حضر ت عبدا للہ بن برید ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاؤں مبارک تمام لوگوں سے زیا دہ خو بصور ت تھے۔()
حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاؤں مبارک مناسب طور پر بڑے تھے۔()
حضر ت میمو نہ بنت کردم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سرورِ دو جہا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی زیارت کی،’’مجھے اب بھی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پا ؤں اقدس کا حسن و جما ل یا د ہے اور یہ بھی یا د ہے کہ پاؤں مبارک کے انگوٹھے کے ساتھ و الی انگلی دوسری انگلیو ں سے لمبی تھی ‘‘۔()
حضرت زراع رضی اللہ عنہ جب وفد عبدا لقیس کے ساتھ مدینہ طیبہ پہنچے تو ان لو گوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دست اقدس اور پاؤں مبارک کو بوسے دیے۔()
حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب پتھر پر چلتے تو وہ نرم ہو جا تا اور اس پر قدم مبارک کا نشان نظر آتا۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجس خا ک پر چلتے تھے، اس خا ک پا اور راہ گزرکی اللہ تعالیٰ نے قسم ارشاد فرمائی ہے۔() یہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی عظمت و محبو بیت کی دلیل ہے۔
کھائی قرآں نے خاک گزر کی قسم
اس کفِ پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام
32...مقدس ایڑیاں :
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ایڑیاں مبارک زیادہ بھاری اور موٹی نہیں تھیں بلکہ پتلی تھیں یعنی ان پر گو شت کم تھا۔()
تا جدا رِ مدینہ سرور ِقلب وسینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک ایڑیو ں کے حسن و جمال کو اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے یو ں بیان فرمایا ہے ،
عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوش تر ایڑیاں
جا بجا پرتو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمابو بکر و عمر و عثمان ر ضی اللہ عنہم کے ہمراہ کوہ اُحد پرتشریف لے گئے تو اُحد پہاڑ (خو شی سے)ہلنے لگا آپ نے اس پر پاؤں مبارک مارا اور فرمایا،اے احد! ٹھہرجا،تجھ پر ایک نبی،ایک صدیق اور دو شھید ہیں۔()
اعلیٰ حضرت امام احمد خاں قادری بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،
ایک ٹھوکر سے اُحد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں
حضرت علی کرم اللہ و جہہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب چلتے تو قوت اور وقار سے قدم اٹھاتے اورآپ کا جھکا ؤآگے کی جانب ہو تا گو یا بلندی سے اُتررہے ہوں ‘‘۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ آپ کی رفتا ر مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں،
’’میں نے آپ سے زیادہ تیز رفتا ر کوئی نہیں دیکھا گویا آپ کے لیے زمین لپیٹی جاتی تھی ہم لو گ مشقت سے تیز چل کر آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ اپنی معمول کی رفتا ر سے چلتے تھے‘‘۔()
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم، ابوطالب کے ساتھ مقام ذی المجاز میں تھے کہ دوران سفر انہیں پیاس لگی۔آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے سواری سے اتر کر قدم مبارک زمین پر مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا۔جب ابو طالب سیر ہو چکے تو پھر آپ نے قدم مبارک اس جگہ رکھ دیا تو پانی بند ہو گیا۔()
ایک صحابی نے اپنی اونٹنی کے سست رفتار ہونے کی شکایت کی تو آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس اونٹنی کو پاؤں مبارک سے ٹھو کر لگائی۔ پھر وہ اونٹنی ایسی تیز ہوگئی کہ کسی کو اپنے سے آگے بڑھنے نہیں دیتی تھی۔
Page 49 of 120

