Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 39 of 120
ان کے خد کی سہولت پہ بے حد درود
ان کے قد کی رشاقت پہ لاکھوں سلام
13...دہن اقدس:
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا منہ مبارک حسن اعتدال کے ساتھ فراخ و کشادہ تھا۔ آپ کو کبھی جمائی نہیں آئی کیو نکہ جمائی شیطا ن کے اثر سے ہوا کر تی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام شیطان کے اثر سے محفوظ اور معصوم ہیں۔()
حضرت ہند رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ’’نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دہن مبارک فراخ تھا‘‘۔()
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دہن مبارک کشادہ تھا‘‘۔()
علماء فرماتے ہیں کہ عرب تنگ منہ کو نا پسند کرتے اور فراخ منہ کو اچھا جانتے تھے۔ سرکا ر دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دہن اقدس تو اس لیے با عظمت و با کما ل تھا کہ اس سے نکلنے والی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی ہوتی تھی۔ جیسا کہ سور ہ النجم کی آیت 3اور 4میں ارشاد ہوا،()’’اور وہ کو ئی با ت اپنی خواہش سے نہیں کرتے،وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے‘‘۔
ابو داؤد میں حضر ت عبدا للہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت موجود ہے کہ قریش نے مجھے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی ہر با ت لکھنے سے منع کیا۔میں نے یہ با ت با رگا ہ نبوی میں عرض کی تو ارشاد ہوا ،’’ لکھو!خدا کی قسم اس منہ سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں‘‘۔()
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
وہ دہن جس کی ہر بات وحی ٔ خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
غزوہ خیبر کے دن حضرت سلمہ بن اکوَ ع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایسا زخم لگا کہ لو گوں کو گمان ہوا کہ وہ شہید ہو گئے۔جب وہ آقاومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمت اقدس میں حاضر ہو ئے تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تین دفعہ دَم فرمادیا پھر انہیں کبھی تکلیف نہ ہوئی۔()
14...لعاب دہن مبارک :
آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا لعا ب دہن مبارک زخمیو ں اور بیماروں کے لیے شفا اور زہر کے لیے تریاق تھا۔جب غا ر ثور میں سید نا ابو بکررضی اللہ عنہ کو سانپ نے کا ٹا تو اس کے زہر کا اثرآپ ہی کے لعاب دہن سے دور ہو ا۔سیدنا علی کر م اللہ وجہہ کے آشوب چشم کی یہ دوا ء بنا، حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی آنکھ غزوہ بدر میں پھوٹ گئی جو آپ کے لعا ب دہن لگا کر دعا فرمانے سے پھر روشن ہو گئی۔()
یونہی حضرت قتادہ رضی اللہ عنہکی نکلی ہوئی آنکھ کو آپ نے روشن فرما دیا۔()
غزوہ خندق کے دن آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضرت جابررضی اللہ عنہ کے گھر آٹے اور سالن میں لعاب دہن ڈال دیا تو وہ تھو ڑا سا کھا نا ایک ہزار صحابہ کے لیے کا فی ہو گیا،سب نے سیر ہو کر کھایا پھر بھی کھا نا ایسے با قی رہا جیسے کسی نے کھا یا ہی نہیں۔()
جس کے پانی سے شاداب جان وجناں
اس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنا لعاب دہن حضر ت انس رضی اللہ عنہ کے کنو ئیں میں ڈال دیا تو اس کا پا نی شیریں ہو گیا کہ ایسا میٹھا پا نی کسی اور کنویں کا نہ تھا۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی خدمت میں ایک ڈول میں پا نی لا یا گیا آپ نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور کچھ کلی کرکے ایک کنویں میں ڈال دیا تو اس کنویں کے پا نی میں سے کستوری کی مانند خوشبو آنے لگی۔()
حدیبیہ کے دن آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے وضو کرکے پانی کی ایک کلی خشک کنویں میں ڈال دی تو پچیس دن تک تمام لشکر اس پانی سے سیراب ہوتا رہا۔()
Share:
keyboard_arrow_up