Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 42 of 118

19...ریش مبارک :

آقا ئے دو جہاں کی داڑھی مبارک نہایت خوبصورت اور گھنی تھی نیز چہرہ ٔ اقدس اور سینہ مبارک کو ایسے مزین و آراستہ کیے ہوئے تھی کہ دیکھنے والا متاثر ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

حضورِ اکرم کی داڑھی مبارک گھنی تھی۔ (مسلم ،ج4، ص2344، حدیث نمبر:2344)

 

حضرت ہند رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آقا و مولیٰ کی ریش مبارک گھنی تھی۔ (شمائل الترمذی، ص35، حدیث نمبر:8)

 

سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں،

’’میرے ماں باپ آقا پر قربان ہوں! آپ درمیانہ قد تھے، سرخی مائل سفید رنگت تھی اور گھنی داڑھی‘‘۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص266)

 

حضرت ابو ہر یرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آپ کی ریش مبارک کے با ل نہایت سیاہ اور حسین و خوبصورت تھے اور دونوں اطراف سے برابر تھے۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص361)

 

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم اپنی داڑھی مبارک کو لمبائی اور چوڑائی میں تراشتے اور طول و عرض میں برابر رکھتے تھے۔ (ترمذی،ج 9، ص428، حدیث نمبر:2686)

 

فقہاء فرماتے ہیں کہ داڑھی مشت بھر رکھنا واجب ہے اور اس سے زائد بالوں کو تراشنا سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج22،ص590)

 

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ان روایات کا خلا صہ صرف دواشعار میں بیان فرمایا ہے،

خط  کی  گردِ  دہن  وہ  دل  آرا  پھبن

سبزۂ  نہر  رحمت  پہ   لاکھوں  سلام

ریش  خوش معتدل  مرہم  ریش  دل

ہالۂ   ماہِ   ندرت   پہ   لاکھوں   سلام

 

’’حضور ﷺ  کے دہنِ اقدس کے گرد داڑھی مبارک کا حسن و جمال موہ لیتا ہے آپ کا دہن مبارک علم و حکمت کی نہر ہے اور اس رحمت کی نہر کے گرد داڑھی مبارک سبز ہ کی طرح دکھائی دیتی ہے، آپ کی ریش مبارک پر لاکھوں سلام ہوں۔

 

آپ کی ریش مبارک متوازن اور نہا یت خوبصورت ہے، دراصل اس کا دیدار ہی دل کے زخموں کا مرہم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے چہرۂ انور کے چاند کے گرد ہالہ بنا ہوا ہے، آپ کی ریش مبارک پر لاکھوں سلا م ہوں‘‘۔

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے نبی اکرم کے سر اقدس اور ریش مبارک میں چودہ سے زائد سفید بال نہیں گنے۔ بعض روایات میں یہ تعداد ۱۸ یا ۲۰ بھی آئی ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ سرا قدس کے سفید بال تیل لگانے پر ظا ہر نہیں ہوتے تھے۔

(شمائل ترمذی، ص325، حدیث نمبر:384)

 

20...گردن مبارک :

نور مجسم کی گردن مبارک لمبی اور چاندی کی طرح چمکدار تھی۔

 

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

نبی کریم کی مبارک گردن (حسن اعتدال اور خوبصورتی میں)ایسے تھی جیسے کسی مورتی کی تراشی ہوئی گردن ہوتی ہے اور رنگ میں چاندی کی طرح صاف و سفیداور چمکدار تھی۔ (شمائل ترمذی، ص36 ، حدیث نمبر:8)

 

حضرت ام معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

آپ کی خوبصورت گردن حسن اعتدال کے ساتھ لمبی تھی۔

(دلائل النبوۃ، ج1، ص276، حدیث نمبر:232)

 

21...دو شِ اقدس:

نبی مکرم کے مبارک کندھے نہایت خو بصورت، فربہ اور مضبو ط تھے۔آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا جو آپ کی وجاہت اور جلالت کو مسحور کن بنا رہا تھا۔

محدث ابن سبع روایت کرتے ہیں کہ جب آقا و مولیٰ لوگوں میں بیٹھے ہو تے تو آپ کے مبارک شانے سب سے اونچے نظر آتے۔ (مواہب اللدنیہ، ج7، ص199)

 

حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’نبی اکرم کے دونوں شانوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا ‘‘۔

(شمائل ترمذی، ص35، حدیث نمبر:8)

 

حضر ت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آقا کے دوش اقدس کے درمیان فاصلہ تھا اور آپ کے جوڑ نہایت مضبوط تھے۔ (شمائل ترمذی، ص32 ، حدیث نمبر:7)

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ:

آقا کے شانوں کے جوڑ بھاری اور مضبوط تھے۔ (شمائل ترمذی، ص32 ، حدیث نمبر:7)

 

حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللّٰہ عنہ دوش مبارک کی خوبصورتی یوں بیان فرماتے ہیں،

’’جب آقا و مولیٰ اپنے دوشِ اقدس سے کپڑا ہٹا تے تو وہ ایسے چمکدار نظر آتے جیسے چاندی کے بنے ہو ئے ہیں‘‘۔

(دلائل النبوۃ،ج1، ص211، حدیث نمبر:186 )

Share:
keyboard_arrow_up