ایک اور حدیث میں فرمایا،’’میں شکم مادر میں لو ح محفوظ پر چلنے والے قلم کی آواز سنتا تھا‘‘۔ آقا ومولیٰ حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قبروں میں دیے جانے والے عذاب کی آوازیں بھی سنتے ہیں۔ ()
آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماپنے غلامو ں کا درود وسلام بھی خود سنتے ہیں۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،’’جب کو ئی مجھ پر سلام بھیجتاہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لو ٹا دیتا ہے یعنی میری توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہو جاتی ہے اور میں اس کے سلام کا جو اب دیتا ہوں‘‘۔()
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،’’جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیو نکہ وہ یو م مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ کو ئی بندہ کسی جگہ سے بھی مجھ پر درود نہیں پڑھتا مگر اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے وہ جہاں بھی ہو۔
ہم نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا آپ کے وصال کے بعد بھی؟ فرمایا،ہاں! بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے ‘‘۔
اس حدیث کو حافظ منذ ری نے ترغیب میں ذکر کیا اور فرمایا کہ ابن ماجہ نے اسے جید سند کے ساتھ روایت کیا۔()
سچی عقیدت ومحبت سے آقا و مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی بارگاہ اقدس میں درود سلا م کے تحفے پیش کرنے والو ں پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خصوصی نظر کرم فرماتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ،’’اہل محبت کا درود میں خود اپنے کا نوں سے سنتا ہوں اور انہیں پہچانتا بھی ہوں‘‘۔()
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام
حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صرف دور ونزدیک ہی کی نہیں بلکہ گذشتہ اور آئندہ کی آوازیں بھی سماعت فرماتے ہیں جیسا کہ آپ انے حضرت بلال رضی اللہ عنہکے جنت میں چلنے کی آواز سماعت فرمائی۔ ()
11...بینی مبارک:
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ناک مبارک خو بصور ت اور اعتدا ل کے ساتھ دراز تھی نیز درمیان سے قدرے بلند تھی۔ اس پر ہر وقت نور چمکتا رہتا اور جو شخص غور سے نہ دیکھتا وہ یہ سمجھتا کہ ناک مبارک اونچی ہے حالانکہ بینی مبارک بلند نہ تھی بلکہ یہ بلندی اس نور کی وجہ سے محسوس ہوتی تھی جو اسے گھیر ے ہو ئے تھا۔جو اہر البحار میں ہے کہ آ پ کی بینی مبارک حسن تنا سب اور موزونیت کے ساتھ پتلی تھی۔
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’آپ کی بینی مبارک مناسب دراز، بلندی مائل اور نہایت خوبصورت تھی اس پر ہر وقت نور درخشاں رہتا (جس کی وجہ سے)غور سے نہ دیکھنے والا ناک مبارک کو بلند خیا ل کرتا‘‘۔()
نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود
اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام
12...رخسار مبارک:
جا نِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے رخسار مبارک نرم وہموار، نہایت حسین اورسرخی مائل سفید تھے۔ حضرت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے رخسار مبارک نرم وہموار تھے‘‘۔()
شیخ الا سلام اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہٗ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے رخسا رمبارک کی نورانیت اورچمک دمک کا ذکر یو ں فرماتے ہیں،
جن کے آگے چراغ قمر جھلملائے
ان عذاروں کی طلعت پہ لاکھوں سلام
Page 38 of 120

