29...انگلیاں مبارک:
نبی مکرم ﷺ کے دست اقدس اور آپ کی مبارک انگلیوں کے بارے میں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ
حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک کشادہ تھے اور آپ کی مبارک انگلیاں موزونیت کے ساتھ لمبی تھیں۔ (شمائل ترمذی، ص36، حدیث نمبر:8)
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آقا ﷺ کی مبارک انگلیاں ہتھیلیوں کی جانب سے مو ٹی اورحسن اعتدا ل کے ساتھ دراز تھیں۔ (سبل الھدی و الرشاد، ج2، ص 73)
مالکِ کل، احمدِ مختار، حبیبِ پرور دگار ﷺ ہی کی مبارک انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوا۔ (بخاری، ج11، ص467، حدیث نمبر:3364)
سرکارِ دوعالم نورِ مجسم ﷺ کی مبارک انگلیوں کے فیوض و برکات سے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
دو رانِ سفر پانی ختم ہوگیا، آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں تھو ڑا سا پانی تھا۔ آپ نے اپنا دست اقدس اس برتن میں رکھا تو آپ کی مقدس انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے جس سے تین سو لوگوں نے وضو کیا۔ (بخاری، ج 1، ص337، حدیث نمبر:193)
۲۔ حضر ت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے بھی آپ کی مبارک انگلیو ں سے پانی کے چشمے جاری ہو نے کا ذکر فرمایا ہے۔ (بخاری، 11، ص415، حدیث نمبر:3314)
۳۔ حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حدیبیہ کے دن پانی ختم ہوگیا۔ عرض کرنے پر حضور ﷺ نے اپنا دست اقدس ایک ڈول میں رکھا تو آپ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے۔اس پانی کو ہم سب نے پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے پو چھا گیا کہ آپ لوگ اُس وقت کتنے تھے؟ فرمایا، اگر ہم لاکھ بھی ہو تے تو ہمیں کافی ہوتا مگر ہم پندرہ سو تھے۔ (بخاری، ج3، ص1310، حدیث نمبر:3383، ومسلم،ج3، ص1483، حدیث نمبر:1856)
۴۔ ایک دن آقاومولیٰ ﷺ پانی کے کنارے جلوہ افروز تھے کہ عکرمہ بن ابو جہل (جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے) آگئے اور بو لے ، اگر آ پ سچے ہیں تو دوسرے کنارے پر پڑے ہو ئے فلاں پتھر کو بلائیے۔آپ نے اپنی مبارک انگلی سے اشارہ فرمایا تو وہ پتھر پانی پر تیرتا ہوا حاضر ہوگیا اور اس نے انسانی زبان میں حضور ﷺ کے رسول برحق ہو نے کی گواہی دی۔ پھر آپ کے حکم پر پتھر وہیں چلا گیا۔ (مواہب اللدنیہ،ج 3، ص425)
۵۔ حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:میں نے دیکھا کہ آپ گہوارے میں لیٹے ہو ئے چاند سے باتیں کر رہے تھے اور جس طرف آپ انگلی سے اشارہ فرماتے، چاند اسی طرف ہو جاتا تھا۔ (خصائص کبری ، ج1، ص92، دلائل النبوۃ، ج 1، 420، حدیث نمبر:374)
نور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
30...پنڈلیا ں مبارک:
نبی کریم ﷺ کے زانو مبارک دیگر اعضا کی طرح گوشت سے پُر تھے جبکہ پنڈلیاں مبارک پتلی، چمکدار اور نہایت حسین تھیں۔
سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں،
’’حضور ﷺ کے زانوئے مقدس پُر گوشت تھے‘‘۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص225، حدیث نمبر:199)
انبیاء تہ کریں زانو اُن کے حضور
زانوؤں کی وجاہت پہ لاکھوں سلام
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آقاو مولیٰ ﷺ کی دونوں پنڈلیاں مناسب حد تک پتلی تھیں۔
(ترمذی،ج 12، ص101، حدیث نمبر:3578)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں نے ابطح کے مقام پر سرکاردو عالمﷺ کی مقدس پنڈلیوں کی زیارت کی۔ وہ منظر میرے ذہن میں ایسا محفوظ ہے کہ گو یا آج بھی میں ان مقدس پنڈلیوں کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری،ج 11،ص401، حدیث نمبر:3302)
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ہجرت کی شب حضور ﷺ کا پیچھا کرتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے تھے اور آپ کی مقدس پنڈلیوں کی زیارت انہیں نصیب ہوئی تھی۔ وہ ان کی چمک دمک کو یوں بیان فرماتے ہیں،
’’آپ کی مبارک پنڈلیاں یوں نظر آرہی تھیں جیسے کھجور کا خوشہ اپنے پردے سے باہر نکل آیا ہو‘‘۔ (البدایہ واللنہایہ، ج6،ص17)
اعلیٰ حضر ت محدث بر یلوی علیہ الرحمہ اس بات کو یوں بیان فرماتے ہیں،
ساقِ اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم
شمع راہِ اصابت پہ لاکھوں سلام
31...قدمین شریفین:
حضور اقدس ﷺ کے دونوں پاؤں مبارک نہایت خوبصورت، نرم اور گوشت سے پُر تھے، انگلیاں حسن اعتدال کے ساتھ لمبی اور تلوے قدرے گہرے تھے۔ وصافِ رسول ﷺ حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’نور مجسم ﷺ کے قدمین شریفین گوشت سے پُر تھے، انگلیاں مبارک خوبصورت اور مناسب طور پر لمبی تھیں، پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے، قدم مبارک ہموار تھے اور ان پر پا نی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا ‘‘۔
(شمائل ترمذی،ص36، حدیث نمبر:8)

