Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 39 of 118

 13...دہن اقدس:

حضور ﷺ  کا منہ مبارک حسن اعتدال کے ساتھ فراخ و کشادہ تھا۔ آپ کو کبھی جمائی نہیں آئی کیونکہ جمائی شیطان کے اثر سے ہوا کر تی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام شیطان کے اثر سے محفوظ اور معصوم ہیں۔

(مواہب اللدنیہ، ج7، ص199)

 

حضرت ہند رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’نبی مکرم کا دہن مبارک فراخ تھا‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص35، حدیث نمبر:8)

 

جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ: 

’’رسول معظم  کا دہن مبارک کشادہ تھا‘‘۔ (مسلم، ج4، ص1820، حدیث نمبر:2339)

 

علماء فرماتے ہیں کہ:

عرب تنگ منہ کو نا پسند کرتے اور فراخ منہ کو اچھا جانتے تھے۔ سرکار دو عالم کا دہن اقدس تو اس لیے با عظمت و باکمال تھا کہ اس سے نکلنے والی ہر بات اللّٰہ تعالیٰ کی وحی ہوتی تھی۔

جیسا کہ سور ہ النجم کی آیت 3اور 4میں ارشاد ہوا، 

’’اور وہ کو ئی با ت اپنی خواہش سے نہیں کرتے،وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔ (پارہ نمبر: 27، سورۃ النجم، آیت نمبر:3،4)

 

ابو داؤد میں حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہما کی روایت موجود ہے کہ:قریش  نے مجھے حضور کی ہر بات لکھنے سے منع کیا۔ میں نے یہ بات بارگاہ نبوی میں عرض کی تو ارشاد ہوا ،

’’لکھو! خدا کی قسم اس منہ سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں‘‘۔

(مسلم، ج4، ص2298، حدیث نمبر:3004)

 

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

وہ  دہن  جس  کی  ہر بات وحی ٔ خدا

چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

 

غزوہ خیبر کے دن حضرت سلمہ بن اکوَ ع رضی اللّٰہ عنہ کی پنڈلی میں ایسا زخم لگا کہ لوگوں کو گمان ہوا کہ وہ شہید ہوگئے۔ جب وہ آقا و مولیٰ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو ئے تو رحمت عالم نے تین دفعہ دَم فرما دیا پھر انہیں کبھی تکلیف نہ ہوئی۔ (بخاری،ج 13، ص106، حدیث نمبر:3884)

 

14...لعاب دہن مبارک :

آقا و مولیٰ کا لعاب دہن مبارک زخمیوں اور بیماروں کے لیے شفا اور زہر کے لیے تریاق تھا۔ جب غار ثور میں سیدنا ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کو سانپ نے کاٹا تو اس کے زہر کا اثر آپ ہی کے لعاب دہن سے دور ہوا۔

سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کے آشوب چشم کی یہ دواء بنا،

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ عنہ کی آنکھ غزوہ بدر میں پھوٹ گئی جو آپ کے لعاب دہن لگا کر دعا فرمانے سے پھر روشن ہو گئی۔ (خصائص کبری، ج2،ص110)

 

یونہی حضرت قتادہ رضی اللّٰہ عنہ کی نکلی ہوئی آنکھ کو آپ نے روشن فرما دیا۔ (کتاب الشفاء،ج1،ص322)

 

غزوہ خندق کے دن آقا نے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ کے گھر آٹے اور سالن میں لعاب دہن ڈال دیا تو وہ تھوڑا سا کھانا ایک ہزار صحابہ کے لیے کافی ہوگیا، سب نے سیر ہو کر کھایا پھر بھی کھانا ایسے باقی رہا جیسے کسی نے کھایا ہی نہیں۔ (بخاری، ج4، ص1505، حدیث نمبر:3876)

 

جس کے پانی سے شاداب جان و جناں

اس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام

 

آپ ﷺ      نے اپنا لعاب دہن حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کے کنوئیں میں ڈال دیا تو اس کا پا نی شیریں ہو گیا کہ ایسا میٹھا پانی کسی اور کنویں کا نہ تھا۔

(خصائص کبری، ج1، ص107)

 

نبی کریم کی خدمت میں ایک ڈول میں پانی لایا گیا آپ نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور کچھ کلی کرکے ایک کنویں میں ڈال دیا تو اس کنویں کے پانی میں سے کستوری کی مانند خوشبو آنے لگی۔

(مواہب اللدنیہ، ج5،ص289 خصائص کبری، ج1، ص107)

حدیبیہ کے دن آقا و مولیٰ نے وضو کرکے پانی کی ایک کلی خشک کنویں میں ڈال دی تو پچیس دن تک تمام لشکر اس پانی سے سیراب ہوتا رہا۔

(بخاری، ج11، ص413، حدیث نمبر:3312)

جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے

اُس  زُلالِ  حلاوت   پہ   لاکھوں  سلام

Share:
keyboard_arrow_up