عنبر زمین، عبیر ہوا، مشک تر غبار
ادنٰی سی یہ شناخت تری رہ گذر کی ہے
شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،’’مدینہ طیبہ کے لو گ یہا ں کی مٹی اور درو دیوار سے ایسی خوشبوئیں محسو س کرتے ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کی تمام خو شبوئیں ہیچ ہیں ‘‘۔()
عاشق مدینۃ النبی،اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
گزرے جس راہ سے وہ سید والا ہو کر
رہ گئی ساری زمین عنبر سارا ہو کر
34...فضلاتِ مبارکہ :
’’حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کے فضلات مبارکہ طیب و طاہر ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے اور شافعی مذہب کے بعض اکا بر ائمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حا فظ ابن حجر عسقلا نی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضلات مبارک کی طہارت اور پاکیزگی پر دلائل موجو د ہیں اور ائمہ کرام نے اسے آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے خصائص میں شمار کیا ہے‘‘۔()
نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے فضلات مبارکہ بول و براز و غیرہ امت کے حق میں طیب و طاہر تھے مگر سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی عظمتِ شان کے سبب وہ آپ کے لیے نجاست کا حکم رکھتے تھے۔()
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!آپ بیت الخلا تشریف لے جاتے ہیں جب آپ کے بعد میں وہاں جاتی ہوں تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا بلکہ کستوری سے بھی عمدہ خو شبو آتی ہے۔ ارشاد فرمایا،
’’ہم انبیاء کرام کے اجسام جنتی ارواح کی صفت پر پیدا کیے جاتے ہیں (اسی لیے ہمارا بو ل و براز اور پسینہ لطیف و پاکیز ہ اور خو شبو دار ہوتا ہے)اور ان سے جو کچھ نکلتا ہے، اسے زمین نگل لیتی ہے‘‘۔()
امام قاضی عیاض ،امام زرقانی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں، ’’جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قضائے حا جت کا ارادہ فرماتے تو زمین پھٹ جاتی اور آپ کے بول و براز کو نگل لیتی تھی۔وہاں سے عمدہ اور پاکیزہ خو شبو آیا کرتی تھی‘‘۔()
حضر ت ام ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ایک برتن میں پیشاب فرمایا۔ مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں اٹھ کر اسے پانی سمجھ کر پی گئی کیو نکہ و ہ اپنی بہترین خوشبو کی وجہ سے مجھے پیشاب محسوس ہی نہ ہوا۔صبح آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے دریافت فرمایا تو میں نے عرض کی، یارسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں نے تو اسے پانی سمجھ کر پی لیا ہے۔یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا، آج کے بعد تجھے کبھی پیٹ کی کو ئی بیماری نہ ہوگی۔()
اسی طرح ام المو منین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی برکت نامی کنیز نے بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پیشاب مبارک پی لیا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، اے اُم یوسف! تجھے کوئی بیماری لاحق نہ ہو گی سوائے موت کے مرض کے۔ ()امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے، اما م دار قطنی نے اسے روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے۔()
اما م قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نہ تو اس عورت کو کلی کرنے کا حکم دیا اور نہ اس سے یہ فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔یہ حدیث سند کے لحاظ سے صحیح ہے اور امام دارقطنی نے امام مسلم اور امام بخاری ر حمۃ اللہ علیہم کا شکو ہ کیا ہے کہ انہوں نے صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں اس حدیث کو کیوں شامل نہ کیا۔()
Page 51 of 120

