Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 44 of 120
23...مہر نبوت:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دونوں مبارک شانوں کے درمیان ایک نورانی گوشت کا ٹکڑا تھا جو بدن اقدس کے دیگر اجزا سے اُبھر اہو اتھا،ا سے مہر نبوت کہتے ہیں۔() یہ نبوت کی علامات میں سے تھی۔
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مہر نبوت کو دیکھا وہ مسہری کی گھنڈی جیسی تھی(جو کبو تری کے انڈے کے بر ابر بیضوی شکل میں ہوتی ہے)۔ ()
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ وہ سرخ غدود کی طرح اور کبوتری کے انڈے کی مثل تھی۔()
عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، میرے قریب ہو کر میری پشت ملو۔ میں نے پشت مبارک پر ہا تھ پھیرا تو میری انگلیاں مہر نبوت کو بھی لگیں۔ ان کے شا گر دنے پو چھا، مہر نبوت کیسی تھی ؟فرمایا،کچھ بالوں کا مجموعہ تھی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مہر نبوت کے بارے میں فرما تے ہیں کہ وہ پشت انور پر اُبھرا ہوا گو شت تھا۔()
حضرت ابن عمر ر ضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی پشت اقدس پر گو شت کے ٹکڑے کی مانند مہر نبوت تھی جس پر گو شت سے ہی لکھا ہوا تھا، محمد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)۔ ()
چو نکہ مہر نبوت کے با رے میں رو ایا ت مختلف ہیں اس لئے بعض علماء ان میں تطبیق یوں دیتے ہیں کہ یہ تمام تشبیہات ہیں اور ہر شخص اپنے ذہن اور فہم کے مطابق تشبیہ دیتا ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مہر نبوت کی مقدار بھی کم و زیادہ ہوتی رہتی تھی اور اس کا رنگ بھی مختلف اوقات میں مختلف ہو تا تھا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے درمیا ن ایک راز تھا جس کی حقیقت کو کوئی نہیں جانتا۔ احا دیث مبارکہ سے کئی صحا بہ کا مہر نبوت کو چو منا بھی ثابت ہے۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
حجر اسود کعبۂ جان و دل
یعنی مہر نبوت پہ لاکھوں سلام
24...سینہ اقدس:
نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سینہ مبارک کشادہ اور چمکدار تھا۔
حضرت ہند بن ابی ہا لہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سینہ اقدس کشادہ اور دونوں شانوں کے درمیان فا صلہ تھا،آپ مضبوط جو ڑوں والے تھے،بدن کا کھلا رہنے والا حصہ بھی روشن و چمکدار تھا، سینہ سے ناف مبارک تک با لو ں کا ایک باریک خط تھا اس کے سوا سینہ مبارک کے اطراف اور پیٹ پر بال نہ تھے البتہ آپ کے با زوؤں، شانوں اور سینہ اقدس کے اوپر ی حصہ پر قدرے با ل تھے۔()
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بدن مبارک با لوں سے صاف تھا (یعنی بہت کم بال تھے )البتہ سینہ اقدس سے ناف مبارک تک بالو ں کی باریک اور لمبی لکیر تھی۔()
امام بیہقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سینہ انور کشادہ اور ہموار تھا اور چمک دمک میں چودھو یں کے چاند کی طرح تھا۔()
قرآن حکیم میں آپ کے سینہ اقدس چاک کیے جانے کا ذکر سو ر ہ الم نشرح میں ہے۔ آپ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے شرح صدر کے لیے دعا فرمائی تھی جبکہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ دولت بن مانگے عطا ہوئی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ میں نے آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے سینہ اقدس پر سلائی کے نشان کی زیارت کی ہے۔()
علا مہ نور بخش تو کلی فرماتے ہیں کہ آپ کا سینہ اقدس چار بار چاک کیا گیا۔()
Share:
keyboard_arrow_up