Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 47 of 118

28...دستِ اقدس:

رحمت عالم کے ہاتھ مبارک نرم، خوشبودار اور بے حد خوبصورت تھے۔آپ کے دست اقدس پر بیعت کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بیعت قرار دیا۔

(پارہ نمبر: 26، سورۃ   الفتح ، آیت نمبر:10)

 

غزوہ بدر میں آپ کے کنکریاں پھینکنے کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا کنکریاں پھینکنا فرمایا۔ (پارہ نمبر: 10، سورۃ  الانفال، آیت نمبر:17)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ آپ کے مبارک ہاتھوں کے متعلق فرماتے ہیں،

’’میں نے کسی ریشم یا دیباج کو آپ کے دست اقدس سے زیادہ نرم نہیں پایا اور نہ ہی مشک و عنبر وغیرہ کسی خو شبو کو آپ کی خوشبو سے بڑھ کر پایا‘‘۔ (بخاری، ج7، ص83، حدیث نمبر:1837)

 

حضرت ماریہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،

’’میں نے آقا کریم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا اور آ پ کے دست اقدس کو ریشم سے بھی زیادہ ملائم پایا‘‘۔ (انظر: السیرۃ النبویہ لابن کثیر، ج4، ص 650)

 

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:رسول معظم کے مبارک ہاتھ ریشم سے بھی زیادہ نرم و ملائم تھے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، ج1 ، ص 305)

 

آپ ہی سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ:

حضور خوشبو لگاتے یا نہ لگاتے مگر آپ کے ہاتھ مبارک عطار کے ہا تھ کی طرح خو شبو دار ہوتے۔ آپ سے مصافحہ کرنے والے شخص کے ہا تھ سارا دن خوشبو سے مہکتے رہتے اور آپ جس بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے وہ خو شبو کی وجہ سے دو سرے بچوں میں نمایاں ہوجاتا۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص62)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرما تے ہیں، ’’حضور کے مبارک ہاتھ پُر گوشت تھے‘‘۔

رحمت عالم کے جود و سخا کے بارے میں آپ ہی کا ارشاد ہے کہ

’’آقا و مولیٰ کا دست مبارک تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھا‘‘۔

(شمائل ترمذی، ص32، حدیث نمبر:7)

 

حضرت جحیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ:حضور نماز پڑھ کر تشریف لائے تو لوگ آپ کے دست اقدس پکڑ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا دست مبارک پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو اسے برف سے زیاد ہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خو شبودار پایا۔ (بخاری،ج 11، ص388، حدیث نمبر:3289)

 

آقائے دوجہاں کا فرمان عالیشان ہے، زمین کے تمام خزانے میرے ہا تھ میں دے دیے گئے۔ (بخاری،ج2،ص303،حدیث:2977،دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ)

 

آقا علیہ السلام ہی کے دستِ اقدس میں قیامت میں حمد کا جھنڈا دیا جائے گا۔

(سنن ابن ماجہ،ج4ص522، حدیث:4308)

 

مالک و مختار نبی کا ارشادِ گرامی ہے،

’’بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللّٰہ عطا فرمانے والا ہے‘‘۔

(بخاری، ج5، ص124، حدیث نمبر:1258، مسلم ، ج1، ص371، حدیث نمبر:523)

 

حضور ﷺ  کا دستِ اقدس دستِ شفا اور مشکل کشا ہے۔

چند احادیث پیش ہیں :

۱۔ نما ز فجر کے بعد مدینے کے لونڈی غلام پانی کے برتن لاتے اور آپ برکت کے لیے ان میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔ (مسلم، ج1، ص55، حدیث نمبر:27)

 

۲۔ آقا کریم نے حضرت عبد اللّٰہ بن عتیک رضی اللّٰہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی پر دست اقدس پھیر دیا تو وہ صحیح ہوگئی۔ (بخاری، ج12، ص433، حدیث نمبر:3734)

 

۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے حافظہ مانگا، حضور نے مٹھی بھر کر ان کی جھولی میں ڈال دی پھر وہ کبھی کچھ نہ بھو لے۔ (بخاری،ج6، ص2677، حدیث نمبر:6921)

 

۴۔ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ نے مقدما ت کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت مانگی۔ آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا فرمائی۔

وہ فرماتے ہیں، مجھے تمام زندگی کبھی کسی مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے شبہ نہ ہوا۔ (ابن ماجہ، ج1، ص186، حدیث نمبر:155)

 

مالکِ  کونین  ہیں  گو  پاس  کچھ  رکھتے نہیں

دو جہاں کی نعمتیں ہیں اُن کے خالی ہاتھ میں

 

۵۔ حضرت قتادہ رضی اللّٰہ عنہ کی آنکھ غزوہ احد میں تیرلگنے سے باہر نکل آئی۔ حضور نے اپنے دست اقدس سے آنکھ کو اس کی جگہ پر رکھ دیا،وہ فوراً روشن ہوگئی۔ (کتاب الشفاء،ج1،ص322)

 

۶۔ آقاومولیٰ نے حضرت خزیمہ رضی اللّٰہ عنہ کے چہرے پر دست مبارک پھیر دیا تو ان کا چہرہ انتقال تک ترو تازہ رہا۔ (خصائص الکبری، ج2، ص129)

 

۷۔ حضرت ابیض بن حمال رضی اللّٰہ عنہ کے چہرے پر دا غ تھا۔ آپ نے دست اقدس پھیرا تو سب داغ غائب ہو گئے۔ (اصابہ،ج1، ص23)

 

۸۔ حضرت اُسیدبن ابی ایاس کنانی رضی اللّٰہ عنہ کے سینے پر دست اقدس رکھا اور چہرے پر پھیر دیا جب وہ کسی تاریک گھر میں داخل ہو تے تو گھر روشن ہوجاتا۔ (خصائص اللنبوۃ، ج2، ص131)

 

۹۔ حضر موت کے لوگوں کے دلیل طلب کرنے پر آقا ومولیٰ نے کنکریاں اٹھالیں اور ان کنکریوں نے آپ کے دست مبارک میں تسبیح پڑھی۔
(
خصائص الکبری، ج2، ص116، دلائل النبوۃ، ج1، ص218، حدیث نمبر:185)

 

۱۰۔ حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللّٰہ عنہ کے سر پر آپ نے اپنا دست اقدس پھیر کر فرمایا،تجھ میں برکت دی گئی۔پھر جب کسی انسان یا جا نور کے جسم پر ورم ہوجاتا تو حضرت حنظلہ اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر ورم کی جگہ ملتے تو ورم اترجاتا۔ (خصائص کبری، ج2، ص129، مواہب اللدنیہ، ج5، ص459)

 

رحمت عالم کے دست اقدس کے فیوض و برکات کا ذکر کر تے ہوئے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

جس کے ہر خط میں ہے موج نور کرم

اُس کفِ بحرِ ہمت پہ لاکھوں سلام

Share:
keyboard_arrow_up