Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 38 of 118

ایک اور حدیث میں فرمایا،

’’میں شکم مادر میں لو ح محفوظ پر چلنے والے قلم کی آواز سنتا تھا‘‘۔

آقا و مولیٰ حضورِ اکرم قبروں میں دیے جانے والے عذاب کی آوازیں بھی سنتے ہیں۔ (بخاری، ج1، ص362، حدیث نمبر:209، مسلم ، ج1، ص240، حدیث نمبر:292)

 

آقا و مولیٰ اپنے غلاموں کا درود و سلام بھی خود سنتے ہیں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا،

’’جب کو ئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے یعنی میری توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہو جاتی ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں‘‘۔(سنن ابی داؤد، ج5، ص417، حدیث نمبر:1745، مسند احمد، ج2، ص527، حدیث نمبر:10827)

 

حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا،

’’جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیو نکہ وہ یوم مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ کوئی بندہ کسی جگہ سے بھی مجھ پر درود نہیں پڑھتا مگر اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے وہ جہاں بھی ہو۔ ہم  نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ! کیا آپ کے وصال کے بعد بھی؟ فرمایا، ہاں! بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے ‘‘۔

 

اس حدیث کو حافظ منذری نے ترغیب میں ذکر کیا اور فرمایا کہ ابن ماجہ نے اسے جید سند کے ساتھ روایت کیا۔

(سنن ابن ماجہ، ج3، ص386، حدیث نمبر:1075،جلاء الافہام،ص63 مطبوعہ مدینہ منورہ، الترغیب والترہیب، للمنذری، ج2، ص137، حدیث نمبر:1672)

 

سچی عقیدت و محبت سے آقا و مولیٰ نبی کریم ﷺ  کی بارگاہ اقدس میں درود سلام کے تحفے پیش کرنے والوں پر حضورِ اکرم خصوصی نظر کرم فرماتے ہیں۔

 

آپ کا ارشاد گرامی ہے ،

’’اہل محبت کا درود میں خود اپنے کا نوں سے سنتا ہوں اور انہیں پہچانتا بھی ہوں‘‘۔ (مطالع المسرات شر ح دلائل الخیرات، ص81)

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان

کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام

 

حضور اکرم صرف دور و نزدیک ہی کی نہیں بلکہ گذشتہ اور آئندہ کی آوازیں بھی سماعت فرماتے ہیں۔

جیسا کہ آپ نے حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کے جنت میں چلنے کی آواز سماعت فرمائی۔ (بخاری ، ج4، ص322، حدیث نمبر:1081، مسلم، ج4، ص1910، حدیث نمبر:2458)

 

11...بینی مبارک:

سرکار دو عالم کی ناک مبارک خوبصورت اور اعتدال کے ساتھ دراز تھی نیز درمیان سے قدرے بلند تھی۔ اس پر ہر وقت نور چمکتا رہتا اور جو شخص غور سے نہ دیکھتا وہ یہ سمجھتا کہ ناک مبارک اونچی ہے حالانکہ بینی مبارک بلند نہ تھی بلکہ یہ بلندی اس نور کی وجہ سے محسوس ہوتی تھی جو اسے گھیرے ہو ئے تھا۔

جو اہر البحار میں ہے کہ آپ کی بینی مبارک حسن تنا سب اور موزونیت کے ساتھ پتلی تھی۔

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’آپ کی بینی مبارک مناسب دراز، بلندی مائل اور نہایت خوبصورت تھی اس پر ہر وقت نور درخشاں رہتا (جس کی وجہ سے)غور سے نہ دیکھنے والا ناک مبارک کو بلند خیال کرتا‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص35، حدیث نمبر:8)

 

نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود

اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

 

12...رخسار مبارک:

جانِ کائنات کے رخسار مبارک نرم و ہموار، نہایت حسین اور سرخی مائل سفید تھے۔

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’رسول اللّٰہ کے رخسار مبارک نرم و ہموار تھے‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص35، حدیث نمبر:8)

شیخ الا سلام اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہٗ آقا و مولیٰ کے رخسار مبارک کی نورانیت اورچمک دمک کا ذکر یو ں فرماتے ہیں،

جن     کے     آگے    چراغ    قمر    جھلملائے

ان عذاروں کی طلعت پہ لاکھوں سلام

ان کے خد کی سہولت پہ بے حد درود

ان کے قد کی رشاقت پہ لاکھوں سلام

Share:
keyboard_arrow_up