Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 46 of 120
محدث علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، یہ انبیاء کرام علیہم السلا م کی خصوصیت ہے کہ ان کے قلب اقدس ہر وقت ہر حالت میں بیدار اور جما لِ حق تعالیٰ کے مشاہدے میں مستغرق رہتے ہیں۔()
شب معراج میں جب نو ر مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاسینہ اقدس شق کیا گیا تو جبریل علیہ السلام نے قلب اطہر آب زمزم سے دھوتے ہوئے فرمایا،’’اس دل میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دوکا ن ہیں جو سنتے ہیں‘‘۔()
دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں
غنچۂ رازِ وحدت پہ لاکھوں سلام
27...بازو مبارک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بازو مبارک نہا یت خو بصورت،مضبوط اور حسنِ اعتدال کے ساتھ طویل تھے۔ حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دو نو ں با زو عظیم تھے۔()
یعنی بازو مبارک طویل اور قوت والے تھے۔آپ ہی سے مروی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک کلائیاں موزو نیت کے ساتھ لمبی تھیں۔()
ولی ٔکامل، مجد دِامت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بر یلو ی فرماتے ہیں،
جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں
ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام
حضرت ہند بن ابی ہا لہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک کلائیوں پر بال تھے اور آپ کی کلا ئیاں دراز تھیں۔()
حضورِاکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مقدس بازوؤں کی طرح مبارک بغلیں بھی سفید تھیں اور ان پر بہت کم بال تھے۔ روایات میں ہے کہ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک بغلیں ہمیشہ خو شبو سے مہکتی رہتیں۔()
حضرت جابررضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ آقا ومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجب سجدہ کر تے توآپ کی مبارک بغلوں کی سفید ی نظر آیا کرتی۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو (دعا ئے استسقاء کے لیے) ہا تھ مبارک اتنے بلند کیے ہو ئے دیکھا کہ آپ کی مقدس بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی۔()
28...دستِ اقدس:
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہا تھ مبارک نرم،خوشبو دار اور بے حد خوبصورت تھے۔آپ کے دست اقدس پر بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیعت قرار دیا()
غزوہ بدر میں آپ کے کنکریا ں پھینکنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کنکریا ں پھینکنا فرمایا۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ کے مبارک ہاتھوں کے متعلق فرماتے ہیں،
’’میں نے کسی ریشم یا د یبا ج کو آپ کے دست اقدس سے زیا د ہ نرم نہیں پا یا اور نہ ہی مشک وعنبر و غیرہ کسی خو شبو کو آپ کی خو شبو سے بڑھ کر پایا‘‘۔()
حضرت ما ریہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں ،’’میں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیا اور آ پ کے دست اقد س کو ریشم سے بھی زیا دہ ملائم پایا‘‘۔()
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک ہاتھ ریشم سے بھی زیادہ نرم وملائم تھے۔()
آپ ہی سے مروی دو سری روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خو شبو لگاتے یا نہ لگاتے مگر آپ کے ہا تھ مبارک عطا ر کے ہا تھ کی طرح خو شبو دار ہوتے۔ آپ سے مصافحہ کرنے والے شخص کے ہا تھ سارا دن خو شبو سے مہکتے رہتے اور آپ جس بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے وہ خو شبو کی وجہ سے دو سرے بچوں میں نما یا ں ہو جاتا۔()
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرما تے ہیں،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک ہا تھ پُر گوشت تھے‘‘۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے جودو سخا کے بارے میں آپ ہی کا ارشاد ہے کہ’’آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دست مبارک تمام لو گو ں سے زیا دہ سخی تھا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up