Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 36 of 120
حضرت علی کرم اللہ و جہہ کا ارشاد ہے کہ جس دن سے میں نے وہ پا نی پیا ہے میری قوت حافظہ بہت بڑھ گئی ہے۔()
9...چشمانِ مقدس:
سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مقدس آنکھیں بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔ آپ کی پر کشش آنکھیں خوب سیاہ اور خو بصورت تھیں اور ان کی سفیدی میں باریک سر خ ڈورے تھے،ان چشمان مقدس پر گھنی ،سیاہ اور لمبی پلکوں کا دلر باسایہ تھا۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہنے بھی آپ کی مبارک پلکو ں کا حسین اور دراز ہو نا بیان فرمایا ہے۔()
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مقدس آنکھیں خوب سیاہ، سرمگیں اور پلکیں گھنی اور لمبی تھیں‘‘۔()
اعلیٰ حضرت بر یلوی ، آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس پلکو ں کی تعریف یوں کرتے ہیں،
ان کی آنکھوں پہ وہ سایہ افگن مژہ
ظلۂ قصر رحمت پہ لاکھوں سلام
حضر ت جابر بن سمر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’جب بھی میں آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مقدس آنکھوں کو دیکھتا تو یہ سمجھتاکہ آپ نے سر مہ لگا یا ہوا ہے حالا نکہ ایسا نہیں تھا ‘‘۔()
سر مگیں آنکھیں، حریم حق کے وہ مشکیں غزال
ہے فضائے لامکاں تک جن کا رمنا نور کا
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک آنکھو ں کی سرخی کو کتب سابقہ میں نبوت کی ایک علامت قرار دیا گیا ہے۔()
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں ،’’نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنیچی نگاہ والے تھے اور آسمان کی بجائے زمین کی طرف ز یا دہ نظر فر ماتے تھے،آپ کا دیکھنا آنکھ کے ایک گوشہ سے ہوتا تھا (یعنی حیا کی وجہ سے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے)‘‘۔()
اپنی ایک میٹھی نظر کے شہد سے
چارۂ زہر مصیبت کیجیے
اللہ تعالیٰ نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس آنکھو ں کو ایسی طاقت عطا فرمائی تھی کہ آپ بیک وقت آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اوپرنیچے اور اندھیرے اجالے میں یکسا ں دیکھا کرتے تھے۔()
حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رات کے اندھیرے میں بھی ایسا ہی دیکھتے تھے جیسا کہ دن کی ر و شنی میں۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہسے مر وی ہے کہ غیب جاننے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا، ’’جب تم رکوع و سجود کر تے ہو تو میں بیشک تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی د یکھتا ہوں‘‘۔()
حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے، ’’میری تم سے ملاقات کی جگہ حوض کو ثرہے اور میں اس حو ض کو اب بھی دیکھ رہا ہوں‘‘۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ مالکِ کل صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا،’’خدا کی قسم !مجھ پر نہ تمہارا خشوع پو شیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع ‘‘۔()
ایک اور حدیث میں فرمایا، ’’میں وہ وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘۔()
ان حادیث مبارکہ سے معلو م ہو اکہ خشوع جو کہ دل کی ایک کیفیت ہے اور آنکھ سے دیکھی ہی نہیں جاسکتی، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی مقدس آنکھیں اسے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ثابت ہواکہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلممادی چیزوں کے علاوہ غیر مرئی چیزوں کو بھی ملا حظہ فرماتے ہیں۔
ایک بار عرفہ کی رات میں حبیب کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ ارشاد ِباری تعا لیٰ ہوا، میں نے سب کو بخشا سوائے ظالم کے کیونکہ ظالم سے مظلوم کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔آپ نے عر ض کی، یارب !اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت میں کوئی اچھا درجہ عطا فرما اور ظالم کو بخش دے۔یہ عر ض قبول نہ ہوئی پھر صبح مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے یہی دعا مانگی تو قبول ہو گئی۔ آپ نے دعا کے آخرمیں تبسم فرمایا۔
Share:
keyboard_arrow_up