Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 49 of 118

حضرت عبداللّٰہ بن بریدہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:رسولِ معظم کے پاؤں مبارک تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔ (مواہب اللدنیہ،ج 5، ص485)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:

نبی کریم کے پاؤں مبارک مناسب طور پر بڑے تھے۔
(
بخاری، ج5، ص2212، حدیث نمبر:5568)

 

حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

میں نے سرورِ دو جہاں کی زیارت کی،’’مجھے اب بھی آقا کے پا ؤں اقدس کا حسن و جمال یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ پاؤں مبارک کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی دوسری انگلیوں سے لمبی تھی ‘‘۔
(مسند احمد، ج55، ص10، حدیث نمبر:25818)

 

حضرت زراع رضی اللّٰہ عنہ جب وفد عبدالقیس کے ساتھ مدینہ طیبہ پہنچے تو ان لوگوں  نے نبی کریم کے دست اقدس اور پاؤں مبارک کو بوسے دیے۔
(
سنن ابی داؤد، ج13، ص457، حدیث نمبر:4548)

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضور   جب پتھر پر چلتے تو وہ نرم ہو جاتا اور اس پر قدم مبارک کا نشان نظر آتا۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص221، حدیث نمبر:195)

 

آقا کریم   جس خاک پر چلتے تھے، اس خاک پا اور راہ گزر کی اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ارشاد فرمائی ہے۔ (پارہ نمبر: 30، سورۃ  البلد، آیت نمبر:1) یہ حضور کی عظمت و محبوبیت کی دلیل ہے۔

 

کھائی  قرآں  نے  خاک  گزر  کی  قسم

اس کفِ پاکی حرمت پہ لاکھوں سلام

 

32...مقدس ایڑیاں:

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:حضور اکرم کی ایڑیاں مبارک زیادہ بھاری اور موٹی نہیں تھیں بلکہ پتلی تھیں یعنی ان پر گو شت کم تھا۔ (مسلم ،ج 4، ص1820، حدیث نمبر:2339، ترمذی، ج12، ص102، حدیث نمبر:3579)

 

تاجدارِ مدینہ سرورِ قلب و سینہ کی مبارک ایڑیوں کے حسن و جمال کو اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے یوں بیان فرمایا ہے،

 

عارضِ  شمس   و  قمر  سے  بھی ہیں انور ایڑیاں

عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوش تر ایڑیاں

جا   بجا   پر  تو   فگن   ہیں   آسماں   پر   ایڑیاں

دن  کو  ہیں  خورشید  شب  کو  ماہ  و  اختر ایڑیاں

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:

نبی کریم ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللّٰہ عنہم کے ہمراہ کوہ اُحد پر تشریف لے گئے تو اُحد پہاڑ (خو شی سے)ہلنے لگا آپ نے اس پر پاؤں مبارک مارا اور فرمایا، اے احد! ٹھہرجا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شھید ہیں۔
(
بخاری، ج12، ص19، حدیث نمبر:3410)

 

اعلیٰ حضرت امام احمد خاں قادری بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،

 

ایک ٹھوکر سے اُحد کا زلزلہ جاتا رہا

رکھتی ہیں کتنا وقار اللّٰہ اکبر ایڑیاں

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں ،

’’حضور جب چلتے تو قوت اور وقار سے قدم اٹھاتے اور آپ کا جھکاؤ آگے کی جانب ہوتا گویا بلندی سے اُتر رہے ہوں ‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص32، حدیث نمبر:7)

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ آپ کی رفتار مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں،

’’میں نے آپ سے زیادہ تیز رفتار کوئی نہیں دیکھا گویا آپ کے لیے زمین لپیٹی جاتی تھی ہم لوگ مشقت سے تیز چل کر آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ اپنی معمول کی رفتار سے چلتے تھے‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص112، حدیث نمبر:123)

 

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ:

ایک بار حضور ، ابو طالب کے ساتھ مقام ذی المجاز میں تھے کہ دوران سفر انہیں پیاس لگی۔ آقا و مولیٰ نے سواری سے اتر کر قدم مبارک زمین پر مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا۔ جب ابو طالب سیر ہوچکے تو پھر آپ نے قدم مبارک اس جگہ رکھ دیا تو پانی بند ہو گیا۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص290، مواہب اللدنیہ، ج5، ص521)

 

ایک صحابی نے اپنی اونٹنی کے سست رفتار ہونے کی شکایت کی تو آپ نے اس اونٹنی کو پاؤں مبارک سے ٹھوکر لگائی۔ پھر وہ اونٹنی ایسی تیز ہوگئی کہ کسی کو اپنے سے آگے بڑھنے نہیں دیتی تھی۔

Share:
keyboard_arrow_up