Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 50 of 118

33...خوشبوئے رسول :

نور مجسم کا جسم اطہر ایسا خو شبودار تھا کہ آپ جہاں سے گذرتے وہ راستے مہکنے لگتے، جو آپ سے مصافحہ کرتا اس کے ہاتھوں سے بھی خوشبو آنے لگتی، آپ جس بچے کے سر پر دست رحمت پھیر تے وہ خو شبو کی وجہ سے پہچانا جاتا، آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو کا دنیا کی کوئی خو شبو مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔

چنداحادیث کریمہ ملاحظہ ہوں۔

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’میں نے کوئی خوشبو یا عطر ایسا نہیں سونگھا جو سرکار اقدس کے جسم اقدس کی خوشبو یا ریح مبارک یا پسینہ مبارک کی طرح خوشبودار ہو‘‘۔ (بخاری، ج11، ص396، حدیث نمبر: 3297، مسلم، ج4، ص1714، حدیث نمبر:2330)

 

بھینی خوشبو سے مہک جاتی ہیں گلیاں واللّٰہ

کیسے پھولوں میں بسائے ہیں تمہارے گیسو

 

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:

آقاومولیٰ جس راستے سے گذر جاتے وہ راستہ آپ کے جسم اطہر کی مہک یا آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو کی وجہ سے ایسا معطر ہوجاتا کہ بعد میں وہاں سے گذرنے والے جان لیتے کہ یہاں سے آقا گذرے ہیں۔
(
مشکوٰۃ، ج3، ص2589، حدیث نمبر:5792، دلائل النبوۃ، ابو نعیم، ج1، ص424، حدیث نمبر:353)

 

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیے ہیں

 

سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

میرےماں باپ آقا پر فداہوں، آپ کےپسینے کی خوشبوکستوری سےبڑھ کر تھی، آپ جیسانہ پہلے کبھی ہوا ہے اورنہ کبھی ہوگا۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص264)

 

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے سرکار دو عالم کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر حضور نے ہر ایک کے رخسار پر دست شفقت پھیرا لیکن میرے دونوں رخسار پر دست مبارک پھیرا۔ میں نے آقا کے دست اقدس کی ٹھنڈک اور خوشبو اس طرح محسوس کی جیسے آپ نے اپناہاتھ مبارک عطرفروش کے ڈبےسےنکالا ہے۔ (مسلم ، ج1، ص334، حدیث نمبر:453)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

نبی کریم ایک دن ہمارے گھر میں بستر پر آرام فرما تھے۔ میری والدہ اُم سلیم رضی اللّٰہ عنہا نے دیکھا کہ آقا کو پسینہ آرہا ہے تو انہوں نے ایک شیشی میں آپ کے بابر کت پسینے کو جمع کرنا شروع کر دیا۔

حضور بیدار ہوگئے اور فرمایا،

ام سلیم! یہ کیا کررہی ہو ؟عرض کی، یا رسول ! ہم اسے اپنی خو شبوؤں میں ملائیں گے تاکہ وہ زیادہ خوشبودار ہوجائیں۔

دوسری روایت میں یہ ہے کہ:

ہم اسے برکت کے لیے اپنے بچوں کو لگاتے ہیں، اس پر حضور نے فرمایا، تم ٹھیک کرتی ہو۔ (بخاری19، ص326، حدیث نمبر:5809، مسلم، ج4، ص1815، حدیث نمبر:2331)

 

بخاری شریف کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ:

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میرے وصال کے بعد جب مجھے اور میرے کفن کو خوشبو لگائی جائے تویہ پسینہ مبارک ضرور لگایا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (بخاری19، ص326، حدیث نمبر:5809)

 

امام طبرانی سے مروی ہے کہ:

ایک شخص اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں سرکار دو عالم کا پسینہ مبارک لے گیا اور اس کے اہل خانہ نے اسے استعمال کیا تو اس کا گھر ایسی عمدہ خوشبو سے مہک اٹھا کہ اہل مدینہ میں’’بیت المطیبین‘‘یعنی خوشبو والوں کا گھر مشہور ہوگیا۔ (خصائص الکبری،ج 1، ص116، مواہب اللدنیہ،ج 5، ص534)

 

واللّٰہ  جو   مل   جائے  مرے   گل  کا   پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ مدینہ طیبہ کے جس راستے سے گذر جاتے وہ راستہ آپ کے جسم اقدس کی خو شبو سے ایسا معطر ہوجاتا کہ بعد میں گزرنے والے جان لیتے کہ یہاں سے آقا گزرے ہیں۔ (خصائص الکبری،ج 1، ص115)

 

عنبر  زمین،  عبیر  ہوا،  مشک  تر   غبار

ادنٰی سی یہ شناخت تری رہ گذر کی ہے

 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

’’مدینہ طیبہ کے لوگ یہاں کی مٹی اور در و دیوار سے ایسی خوشبوئیں محسوس کرتے ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کی تمام خو شبوئیں ہیچ ہیں ‘‘۔
(
مدارج النبوۃ،ج 1، ص41)

 

عاشق مدینۃ النبی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،

گزرے جس راہ سے وہ سید والا ہو کر

رہ گئی ساری زمین عنبر سارا ہو کر

Share:
keyboard_arrow_up