حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی،آقا! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، خدا آپ کو ہمیشہ مسکر اتا رکھے ،آپ کے مسکرانے کا سبب کیا ہے؟
ارشاد فرمایا،ابلیس کو جب علم ہو اکہ اللہ عزوجل نے امت کے حق میں میری دعا قبول فرمالی ہے تو میں نے دیکھا کہ وہ حسد کے باعث اپنے سر پر مٹی ڈال رہا ہے اور سخت حسرت و افسوس کر رہا ہے تو مجھے یہ دیکھ کر ہنسی آگئی۔()
آپ کی قوت بصارت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ایک حدیث پاک میں یوں بیان ہوئی ہے، مختا رِ کل ختم الرسل صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمان عالیشان ہے، ’’اللہ تعالیٰ نے میرے لیے دنیا کو ظاہر کردیا پس میں دنیا اور جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہو نے والا ہے، سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں‘‘۔()
مجد دِدین و ملت ،اما مِ اہل سنت،اعلیٰ حضر ت علیہ الرحمہ نے خوب فر ما یا ہے ،
شش جہت سمت مقابل، شب و روز ایک ہی حال
دھوم ’’والنجم‘‘ میں ہے آپ کی بینائی کی
فرش تا عرش سب آئینہ، ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمی! تری دانائی کی
دوسری جگہ حدائق بخشش میں یو ں فرمایا،
سر عرش پر ہے تری گزر، دلِ فرش پرہے تری نظر
ملکوت و ملک میں کو ئی شے، نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی چشمان مبارک کو دیدارِ باری تعالیٰ سے مشرف ہو نے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عا ئش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، میں نے اپنے رب تعا لیٰ کو حسین صورت میں دیکھا۔()
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،’’میں نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا ہے ‘‘۔()
طبرا نی نے معجم اوسط میں صحیح سند کے ساتھ آپ ہی سے روایت کیا ہے کہ سیدنا حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے رب کو دوبار دیکھا ،ایک بار سر کی آنکھو ں سے اور ایک با ر دل کی آنکھ سے۔()
شارح مسلم امام نووی کا ارشاد ہے کہ اکثر علماء اسی بات کو تر جیح دیتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے شب معراج میں اپنے سرکی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔()
مجدد بر حق،شیخ الاسلام اعلیٰ حضر ت محدث بر یلو ی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
10... گو ش مبارک :
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دونو ں کا ن مبارک دلکش و حسین اور کا مل و تا م تھے۔
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں کہ ’’آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سرا قدس کے مبارک بال ہلکے خم دار، آنکھیں لمبی پلکوں والی،چہر ۂ انور حسین و پاکیزہ، داڑھی مبارک خوبصورت اور آپ کے دونوں کا ن مبارک کا مل تھے ‘‘۔()
حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا آپ کے مبارک کا نو ں کی دلکشی کو یو ں بیا ن فرما تی ہیں، ’’رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک سیا ہ ز لفوں کے جھرمٹ میں سے دونوں سفید کانو ں کا دیدار ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے تاریکی میں دو چمکدار ستارے طلوع ہوگئے ہوں‘‘۔()
آپ کے مقدس کا نو ں کی قو ت سما عت بھی قوت بصارت کی طرح معجزانہ شان رکھتی ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرما نِ عالی شان ہے،’’میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ،میں آسمان کی چرچراہٹ کو بھی سن رہا ہوں اور اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے کیو نکہ اس میں چار انگشت برابر جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کو ئی فر شتہ سجدہ میں نہ ہو‘‘۔()
Page 37 of 120

