Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 41 of 120
اس کی باتوں کی لذت پہ لاکھوں درود
اس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنہا یت مسحور کن لہجے میں گفتگو فرماتے تھے۔ حضرت اُم معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کی آواز گو نج دار تھی۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے، ’’اللہ تعا لیٰ نے تمام انبیائے کرام خوبصورت چہرے اور دلکش آواز والے مبعوث فرمائے اور تمہارے نبی کا چہرہ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور اس کی آواز سب سے زیا دہ دلکش ہے۔()
جس میں نہریں ہیں شیر و شکر کی رواں
اس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام
17...دندا نِ اقدس :
سر کا رِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دندا ن مبارک کشادہ اور رو شن و تا با ں تھے اور موتیو ں کی لڑی کی طرح دکھا ئی دیتے تھے۔ ان کے درمیان با ریک ریخیں تھیں، جب آپ کلام یا تبسم فرماتے تو ان سے نور نکلتا دکھا ئی دیتا۔
حضرت ہند ابی ہا لہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دانت مبارک نہایت چمکدار و کشادہ تھے۔ جب آپ مسکراتے تو دندانِ اقدس (برف کے)اولوں کی طرح (سفید) نظر آتے۔()
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’جب آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تبسم فرماتے تو آپ کے منہ مبارک سے ایسا نور نکلتا کہ دیو اریں روشن ہو جا تیں۔()
آپ سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک دانتوں کے درمیا ن سے نور نکلتا دکھا ئی دیتاتھا۔()
جن کے گچھے سے لچھے جھڑیں نور کے
اُن ستاروں کی نزہت پہ لاکھوں سلام
18...لب ہا ئے نازک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک ہو نٹ خو بصورت،لطیف و نازک اورسرخی ما ئل سفیدتھے۔
علامہ نبہا نی امام طبرانی کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لب ہائے اقدس، اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیا د ہ خوبصورت تھے۔()
ایک دو سری رو ایت میں امام طبر انی نے آقا کریم علیہ السلا م کے مبارک ہو نٹوں کاالطف یعنی نرم و نا زک ہو نا بیا ن فرمایا ہے۔امام زرقانی فرما تے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے مبارک ہو نٹ حسین،نرم و نازک اورحسن اعتدال کے ساتھ پتلے تھے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بر یلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
پتلی پتلی گلِ قدس کی پتیاں
ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی گفتگوموتیوں کی لڑی معلوم ہوتی جس سے موتی جھٹررہے ہوں ‘‘۔()
اعلیٰ حضرت محدث بر یلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس و صف کو اور لب ہائے نازک کے دیگر اوصاف کو ایک شعر میں یوں سمودیاہے،
وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
حضرت فضل بن عباس ر ضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو قبر انو ر میں لٹا دیا گیا تو میں نے آخری با ر آپ کے چہرۂ اقدس کا دیدار کیا۔ میں نے دیکھا کہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لب مبارک حرکت کررہے ہیں۔میں نے کان نزدیک کرکے سنا تو آپ فرما رہے تھے، اللھم اغفر لامتی یعنی ’’اے اللہ میری امت کو بخش دے ‘‘۔()
19...ریش مبارک :
آقا ئے دو جہا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی داڑھی مبارک نہا یت خو بصورت اور گھنی تھی نیز چہرہ ٔ اقدس اور سینہ مبارک کو ایسے مزین و آراستہ کیے ہوئے تھی کہ دیکھنے والا متا ثر ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی داڑھی مبارک گھنی تھی۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up