Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 43 of 120
ایک ایمان افروز حدیث شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مدارج النبوۃ میں بیان فرمائی ہے، اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
فتح مکہ کے بعد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کعبہ شریف میں داخل ہو کرتمام بت توڑ دیے۔ جو بت بلند ی پر نصب تھے، ان کے متعلق آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میرے کندھوں پر سوار ہو کر انہیں توڑدو۔وہ عر ض گذار ہوئے، آقا!میں یہ گستاخی نہیں کرسکتا، آپ میرے کندھوں پر سوا ر ہو جائیں توز ہے نصیب۔ آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ارشاد فرمایا، ’’اے علی !تم نبوت کا بو جھ نہیں اٹھا سکو گے‘‘۔ پھر شیرِ خد اسر تسلیم خم کرتے ہوئے آپ کے دوش اقدس پر سوار ہو ئے اور بت گرانے شروع کیے۔ آپ نے فرمایا، علی !کس حا ل میں ہو؟ عرض کی،’’ میری نظروں سے تمام حجابات اُٹھا دیے گئے ہیں، گویا میرا سر عرش کے نزدیک ہے۔ اگر میں ہاتھ بڑھا ؤں تو جہا ں چاہوں پہنچ جا ؤ ں اور جو چاہوں حاصل کرلوں‘‘۔پھر جب حضر ت علی رضی اللہ عنہبت توڑ کر چھلانگ لگا کر نیچے آئے تو مسکرا نے لگے۔ وجہ پوچھی گئی تو عرض کی، میں نے اتنی بلندی سے چھلانگ لگا ئی مگر مجھے چوٹ نہیں آئی۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،اے علی!تجھے چوٹ کیسے لگتی کہ تجھے اوپر لے جانے والا میں تھا اور نیچے لانے والا جبر یل امین (علیہ السلام)۔ ()
دوش بر دوش ہے جن سے شان و شرف
ایسے شانوں کی شوکت پہ لاکھوں سلام
22... پشت مبارک:
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پشت مبارک کشادہ اور ایسی چمکدار و خو بصورت تھی کہ جیسے پگھلائی ہوئی چاندی ہے۔ حضرت محرش بن عبداللہ الکعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سرکار دو عالمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجعرانہ میں عمرے کا احرام با ندھ رہے تھے میں نے آپ کی پشت انور کی زیارت کی اور اسے ایسا پا یا جیسے چاندی کو پگھلایا گیا ہو۔()
اُم المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ،’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی پشت مبارک کشادہ تھی‘‘۔()
یہ حدیث شریف پہلے بیا ن ہو چکی جس میں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے،’’میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ‘‘۔()
اعلیٰ حضرت علیہ الر حمہ نے اسی با ت کو یوں بیا ن فرمایا،
روئے آئینہ علم پشتِ حضور
پشتی قصر ملت پہ لاکھوں سلام
ابن عسا کر نے حضرت جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کیا ہے کہ ایک با رمیں مکہ آیا تو وہاں سخت قحط سالی تھی۔ قریش نے ابو طالب کی خدمت میں عرض کی،لو گ سخت مصیبت میں گرفتا ر ہیں، تم خدا سے با رش ما نگو۔پھر ابو طالب سورج کی مثل روشن چہرے والے بچے کو لے کر نکلے۔ چند اوربچے بھی ساتھ تھے۔
ابو طالب نے اس نو رانی بچے کی پشت کعبۃ اللہ سے لگا دی۔ اس حسین و جمیل بچے نے آسما ن کی طرف انگلی اٹھا ئی تو دیکھتے ہی دیکھتے آسما ن پر با دل چھاگئے اوراتنی بارش ہوئی کہ شہر اور دیہات سب سیراب ہو گئے اور قحط ختم ہو گیا۔
ابو طالب نے قریش کو اپنے اشعار میں اسی و اقعہ کی یا د دلا ئی تھی ،
وَاَبْیَضُ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
ثَمَالُ الْیَتٰمٰی عِصْمَۃٌ لِّلْاَرَامِلٖ
یَلُوْذُ بِہٖ الْھَلَاکَ مِنْ آلِ ھَاشِمٖ
فَہُمْ عِنْدَہٗ فِیْ نِعْمَۃٍ وَفَوَاضِلٖ
’’یہ گورے رنگ والاروشن چہرہ جس کے صدقہ میں بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کا محا فظ ہے۔بنو ہا شم جیسے اعلیٰ لوگ ہلاکت کے وقت ان سے فریا د کرتے ہیں اور وہ ان کے پاس آکر نعمتیں اور بر کتیں پاتے ہیں‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up