جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے
اُس زُلالِ حلاوت پہ لاکھوں سلام
15...زبانِ اقدس :
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی زبا نِ اقدس وحی ٔ الٰہی کی ترجمان تھی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت کے سامنے عرب کے بڑ ے بڑے فصحاء گونگے نظر آتے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک دن بارگاہِ رسالت میں عر ض کی،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں نے سارے عرب کے فصحا ء کو سنا ہے مگر آپ سے بڑھ کر کسی کو فصیح نہ پایا۔ آپ نے فرمایا،’’میرے رب نے میری تر بیت فر مائی ہے اور میر ی پرورش بنی سعد میں ہوئی ہے‘‘۔()
مجددِا مت،ولی ٔ کا مل ،اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
ترے آگے یوں ہیں دبے لچے، فصحاء عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منہ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
آقائے دوجہا ں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمجانو روں،پتھروں ،درختوں اور دیگر مخلوق کی بولیاں جانتے تھے، اس بارے میں متعد داحادیث وارد ہوئی ہیں جنہیں مشکوٰۃباب المعجزات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمت اقدس میں کو ئی شخص کسی بھی زبان میں گفتگو کرتا آپ اس سے اسی کی زبان میں کلام فرماتے کیو نکہ آپ تمام مخلو ق کی زبانیں جانتے ہیں۔()
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمہاری طرح تیز گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ و اضح اور ٹھہر کر گفتگو فرماتے کہ سننے والا اسے باآسانی یا د کر لیتا۔()
اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود
اس کی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام
نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اُمور تکو ینیہ کا مالک و مختا ر بنایاہے اسی لیے آپ کی زبا نِ حق ترجمان سے جو بات بھی نکلتی، ضرور پور ی ہوتی۔
ایک بار ایک شخص نے تکبر کی وجہ سے بائیں ہاتھ سے کھایا۔ آپ کے منع فرمانے پر بولا، میں دائیں ہاتھ سے کھا نے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،اب کبھی طاقت نہ رکھے گا۔ چنانچہ پھر وہ اپنا ہاتھ کبھی منہ تک نہ اٹھا سکا۔()
ایک مرتبہ دشمنِ رسول،حکم بن ابی العاص نے آپ کو ستانے کے لیے منہ بگاڑا۔ آپ نے فرمایا، کن کذالک۔ ’’ایسا ہی ہو جا ‘‘پھر اس کا چہرہ بگڑاہی رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ ()
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
16...آواز مبارک:
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی آوازاور لہجہ مبارک سارے انسا نو ں سے بڑھ کر حسین اور دلکش تھا۔
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب چاہتے آپ کی آواز مبارک دور و نز دیک کے سب لو گ اپنی اپنی جگہ پر یکساں سن لیا کرتے تھے، جیساکہ سوالا کھ سے زائد صحابہ کرام نے آخری حج میں آپ کا خطبہ سنا۔()
حضر ت قتا دہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ انورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اللہ تعا لیٰ نے حسین چہرے اور دلکش آواز کے ساتھ مبعوث فرمایا۔()
حضر ت برا ء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے نما ز عشاء میں سورہ والتین تلاوت فرمائی میں نے ایسی حسین آواز کبھی نہیں سنی۔()
آپ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ایک روز ہمیں خطبہ دیا۔ آپ کی آواز اتنی بلند تھی کہ گھروں میں بیٹھی خواتین نے بھی آپ کا وعظ سنا۔()
حضرت عبد الرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہنے بھی ایسا ہی بیا ن فرمایا ہے۔()
حضر ت ام ہا نی رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ جب آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمخطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کا لہجہ رعب دار ہو جا تا اور آپ کی آواز مبارک بلند ہو جا تی گو یا کہ آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہیں کہ تم پر اب حملہ ہو اچاہتا ہے۔()
Page 40 of 120

