Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 43 of 118

ایک ایمان افروز حدیث شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مدارج النبوۃ میں بیان فرمائی ہے،اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

فتح مکہ کے بعد حضورِ اکرم نے کعبہ شریف میں داخل ہو کر تمام بت توڑ دیے۔ جو بت بلندی پر نصب تھے، ان کے متعلق آپ نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا کہ میرے کندھوں پر سوار ہو کر انہیں توڑدو۔ وہ عرض گذار ہوئے، آقا! میں یہ گستاخی نہیں کرسکتا، آپ میرے کندھوں پر سوار ہوجائیں توز ہے نصیب۔ آپ نے ارشاد فرمایا،

’’اے علی !تم نبوت کا بو جھ نہیں اٹھا سکو گے‘‘۔ پھر شیرِ خدا سر تسلیم خم کرتے ہوئے آپ کے دوش اقدس پر سوار ہو ئے اور بت گرانے شروع کیے۔ آپ نے فرمایا، علی !کس حال میں ہو؟ عرض کی، ’’میری نظروں سے تمام حجابات اُٹھا دیے گئے ہیں، گویا میرا سر عرش کے نزدیک ہے۔ اگر میں ہاتھ بڑھاؤں تو جہاں چاہوں پہنچ جاؤں اور جو چاہوں حاصل کرلوں‘‘۔

پھر جب حضر ت علی رضی اللّٰہ عنہ بت توڑ کر چھلانگ لگا کر نیچے آئے تو مسکرا نے لگے۔ وجہ پوچھی گئی تو عرض کی، میں نے اتنی بلندی سے چھلانگ لگائی مگر مجھے چوٹ نہیں آئی۔

حضور نے فرمایا،

اے علی!تجھے چوٹ کیسے لگتی کہ تجھے اوپر لے جانے والا میں تھا اور نیچے لانے والا جبر یل امین (علیہ السلام)۔ (مدارج النبوۃ، ج2، ص291)

 

دوش بر دوش ہے جن سے شان و شرف

ایسے شانوں کی شوکت پہ لاکھوں سلام

 

22... پشت مبارک:

رحمت عالم کی پشت مبارک کشادہ اور ایسی چمکدار و خو بصورت تھی کہ جیسے پگھلائی ہوئی چاندی ہے۔

حضرت محرش بن عبداللّٰہ الکعبی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

جب سرکار دو عالم جعرانہ میں عمرے کا احرام با ندھ رہے تھے میں نے آپ کی پشت انور کی زیارت کی اور اسے ایسا پایا جیسے چاندی کو پگھلایا گیا ہو۔ (مسند احمد، ج31، ص89، حدیث نمبر:14966)

 

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،

’’حضور اکرم کی پشت مبارک کشادہ تھی‘‘۔ (دلائل النبو ۃ للبیہقی، ج 1، ص 304)

 

یہ حدیث شریف پہلے بیان ہوچکی جس میں آقاومولیٰ کا ارشاد گرامی ہے،

’’میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ‘‘۔

(بخاری،ج 2 ص186، حدیث نمبر:402، مسلم ،ج1، ص319، حدیث نمبر:423)

 

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اسی بات کو یوں بیان فرمایا،

روئے   آئینہ    علم   پشتِ   حضور

پشتی قصر ملت پہ لاکھوں سلام

 

ابن عساکر  نے حضرت جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کیا ہے کہ :

ایک بار میں مکہ آیا تو وہاں سخت قحط سالی تھی۔ قریش نے ابو طالب کی خدمت میں عرض کی، لوگ سخت مصیبت میں گرفتار ہیں، تم خدا سے بارش مانگو۔ پھر ابو طالب سورج کی مثل روشن چہرے والے بچے کو لے کر نکلے۔ چند اور بچے بھی ساتھ تھے۔ ابو طالب نے اس نورانی بچے کی پشت کعبۃ اللّٰہ سے لگا دی۔ اس حسین و جمیل بچے نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی تو دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر بادل چھا گئے اور اتنی بارش ہوئی کہ شہر اور دیہات سب سیراب ہو گئے اور قحط ختم ہو گیا۔

ابو طالب نے قریش کو اپنے اشعار میں اسی واقعہ کی یاد دلا ئی تھی ،

وَاَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ

ثَمَالُ الْیَتٰمٰی عِصْمَۃٌ لِّلْاَرَامِلٖ

یَلُوْذُ بِہٖ الْھَلَاکَ مِنْ آلِ ھَاشِمٖ

فَہُمْ عِنْدَہٗ فِیْ نِعْمَۃٍ وَفَوَاضِلٖ

’’یہ گورے رنگ والا روشن چہرہ جس کے صدقہ میں بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کا محافظ ہے۔ بنو ہا شم جیسے اعلیٰ لوگ ہلاکت کے وقت ان سے فریا د کرتے ہیں اور وہ ان کے پاس آکر نعمتیں اور بر کتیں پاتے ہیں‘‘۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص356، دلائل النبوۃ، ج1، ص270، حدیث نمبر:238)

Share:
keyboard_arrow_up