15...زبانِ اقدس:
نبی کریم ﷺ کی زبانِ اقدس وحی ٔالٰہی کی ترجمان تھی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت کے سامنے عرب کے بڑے بڑے فصحاء گونگے نظر آتے۔
حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے ایک دن بارگاہِ رسالت میں عرض کی،یارسول اللّٰہ ﷺ! میں نے سارے عرب کے فصحاء کو سنا ہے مگر آپ سے بڑھ کر کسی کو فصیح نہ پایا۔
آپ نے فرمایا،
’’میرے رب نے میری تر بیت فرمائی ہے اور میر ی پرورش بنی سعد میں ہوئی ہے‘‘۔ (خصائص النبوۃ، ج1، ص110، مواہب اللدنیہ،ج5، ص298)
مجددِ امت،ولی ٔ کامل، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
ترے آگے یوں ہیں دبے لچے، فصحاء عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منہ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
آقائے دو جہاں ﷺ جانوروں، پتھروں، درختوں اور دیگر مخلوق کی بولیاں جانتے تھے،اس بارے میں متعدد احادیث واردہوئی ہیں جنہیں مشکوٰۃباب المعجزات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں کو ئی شخص کسی بھی زبان میں گفتگو کرتا آپ اس سے اسی کی زبان میں کلام فرماتے کیو نکہ آپ تمام مخلوق کی زبانیں جانتے ہیں۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص80)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
رسول معظم ﷺ تمہاری طرح تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ و اضح اور ٹھہر کر گفتگو فرماتے کہ سننے والا اسے با آسانی یاد کرلیتا۔
(شمائل ترمذی، ص183، حدیث نمبر:223)
اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود
اس کی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام
نبی مکرم ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اُمور تکو ینیہ کا مالک و مختار بنایا ہے اسی لیے آپ کی زبا نِ حق ترجمان سے جو بات بھی نکلتی، ضرور پوری ہوتی۔
ایک بار ایک شخص نے تکبر کی وجہ سے بائیں ہاتھ سے کھایا۔ آپ کے منع فرمانے پر بولا، میں دائیں ہاتھ سے کھا نے کی طاقت نہیں رکھتا۔
آپ ﷺ نے فرمایا،
اب کبھی طاقت نہ رکھے گا۔ چنانچہ پھر وہ اپنا ہاتھ کبھی منہ تک نہ اٹھا سکا۔ (مسلم،ج3، ص1599، حدیث نمبر:2021)
ایک مرتبہ دشمنِ رسول، حکم بن ابی العاص نے آپ کو ستانے کے لیے منہ بگاڑا۔
آپ نے فرمایا،
کن کذالک۔
’’ایسا ہی ہو جا ‘‘
پھر اس کا چہرہ بگڑاہی رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ (خصائص کبری، ج2، ص122)
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
16...آواز مبارک:
حضور ﷺ کی آواز اور لہجہ مبارک سارے انسانوں سے بڑھ کر حسین اور دلکش تھا۔
آقا و مولیٰ ﷺ جب چاہتے آپ کی آواز مبارک دور و نز دیک کے سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر یکساں سن لیا کرتے تھے، جیساکہ سوا لاکھ سے زائد صحابہ کرام نے آخری حج میں آپ کا خطبہ سنا۔
(نسائی، ج10 ص14، حدیث نمبر:2957، سنن ابی داؤد،ج11، ص103، حدیث نمبر:3551)
حضرت قتادہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
حضورِ انور ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے حسین چہرے اور دلکش آواز کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ (طبقات کبری،ج 1، ص376)
حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
آقا کریم ﷺ نے نما ز عشاء میں سورہ والتین تلاوت فرمائی میں نے ایسی حسین آواز کبھی نہیں سنی۔ (بخاری، ج3، ص220، حدیث نمبر:725،مسلم ،ج1، ص339، حدیث نمبر464)
آپ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک روز ہمیں خطبہ دیا۔ آپ کی آواز اتنی بلند تھی کہ گھروں میں بیٹھی خواتین نے بھی آپ کا وعظ سنا۔ (دلائل النبوۃ، ج6، ص499)
حضرت عبد الرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللّٰہ عنہ نے بھی ایسا ہی بیان فرمایا ہے۔ (عون المعبود،ج13، ص153)
حضرت ام ہانی رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آقا و مولیٰ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کا لہجہ رعب دار ہو جاتا اور آپ کی آواز مبارک بلند ہوجاتی گویا کہ آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہیں کہ تم پر اب حملہ ہوا چاہتا ہے۔
(خصائص کبری،ج 1، ص114)
اس کی باتوں کی لذت پہ لاکھوں درود
اس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام

