Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 44 of 118

23...مہر نبوت:

حضور نبی کریم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان ایک نورانی گوشت کا ٹکڑا تھا جو بدن اقدس کے دیگر اجزا سے اُبھرا ہوا تھا، اسے مہر نبوت کہتے ہیں۔ (مدارج النبوۃ، ج1، ص32)   یہ نبوت کی علامات میں سے تھی۔

 

حضرت سائب بن یزید رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:میں نے مہر نبوت کو دیکھا وہ مسہری کی گھنڈی جیسی تھی(جو کبوتری کے انڈے کے برابر بیضوی شکل میں ہوتی ہے)۔ (صحیح بخاری، ج1، ص321، حدیث نمبر:183، مسلم ، ج17، ص419، حدیث نمبر:5238)

 

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:وہ سرخ غدود کی طرح اور کبوتری کے انڈے کی مثل تھی۔ (مسلم ، ج17، ص419، حدیث نمبر:5238)

 

عمرو بن اخطب انصاری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے آقا و مولیٰ نے فرمایا،

میرے قریب ہوکر میری پشت ملو۔ میں نے پشت مبارک پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں مہر نبوت کوبھی لگیں۔ ان کے شاگرد نے پو چھا، مہر نبوت کیسی تھی؟ فرمایا،کچھ بالوں کا مجموعہ تھی۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ عنہ مہر نبوت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

وہ پشت انور پر اُبھرا ہوا گو شت تھا۔ (شمائل الترمذی، ص42، حدیث نمبر:17)

 

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ:آقا کی پشت اقدس پر گوشت کے ٹکڑے کی مانند مہر نبوت تھی جس پر گوشت سے ہی لکھا ہوا تھا، محمد رسول اللّٰہ ۔ (مستدرک، ج1، ص298، حدیث نمبر:6741،  خصائص کبری، ج2، ص382)

 

چونکہ مہر نبوت کے بارے میں روایات مختلف ہیں اس لئے بعض علماء ان میں تطبیق یوں دیتے ہیں کہ یہ تمام تشبیہات ہیں اور ہر شخص اپنے ذہن اور فہم کے مطابق تشبیہ دیتا ہے۔

 

امام قرطبی فرماتے ہیں کہ:

مہر نبوت کی مقدار بھی کم و زیادہ ہوتی رہتی تھی اور اس کا رنگ بھی مختلف اوقات میں مختلف ہو تا تھا۔

 

بعض علماء فرماتے ہیں کہ:

یہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کے درمیان ایک راز تھا جس کی حقیقت کو کوئی نہیں جانتا۔ احا دیث مبارکہ سے کئی صحا بہ کا مہر نبوت کو چو منا بھی ثابت ہے۔

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

 

حجر  اسود   کعبۂ   جان   و   دل

یعنی مہر نبوت پہ لاکھوں سلام

 

24...سینہ اقدس:

نور مجسم کا سینہ مبارک کشادہ اور چمکدار تھا۔

حضرت ہندبن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کا سینہ اقدس کشادہ اور دونوں شانوں کے درمیان فاصلہ تھا، آپ مضبوط جوڑوں والے تھے، بدن کا کھلا رہنے والا حصہ بھی روشن و چمکدار تھا، سینہ سے ناف مبارک تک بالوں کا ایک باریک خط تھا اس کے سوا سینہ مبارک کے اطراف اور پیٹ پر بال نہ تھے البتہ آپ کے بازوؤں، شانوں اور سینہ اقدس کے اوپری حصہ پر قدرے بال تھے۔ (شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)

 

سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضور کا بدن مبارک بالوں سے صاف تھا (یعنی بہت کم بال تھے )البتہ سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالوں کی باریک اور لمبی لکیر تھی۔

(شمائل ترمذی،ص3ْ3، حدیث نمبر:7)

 

امام بیہقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ :

رسول اللّٰہ کا سینہ انور کشادہ اور ہموار تھا اور چمک دمک میں چودھویں  کے چاند کی طرح تھا۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص268، حدیث نمبر:236)

 

قرآن حکیم میں آپ کے سینہ اقدس چاک کیے جانے کا ذکر سورہ الم نشرح میں ہے۔ آپ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے شرح صدر  کے لیے دعا فرمائی تھی جبکہ آقاومولیٰ کو یہ دولت بن مانگے عطا ہوئی۔

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ:میں  نے آقا و مولیٰ کے سینہ اقدس پر سلائی کے نشان کی زیارت کی ہے۔ (مسلم، ص88، حدیث نمبر:   413، دار الکتاب العربی)

 

علامہ نور بخش توکلی فرماتے ہیں کہ:

آپ کا سینہ اقدس چار بار چاک کیا گیا۔ (سیرت رسولِ عربی، ص 62 مکتبۃ المدینہ)

Share:
keyboard_arrow_up