حضر ت ہند رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ریش مبارک گھنی تھی۔()
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’میرے ما ں باپ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمپر قربان ہوں!آپ درمیانہ قد تھے،سرخی مائل سفید رنگت تھی اور گھنی داڑھی‘‘۔()
حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کی ریش مبارک کے با ل نہایت سیاہ اور حسین و خوبصورت تھے اور دونوں اطراف سے برابر تھے۔()
حضر ت عمر و بن شعیب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنی داڑھی مبارک کو لمبائی اور چوڑائی میں تر اشتے اور طول و عرض میں برابر رکھتے تھے۔()
فقہا ء فرماتے ہیں کہ داڑھی مشت بھر رکھنا واجب ہے اور اس سے زائد با لو ں کو ترا شنا سنت ہے۔()
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان روایا ت کا خلا صہ صرف دو اشعار میں بیا ن فرمایا ہے،
خط کی گردِ دہن وہ دل آرا پھبن
سبزۂ نہر رحمت پہ لاکھوں سلام
ریش خوش معتدل مرہم ریش دل
ہالۂ ماہِ ندرت پہ لاکھوں سلام
’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دہنِ اقدس کے گردداڑھی مبارک کا حسن و جما ل مو ہ لیتا ہے آپ کا دہن مبارک علم و حکمت کی نہر ہے اور اس رحمت کی نہر کے گرد داڑھی مبارک سبز ہ کی طرح دکھا ئی دیتی ہے، آپ کی ریش مبارک پر لاکھو ں سلا م ہوں۔
آپ کی ریش مبارک متوازن اور نہا یت خو بصورت ہے، درا صل اس کا دیدار ہی دل کے زخموں کا مرہم ہے۔یو ں لگتا ہے جیسے چہرۂ انو ر کے چاند کے گرد ہا لہ بنا ہوا ہے، آپ کی ریش مبارک پر لاکھوں سلا م ہوں‘‘۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے سر اقدس اور ریش مبارک میں چودہ سے زائد سفید بال نہیں گنے۔بعض روایا ت میں یہ تعداد ۱۸یا ۲۰ بھی آئی ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سرا قدس کے سفید بال تیل لگانے پر ظا ہر نہیں ہوتے تھے۔()
20...گردن مبارک :
نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی گردن مبارک لمبی اور چاندی کی طرح چمکدار تھی۔
حضرت ہند بن ابی ہا لہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مبارک گردن (حسن اعتدال اور خو بصور تی میں)ایسے تھی جیسے کسی مورتی کی تراشی ہوئی گردن ہوتی ہے اور رنگ میں چاند ی کی طرح صاف و سفید اور چمکدار تھی۔()
حضرت ام معبد ر ضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خو بصور ت گردن حسن اعتدال کے ساتھ لمبی تھی۔()
21...دو شِ اقدس :
نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک کندھے نہا یت خو بصورت،فربہ اور مضبو ط تھے۔آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی وجا ہت اور جلالت کو مسحور کن بنارہا تھا۔
محدث ابن سبع روایت کرتے ہیں کہ جب آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلملو گوں میں بیٹھے ہو تے تو آپ کے مبارک شانے سب سے اونچے نظر آتے۔()
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دونوں شانوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا ‘‘۔()
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دوش اقدس کے درمیا ن فاصلہ تھا اور آپ کے جو ڑ نہا یت مضبوط تھے۔ ()حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے شانوں کے جوڑ بھاری اور مضبوط تھے۔()
حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ دوش مبارک کی خو بصورتی یو ں بیا ن فرماتے ہیں،
’’جب آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے دوشِ اقدس سے کپڑا ہٹا تے تو وہ ایسے چمکدار نظر آتے جیسے چاندی کے بنے ہو ئے ہیں‘‘۔()
Page 42 of 120

