Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 46 of 118

25...شکم مبارک:

سرکار دو عالم کا شکم مبارک اور سینہ اقدس ہموار اور برابر تھے یعنی نہ تو شکم اقدس سینہ مبارک سے بلند تھا اور نہ ہی سینہ مبارک شکم اقدس سے۔ (دلائل النبوۃ، ج2، ص194، حدیث نمبر:547)

 

امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ:

نبی کریم زیادہ فربہ نہ تھے بلکہ آپ کا جسم اقدس پُھرتیلا اور کم گوشت تھا۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص156)

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:سید عالم کا سینہ اقدس اور شکم مبارک ہموار تھے۔ (شمائل ترمذی، ص36، حدیث نمبر:8)

 

حضرت اُم ہانی رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

میں نے آقا کے شکم مبارک کی زیارت کی، یوں محسوس ہوا جیسے ایک دوسرے پر رکھے ہوئے اور تہہ کیے ہوئے کاغذ ہیں۔ (طبقات الکبری، ج2، ص144)

 

کتب احادیث و سیرت سے ثابت ہے کہ نبی کریم کائنات کے مالک و مختار ہونے کے باوجود رضائے الٰہی کے لیے فاقے کرتے۔سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا آپ کی حالت دیکھ کر رو پڑتیں، آپ شکم اقدس پر پتھر باندھ لیتے تاکہ کمر سیدھی رہے۔ (شمائل ترمذی، ص309، حدیث نمبر:371)

 

حضرت سہل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

رسول معظم نے چھلنی نہ دیکھی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ پوچھاگیا، آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے؟ فرمایا، ہم انہیں پیس کر پھونک مارتے اور جو بچتا، اسے پکا کر کھا لیتے۔ (بخاری، ج17، ص27، حدیث نمبر:4993)

 

کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا

اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

 

26...قلب اطہر:

آقائے دوجہاں کا قلب اطہر اسرار الٰہیہ اور معارف ربانیہ کا مرکز ہے۔ تمام کائنات میں اسی قلب انور کے انوار و کمالات کا فیض جاری ہے۔

امام قسطلانی فرماتے ہیں،

’’حضور کا قلب اطہر سب سے پہلا دل ہے جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے راز کا امین بنایا کیو نکہ آپ کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی‘‘۔ (مواہب اللدنیہ، ج5، ص463)

 

علماء فرماتے ہیں،

’’جو بارِ امانت نورِ مجسم کے قلبِ اطہر  نے اٹھایا، اس کا کوئی متحمل نہیں ہوسکتا تھا‘‘۔ نیز ’’ظاہری اخلاق جو کہ باطنی اخلاق کی علامت ہو تے ہیں، جب ان میں مخلوق میں سے کوئی بھی آپ کے برابر نہ ہوسکا تو کسی کا دل آپ کے دل مبارک کے برابر بھی ہرگز نہیں ہوسکتا‘‘۔ (مدارج النبوۃ، ج، ص31)

 

سورۂ ق کی پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن عطا فرماتے ہیں،

’’ اللّٰہ تعالیٰ  نے اپنے حبیب کے قلب اطہر کی قوت کی قسم ارشاد فرمائی کہ اس نے بلا واسطہ رب تعالیٰ سے گفتگو فرمائی اور دیدار الٰہی کی سعادت حاصل کی اور یہ آپ کے حال و مقام کی بلندی ہے‘‘۔ (کتاب الشفاء، ج1،ص34)

 

یعنی حضور کے قلب اقدس کو باری تعالیٰ نے اتنی طاقت عطا فرمائی کہ اس نے نزول قرآن کو قبول کیا کیونکہ سورۃ الحشر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم ضرور اسے دیکھتے جھکا ہوا، پاش پاش ہوتا‘‘۔ (پارہ نمبر:28، سورۃالحشر، آیت نمبر:21)

 

جانِ کائنات کا قلب اطہر ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے عرض کی،

یارسول اللّٰہ ! آپ وتر پڑھے بغیر سوجاتے ہیں اور پھر اُٹھ کر بغیر وضو کیے وتر ادا فرماتے ہیں؟

ارشاد فرمایا،’’اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل بیدار رہتا ہے‘‘۔(بخاری، ج4، ص319، حدیث نمبر:1079)

محدث علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی خصوصیت ہے کہ ان کے قلب اقدس ہر وقت ہر حالت میں بیدار اور جمالِ حق تعالیٰ کے مشاہدے میں مستغرق رہتے ہیں۔ (جمع الوسائل، ج4، ص319، حدیث نمبر:1079)

 

شب معراج میں جب نور مجسم کاسینہ اقدس شق کیا گیا تو جبریل علیہ السلام نے قلب اطہر آب زم زم سے دھوتے ہوئے فرمایا،

’’اس دل میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں‘‘۔

(فتح الباری، ج3، ص493)

دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں

غنچۂ  رازِ   وحدت   پہ   لاکھوں  سلام

 

27...بازو مبارک:

نبی کریم کے بازو مبارک نہایت خوبصورت، مضبوط اور حسنِ اعتدال کے ساتھ طویل تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ کے دونوں بازو عظیم تھے۔ (طبقات الکبری، ج1، ص422) یعنی بازو مبارک طویل اور قوت والے تھے۔

 

آپ ہی سے مروی ایک اور روایت ہے کہ:

رسول اللّٰہ کی مبارک کلائیاں موزو نیت کے ساتھ لمبی تھیں۔

(مدارج النبوۃ، ج1، ص33)

 

ولی کامل،مجددِ اُمت، اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی فرماتے ہیں،

 

جس کو  بارِ  دو  عالم  کی  پروا نہیں

ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

 

حضرت ہندبن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

نبی کریم کی مبارک کلائیوں پر بال تھے اور آپ کی کلا ئیاں دراز تھیں۔ (شمائل ترمذی، ص36، حدیث نمبر:8)

 

حضورِ اکرم کے مقدس بازوؤں کی طرح مبارک بغلیں بھی سفید تھیں اور ان پر بہت کم بال تھے۔

 

روایات میں ہے کہ: نورِ مجسم کی مبارک بغلیں ہمیشہ خوشبو سے مہکتی رہتیں۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص32)

 

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ

آقا و مولیٰ نبی کریم جب سجدہ کرتے تو آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آیا کرتی۔ (خصائص النبوۃ، ج1، ص109)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے رسول اللّٰہ کو (دعائے استسقاء کے لیے) ہا تھ مبارک اتنے بلند کیے ہوئے دیکھا کہ آپ کی مقدس بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی۔

(بخاری، 2، ص147، حدیث نمبر:377، مسلم، ج2، ص612، حدیث نمبر:895)

Share:
keyboard_arrow_up