مالکِ کل، احمدِ مختار، حبیبِ پروردگار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی مبارک انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو ا۔ ()
سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک انگلیوں کے فیوض و برکات سے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو رانِ سفر پانی ختم ہو گیا،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمت اقدس میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں تھو ڑا سا پا نی تھا۔ آپ نے اپنا دست اقدس اس برتن میں رکھا توآپ کی مقدس انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے جس سے تین سو لو گو ں نے وضو کیا۔ ()
۲۔ حضر ت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے بھی آپ کی مبارک انگلیو ں سے پانی کے چشمے جا ری ہو نے کا ذکر فرمایا ہے۔()
۳۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن پانی ختم ہوگیا۔ عرض کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنا دست اقدس ایک ڈول میں رکھا تو آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے۔اس پانی کو ہم سب نے پیا اوروضو کیا۔ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا کہ آپ لوگ اُس و قت کتنے تھے؟ فرمایا، اگر ہم لاکھ بھی ہو تے تو ہمیں کا فی ہو تا مگر ہم پندرہ سو تھے۔()
۴۔ ایک دن آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپانی کے کنارے جلو ہ افروز تھے کہ عکرمہ بن ابو جہل (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے)آگئے اور بو لے ، اگر آ پ سچے ہیں تو دوسرے کنارے پر پڑے ہو ئے فلاں پتھر کو بلائیے۔آپ نے اپنی مبارک انگلی سے اشارہ فرمایا تو وہ پتھر پانی پر تیرتا ہوا حاضر ہو گیا اور اس نے انسانی زبان میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے رسول بر حق ہو نے کی گواہی دی۔ پھر آپ کے حکم پر پتھر وہیں چلا گیا۔()
۵۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ گہو ارے میں لیٹے ہو ئے چاند سے باتیں کررہے تھے اور جس طرف آپ انگلی سے اشارہ فرماتے، چاند اسی طرف ہو جاتا تھا۔()
نور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
30...پنڈلیا ں مبارک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے زانو مبارک دیگر اعضا کی طرح گو شت سے پُر تھے جبکہ پنڈلیا ں مبارک پتلی،چمکدار اور نہایت حسین تھیں۔ سید نا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زانوئے مقدس پُر گوشت تھے‘‘۔()
انبیاء تہ کریں زانو اُن کے حضور
زانوؤں کی وجاہت پہ لاکھوں سلام
حضرت جابر بن سمر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی دو نو ں پنڈلیاں مناسب حدتک پتلی تھیں۔()
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابطح کے مقام پر سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مقدس پنڈلیوں کی زیارت کی۔ وہ منظر میرے ذہن میں ایسا محفوظ ہے کہ گو یا آج بھی میں ان مقدس پنڈلیو ں کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔()
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ ہجرت کی شب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا پیچھا کرتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے تھے اورآپ کی مقدس پنڈلیو ں کی زیا رت انہیں نصیب ہوئی تھی۔ وہ ان کی چمک دمک کو یوں بیا ن فرماتے ہیں ،’’آ پ کی مبارک پنڈلیاں یو ں نظر آرہی تھیں جیسے کھجور کا خوشہ اپنے پردے سے باہر نکل آیا ہو‘‘۔()
اعلیٰ حضر ت محدث بر یلوی علیہ الرحمہ اس با ت کو یو ں بیا ن فرماتے ہیں ،
ساقِ اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم
شمع راہِ اصابت پہ لاکھوں سلام
31...قدمین شریفین:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دو نو ں پا ؤں مبارک نہا یت خو بصور ت،نرم اور گوشت سے پُرتھے ، انگلیاں حسن اعتدال کے ساتھ لمبی اور تلوے قدرے گہرے تھے۔ وصافِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمحضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدمین شریفین گوشت سے پُر تھے ،انگلیاں مبارک خوبصورت اور مناسب طور پر لمبی تھیں ، پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے،قدم مبارک ہموار تھے اور ان پر پا نی ذرابھی نہیں ٹھہرتا تھا‘‘۔()
Page 48 of 120

