حضرت علی کرم اللّٰہ و جہہ کا ارشاد ہے کہ:
جس دن سے میں نے وہ پانی پیا ہے میری قوت حافظہ بہت بڑھ گئی ہے۔
(کنز العمال، ج7، ص252، حدیث نمبر:18787)
9...چشمانِ مقدس:
سید عالم ﷺ کی مقدس آنکھیں بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔ آپ کی پُر کشش آنکھیں خوب سیاہ اور خو بصورت تھیں اور ان کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے تھے،ان چشمان مقدس پر گھنی ،سیاہ اور لمبی پلکوں کا دل ربا سایہ تھا۔ (دلائل النبوۃ،ج 1، ص260، حدیث نمبر:230)
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی آپ کی مبارک پلکوں کا حسین اور دراز ہو نا بیان فرمایا ہے۔ (دلائل النبوۃ،ج 1، ص264، حدیث نمبر:234)
سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں،
’’حضور ﷺ کی مقدس آنکھیں خوب سیاہ، سرمگیں اور پلکیں گھنی اور لمبی تھیں‘‘۔ (شمائل الترمذی،ص32، حدیث نمبر:7)
اعلیٰ حضرت بریلوی، آقا و مولیٰ ﷺ کی مقدس پلکوں کی تعریف یوں کرتے ہیں،
ان کی آنکھوں پہ وہ سایہ افگن مژہ
ظلۂ قصر رحمت پہ لاکھوں سلام
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’جب بھی میں آقا کریم ﷺ کی مقدس آنکھوں کو دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ آپ نے سر مہ لگایا ہوا ہے حالا نکہ ایسا نہیں تھا ‘‘۔ (شمائل الترمذی،ص36، حدیث نمبر:226)
سر مگیں آنکھیں، حریم حق کے وہ مشکیں غزال
ہے فضائے لامکاں تک جن کا رمنا نور کا
حضورِ اکرم ﷺ کی مبارک آنکھوں کی سرخی کو کتب سابقہ میں نبوت کی ایک علامت قرار دیا گیا ہے۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص17، حدیث نمبر:13)
حضرت ہندبن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ،
’’نبی مکرم ﷺ نیچی نگاہ والے تھے اور آسمان کی بجائے زمین کی طرف زیادہ نظر فرماتے تھے، آپ کا دیکھنا آنکھ کے ایک گوشہ سے ہوتا تھا (یعنی حیا کی وجہ سے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے)‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص36، حدیث نمبر:8)
اپنی ایک میٹھی نظر کے شہد سے
چارۂ زہر مصیبت کیجیے
اللّٰہ تعالیٰ نے آقا و مولیٰ ﷺ کی مقدس آنکھوں کو ایسی طاقت عطا فرمائی تھی کہ آپ بیک وقت آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے اور اندھیرے اجالے میں یکساں دیکھا کرتے تھے۔ (الخصائص الکبری،ج 1، ص130)
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ رات کے اندھیرے میں بھی ایسا ہی دیکھتے تھے جیسا کہ دن کی ر و شنی میں۔
(دلائل النبوۃ، ج5، ص69، حدیث نمبر:1779)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ غیب جاننے والے آقا ﷺ نے فرمایا،
’’جب تم رکوع و سجود کر تے ہو تو میں بیشک تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں‘‘۔ (بخاری،ج 2 ص186، حدیث نمبر:402، ، مسلم ،ج1، ص319، حدیث نمبر:423)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺکا فرمانِ عالیشان ہے،
’’میری تم سے ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے اور میں اس حوض کو اب بھی دیکھ رہا ہوں‘‘۔ (بخاری، ج5، ص124، حدیث نمبر:1258، مسلم ،ج 4، ص1795، حدیث نمبر:2296)
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ مالکِ کل ﷺ نے فرمایا،
’’خدا کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا خشوع پو شیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع ‘‘۔(بخاری، ج2، ص185، حدیث نمبر:401)
ایک اور حدیث میں فرمایا،
’’میں وہ وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘۔ (ترمذی،ج4، ص140، حدیث نمبر: 2319)
ان حادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خشوع جو کہ دل کی ایک کیفیت ہے اور آنکھ سے دیکھی ہی نہیں جاسکتی، آپ ﷺ کی مقدس آنکھیں اسے بھی دیکھ لیتی ہیں۔
ثابت ہوا کہ حضور ﷺ مادی چیزوں کے علاوہ غیرمرئی چیزوں کو بھی ملاحظہ فرماتے ہیں۔
ایک بار عرفہ کی رات میں حبیب کبریا ﷺ نے اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
ارشاد ِباری تعا لیٰ ہوا،
میں نے سب کو بخشا سوائے ظالم کے کیونکہ ظالم سے مظلوم کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ آپ نے عرض کی، یا رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت میں کوئی اچھا درجہ عطا فرما اور ظالم کو بخش دے۔ یہ عرض قبول نہ ہوئی پھر صبح مزدلفہ میں حضور ﷺ نے یہی دعا مانگی تو قبول ہو گئی۔ آپ نے دعا کے آخرمیں تبسم فرمایا۔

