حضرت حسان رضی اللّٰہ عنہ نے آپ کی چمکدار پیشانی کے بارے میں فرمایا،
مَتٰی یَبْدِ فِی الَّلیْلِ الْبَھِیْمِ جَبِیْنُہٗ
بَلَجَ مَثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْمُتَوَقِّدِ
’’جب اندھیری رات میں آ پ کی پیشانی ظاہر ہوتی تو روشن چراغ کی طرح چمکتی دکھائی دیتی‘‘۔ (دیوان حسان، ص50)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک روز چرخہ کات رہی تھی اور نبی کریم ﷺ میرے سامنے نعلین پاک کو پیوند لگا رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کی جبین سعادت پر پسینہ کے قطر ے دیکھے جن سے نور کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ میں اس خوبصورت منظر کو دیکھنے میں اپنا کام بھول گئی۔
آقا ﷺ نے فرمایا،
کیا معا ملہ ہے ؟میں نے عرض کی، آپ کی مبارک پیشانی پر پسینہ کے قطرے یوں لگ رہے ہیں جیسے نور کے ستارے ہوں۔ اگر اس کیفیت کو ابو کبیر ہذلی دیکھ لیتا تو وہ پکار اٹھتا کہ میرے اس شعر کا مصداق حضور ہی ہیں،
اِذَا نَظَرْتُ اِلٰی اُسْرَۃِ وَجْھِہٖ
بَرَقَتْ کَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَھَلِّلِ
’’جب میری نگاہ ان کے روئے تاباں پر پڑی تو ان کے رخساروں کی چمک ایسی تھی جیسے بادل کے ٹکڑے میں بجلی کوند رہی ہو ‘‘۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص307)
حسانُ الہند، مجددِ اُمت، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی فرماتے ہیں،
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اُس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام
حضرت خزیمہ رضی اللّٰہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں آقائے دو جہاں ﷺ کی جبین سعادت پر سجد ہ کر نے کا شرف حاصل ہوا۔
واقعہ یوں ہے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ حضور ﷺ کی پیشانی مبارک پر سجدہ کر رہے ہیں۔ صبح آپ نے یہ خواب بارگاہِ رسالت میں بیان کیا۔
رسول معظم ﷺ یہ سن کر سیدھے لیٹ گئے اور فرمایا،
اپنے اس خواب کو سچ کرلو۔ چنانچہ آپ نے آقا و مولیٰ ﷺ کی جبین اقدس پر سجدہ کیا۔ (مشکوٰۃ ، ج2، ص547، حدیث نمبر:4624)
8...ابرو مبارک:
نبی کریم ﷺ کے ابرو مبارک دراز و باریک اور محرابی صورت میں تھے۔
علامہ علی بن برہان الدین حلبی فرماتے ہیں، ’’دونوں ابروؤں کے درمیان اتنا کم فاصلہ تھا کہ غور سے دیکھنے پر واضح ہوتا ‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)
اسی لیے بعض صحابہ کرام نے ابرو مبارک کے باہم متصل ہونے کا ذکر کیا ہے جبکہ وہ حقیقت میں ملے ہوئے نہ تھے۔
حضرت ام معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’حضور ﷺ کے ابرو مبارک باریک اور ملے ہوئے تھے ‘‘۔ (البدایۃ النہایۃ،ج6، ص20)
جن کے سجدے کو محراب کعبہ جھکی
ان بھنووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’رحمت عالم ﷺ کے ابرو مبارک خم دار، باریک،گھنے اور الگ الگ تھے،دونوں ابروؤں کے درمیا ن رگ تھی جو جلال کے وقت سرخ ہو جاتی تھی‘‘۔
(شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ اس رگ کو رگِ ہاشمیت قرار دیتے ہوئے یوں سلام عرض کرتے ہیں ،
چشمۂ مہر میں موجِ نورِ جلال
اس رگِ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام
محدث ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ:
وصال ظاہری کے وقت آقا و مولیٰ ﷺ کو جب غسل دیا گیا تو سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ عنہ نے آقا ﷺ کے ابرو مبارک میں لگے ہو ئے پانی کو چاٹ لیا، اسی کے سبب ان کا مبارک سینہ قرآن و حدیث کے اسرار و رموز کا گنجینہ بن گیا۔

