا یہی قول ہے اور شافعی مذہب کے بعض اکابر ائمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ:
حضورِ اکرم ﷺ کے فضلات مبارک کی طہارت اور پاکیزگی پر دلائل موجود ہیں اور ائمہ کرام نے اسے آقاکریم ﷺ کے خصائص میں شمار کیا ہے‘‘۔
(رد المختار،ج 1، ص318)
نور مجسمﷺ کے فضلات مبارکہ بول و براز وغیرہ امت کے حق میں طیب و طاہر تھے مگر سیدِ عالم ﷺ کی عظمتِ شان کے سبب وہ آپ کے لیے نجاست کا حکم رکھتے تھے۔ (فتاوی رضویہ،ج 1، ص584)
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ!آپ بیت الخلا تشریف لے جاتے ہیں جب آپ کے بعد میں وہاں جاتی ہوں تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا بلکہ کستوری سے بھی عمدہ خو شبو آتی ہے۔
ارشاد فرمایا،
’’ہم انبیاء کرام کے اجسام جنتی ارواح کی صفت پر پیدا کیے جاتے ہیں (اسی لیے ہمارا بول و براز اور پسینہ لطیف و پاکیزہ اور خوشبودار ہوتا ہے)اور ان سے جو کچھ نکلتا ہے، اسے زمین نگل لیتی ہے‘‘۔
(کتاب الشفاء، ج1، ص63، خصائص الکبری،ج1، ص120، مواہب اللدنیہ، ج5، ص544)
امام قاضی عیاض، امام زرقانی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں،
’’جب حضور ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو زمین پھٹ جاتی اور آپ کے بول و براز کو نگل لیتی تھی۔ وہاں سے عمدہ اور پاکیزہ خو شبو آیا کرتی تھی‘‘۔ (مدارج النبوۃ،ج1، ص41)
حضرت ام ایمن رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
ایک رات نبی کریم ﷺ نے ایک برتن میں پیشاب فرمایا۔ مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں اٹھ کر اسے پانی سمجھ کر پی گئی کیو نکہ وہ اپنی بہترین خوشبو کی وجہ سے مجھے پیشاب محسوس ہی نہ ہوا۔ صبح آقا ﷺ نے دریافت فرمایا تو میں نے عرض کی، یارسول اللّٰہ ﷺ!میں نے تو اسے پانی سمجھ کر پی لیا ہے۔ یہ سن کر حضورﷺ مسکرا دیے اور فرمایا، آج کے بعد تجھے کبھی پیٹ کی کو ئی بیماری نہ ہوگی۔
(خصائص الکبری،ج 1، ص121،دلائل النبوۃ،ج1، ص427، حدیث نمبر:355، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص648)
اسی طرح ام المو منین ام حبیبہ رضی اللّٰہ عنہا کی برکت نامی کنیز نے بھی حضور ﷺ کا پیشاب مبارک پی لیا تو رحمت عالم ﷺ نے فرمایا،
اے اُم یوسف! تجھے کوئی بیماری لاحق نہ ہو گی سوائے موت کے مرض کے۔
(خصائص الکبری، ج1،ص122)
امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ:
یہ حدیث صحیح ہے، امام دار قطنی نے اسے روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے۔
(مو اہب الدنیہ ج1، ص258)
اما م قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ :
حضور ﷺ نے نہ تو اس عورت کو کلی کرنے کا حکم دیا اور نہ اس سے یہ فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔ یہ حدیث سند کے لحاظ سے صحیح ہے اور امام دارقطنی نے امام مسلم اور امام بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہم کا شکوہ کیا ہے کہ انہوں نے صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں اس حدیث کو کیوں شامل نہ کیا۔
(کتا ب الشفا، ج 1ص52)

