Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 45 of 120
شیخ الاسلام مجد دِامت اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،
رفع ذکرِ جلالت پہ ارفع درود
شرح صدرِ صدارت پہ لاکھوں سلام
25...شکم مبارک:
سرکا ر دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا شکم مبارک اور سینہ اقدس ہموار اور برابر تھے یعنی نہ تو شکم اقدس سینہ مبارک سے بلند تھا اور نہ ہی سینہ مبارک شکم اقدس سے۔()
امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمزیادہ فربہ نہ تھے بلکہ آپ کا جسم اقدس پھرتیلا اور کم گو شت تھا۔()
حضرت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا سینہ اقدس اور شکم مبارک ہموار تھے۔()
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے شکم مبارک کی زیارت کی، یوں محسوس ہواجیسے ایک دوسرے پر رکھے ہوئے اور تہہ کیے ہوئے کاغذہیں۔()
کتب احادیث وسیرسے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ئنا ت کے ما لک و مختار ہونے کے باوجو د رضائے الٰہی کے لیے فاقے کرتے۔سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی حالت دیکھ کر رو پڑتیں ، آپ شکم اقدس پر پتھربا ندھ لیتے تاکہ کمر سیدھی رہے۔()
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چھلنی نہ دیکھی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ پوچھاگیا، آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے؟فرمایا،ہم انہیں پیس کر پھونک مارتے اور جو بچتا، اسے پکا کر کھالیتے۔()
کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
26...قلب اطہر:
آقائے دو جہا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قلب اطہر اسرار الٰہیہ اور معارف ربانیہ کا مرکز ہے۔ تمام کائنات میں اسی قلب انور کے انوار و کمالات کا فیض جا ری ہے۔
امام قسطلانی فرماتے ہیں،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا قلب اطہر سب سے پہلا دل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راز کا امین بنایا کیو نکہ آپ کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی‘‘۔()
علماء فرماتے ہیں،’’جو با رِ اما نت نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قلبِ اطہر نے اٹھایا، اس کا کو ئی متحمل نہیں ہو سکتا تھا‘‘۔نیز ’’ظاہری اخلاق جو کہ باطنی اخلاق کی علامت ہو تے ہیں، جب ان میں مخلوق میں سے کو ئی بھی آپ کے برابر نہ ہوسکا تو کسی کا دل آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دل مبارک کے برابر بھی ہرگز نہیں ہوسکتا‘‘۔()
سور ۂ قٓ کی پہلی آیت کی تفسیر میں اما م ابن عطا فرماتے ہیں ،
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قلب اطہر کی قوت کی قسم ارشاد فرمائی کہ اس نے بلا و اسطہ رب تعالیٰ سے گفتگو فرمائی اور دیدار الٰہی کی سعادت حاصل کی اور یہ آپ کے حال و مقام کی بلندی ہے‘‘۔()
یعنی حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے قلب اقدس کو باری تعالیٰ نے اتنی طاقت عطا فرمائی کہ اس نے نزول قرآن کو قبول کیا کیو نکہ سورۃ الحشر میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے،
’’اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم ضرور اسے دیکھتے جھکا ہوا، پاش پاش ہوتا‘‘۔()
جا نِ کا ئنا ت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قلب اطہر ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار میں نے عرض کی، یا رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!آپ وتر پڑھے بغیر سوجاتے ہیں اور پھر اُٹھ کر بغیر وضو کیے وتر ادا فرماتے ہیں؟ارشاد فرمایا،
’’ اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل بیدار رہتا ہے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up