حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
آقا ﷺ نہایت مسحور کن لہجے میں گفتگو فرماتے تھے۔ حضرت اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کی آواز گو نج دار تھی۔ (البدایہ والنہایۃ،ج 3، ص231)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے،
’’اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والے مبعوث فرمائے اور تمہارے نبی کا چہرہ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور اس کی آواز سب سے زیادہ دلکش ہے۔ (السیرۃ الحلبیہ، ج3، ص466)
جس میں نہریں ہیں شیر و شکر کی رواں
اس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام
17...دندانِ اقدس:
سرکارِ دو عالم ﷺ کے دندان مبارک کشادہ اور روشن و تاباں تھے اور موتیوں کی لڑی کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ ان کے درمیان باریک ریخیں تھیں، جب آپ کلام یا تبسم فرماتے تو ان سے نور نکلتا دکھائی دیتا۔
حضرت ہند ابی ہا لہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
حضورِانور ﷺ کےدانت مبارک نہایت چمکدار و کشادہ تھے۔ جب آپ مسکراتے تو دندانِ اقدس (برف کے)اولوں کی طرح (سفید) نظر آتے۔
(شمائل الترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’جب آقا و مولیٰ ﷺ تبسم فرماتے تو آپ کے منہ مبارک سے ایسا نور نکلتا کہ دیواریں روشن ہوجاتیں۔ (دلائل النبوۃ،ج 1، ص162، حدیث نمبر:141)
آپ سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ:
حضورِ اکرم ﷺ کے مبارک دانتوں کے درمیا ن سے نور نکلتا دکھا ئی دیتا تھا۔
(شمائل الترمذی،ص41، حدیث نمبر:15)
جن کے گچھے سے لچھے جھڑیں نور کے
اُن ستاروں کی نزہت پہ لاکھوں سلام
18...لب ہا ئے نازک:
نبی کریم ﷺ کے مبارک ہو نٹ خو بصورت،لطیف و نازک اور سرخی مائل سفید تھے۔
علامہ نبہانی امام طبرانی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ:
رسول معظم ﷺ کے لب ہائے اقدس، اللّٰہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص270،حدیث نمبر:238)
ایک دو سری رو ایت میں امام طبرانی نے آقا کریم علیہ السلام کے مبارک ہو نٹوں کا الطف یعنی نرم و نازک ہونا بیان فرمایا ہے۔امام زرقانی فرما تے ہیں کہ:
بعض علماء کے نزدیک نور مجسم ﷺ کے مبارک ہونٹ حسین، نرم و نازک اور حسن اعتدال کے ساتھ پتلے تھے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بر یلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
پتلی پتلی گلِ قدس کی پتیاں
ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام
حضرت ام معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’حضور ﷺ کی گفتگو موتیوں کی لڑی معلوم ہوتی جس سے موتی جھڑ رہے ہوں ‘‘۔ (کنز العمال، ج16، ص672، حدیث نمبر:46300)
اعلیٰ حضرت محدث بر یلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس وصف کو اور لب ہائے نازک کے دیگر اوصاف کو ایک شعر میں یوں سمو دیاہے،
وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
حضرت فضل بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آقا و مولیٰ ﷺ کو قبر انور میں لٹا دیا گیا تو میں نے آخری بار آپ کے چہرۂ اقدس کا دیدار کیا۔ میں نے دیکھا کہ آقا ﷺ کے لب مبارک حرکت کررہے ہیں۔ میں نے کان نزدیک کرکے سنا تو آپ فرما رہے تھے،
اللھم اغفر لامتی
یعنی ’’اے اللّٰہ میری امت کو بخش دے ‘‘۔
(مدارج النبو ۃ، ج2، ص 442)

