Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 37 of 118

حضرت ابوبکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما نے عرض کی، آقا! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، خدا آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے، آپ کے مسکرانے کا سبب کیا ہے؟

ارشاد فرمایا،

ابلیس کو جب علم ہوا کہ اللّٰہ عزوجل نے امت کے حق میں میری دعا قبول فرمالی ہے تو میں نے دیکھا کہ وہ حسد کے باعث اپنے سر پر مٹی ڈال رہا ہے اور سخت حسرت و افسوس کر رہا ہے تو مجھے یہ دیکھ کر ہنسی آگئی۔

(سنن ابن ماجہ، ج9، ص111،حدیث نمبر:3004،)

 

آپ کی قوت بصارت حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ایک حدیث پاک میں یوں بیان ہوئی ہے، مختارِ کل ختم الرسل کا فرمان عالیشان ہے،

’’اللّٰہ تعالیٰ نے میرے لیے دنیا کو ظاہر کر دیا پس میں دنیا اور جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہو نے والا ہے، سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں‘‘۔ (کنز العمال، ج11، ص378، حدیث نمبر:31810)

 

مجددِ دین و ملت، اما مِ اہل سنت، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا ہے،

شش جہت سمت مقابل، شب و روز ایک ہی حال

دھوم  ’’والنجم‘‘  میں  ہے  آپ   کی  بینائی   کی

فرش   تا   عرش   سب    آئینہ،   ضمائر   حاضر

بس   قسم   کھائیے    اُمی!    تری    دانائی    کی

 

دوسری جگہ حدائق بخشش میں یوں فرمایا، 

سر  عرش   پر   ہے  تری   گزر،   دلِ   فرش   پر  ہے  تری  نظر

ملکوت و ملک میں کوئی شے، نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں

 

نبی کریم کی چشمان مبارک کو دیدارِ باری تعالیٰ سے مشرف ہو نے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا،

میں نے اپنے رب تعالیٰ کو حسین صورت میں دیکھا۔ (مشکوٰۃ،ج 1، ص160، حدیث نمبر:725)

 

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا،

’’میں نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا ہے ‘‘۔ (مسند احمد، ج5، ص481، حدیث نمبر:2449)

 

طبرانی نے معجم اوسط میں صحیح سند کے ساتھ آپ ہی سے روایت کیا ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول اللّٰہ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا، ایک بار سر کی آنکھوں سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ (خصائص کبری، ج1،ص267)

 

شارح مسلم امام نووی کا ارشاد ہے کہ

اکثر علماء اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ آقا نے شب معراج میں اپنے سر کی آنکھوں سے اللّٰہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ (شرح مسلم، ج18، ص56)

 

مجدد بر حق، شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا

جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

 

10... گوش مبارک:

نبی کریم ﷺ  کے دونوں کان مبارک دلکش و حسین اور کامل و تام تھے۔

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’ آقا و مولیٰ  کے سر اقدس کے مبارک بال ہلکے خم دار، آنکھیں لمبی پلکوں والی، چہرۂ انور حسین و پاکیزہ، داڑھی مبارک خوبصورت اور آپ کے دونوں کان  مبارک کامل تھے ‘‘۔ (البدایہ والنہایۃ،ج 6، ص20)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا آپ کے مبارک کانوں کی دلکشی کو یوں بیان فرماتی ہیں، 

’’رحمت عالم کی مبارک سیاہ زلفوں کے جھرمٹ میں سے دونوں سفید کانوں کا دیدار ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے تاریکی میں دو چمکدار ستارے طلوع ہوگئے ہوں‘‘۔ (تاریخ دمشق، ج30، ص28)

 

آپ کے مقدس کانوں کی قو ت سماعت بھی قوت بصارت کی طرح معجزانہ شان رکھتی ہے۔ رسول معظم کا فرمانِ عالی شان ہے،

’’میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، میں آسمان کی چر چراہٹ کو بھی سن رہا ہوں اور اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس میں چار انگشت برابر جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کو ئی فرشتہ سجدہ میں نہ ہو‘‘۔

(ترمذی،ج8، ص288،حدیث نمبر:2234، مسند احمد،ج 5،ص173، حدیث نمبر:21555)

Share:
keyboard_arrow_up