حضرت حسا نرضی اللہ عنہنے آپ کی چمکدار پیشانی کے بارے میں فرمایا،
مَتٰی یَبْدِ فِی الَّلیْلِ الْبَھِیْمِ جَبِیْنُہٗ
بَلَجَ مَثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْمُتَوَقِّدِ
’’جب اندھیری رات میں آ پ کی پیشانی ظاہر ہوتی تو روشن چراغ کی طرح چمکتی دکھائی دیتی‘‘۔()
اُم المؤمنین حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک روز چرخہ کات رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے سامنے نعلین پاک کو پیوند لگا رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جبین سعادت پر پسینہ کے قطر ے دیکھے جن سے نور کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ میں اس خوبصورت منظر کو دیکھنے میں اپنا کا م بھول گئی۔
آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا، کیا معا ملہ ہے ؟میں نے عرض کی، آپ کی مبارک پیشانی پر پسینہ کے قطرے یو ں لگ رہے ہیں جیسے نور کے ستارے ہوں۔ اگر اس کیفیت کو ابو کبیر ہذلی دیکھ لیتا تو وہ پکا ر اٹھتا کہ میرے اس شعر کا مصداق حضور ہی ہیں ،
اِذَا نَظَرْتُ اِلٰی اُسْرَۃِ وَجْھِہٖ
بَرَقَتْ کَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَھَلِّلِ
’’جب میری نگاہ ان کے روئے تاباں پر پڑی تو ان کے رخسا ر وں کی چمک ایسی تھی جیسے بادل کے ٹکڑے میں بجلی کو ند رہی ہو ‘‘۔()
حسا نُ الہند،مجد دِاُمت،اعلیٰ حضر ت محدث بریلوی فرماتے ہیں ،
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اُس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام
حضر ت خزیمہرضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی جبین سعادت پر سجد ہ کر نے کا شرف حاصل ہوا۔ واقعہ یو ں ہے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجد ہ کر رہے ہیں۔ صبح آپ نے یہ خواب بارگاہِ رسالت میں بیان کیا۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمیہ سن کر سیدھے لیٹ گئے اور فرمایا،اپنے اس خواب کو سچ کرلو۔ چنانچہ آپ نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی جبین اقدس پر سجدہ کیا۔()
8...ابرو مبارک :
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ابرو مبارک دراز و باریک اور محرابی صورت میں تھے۔
علامہ علی بن برہان الدین حلبی فرماتے ہیں ، ’’دونوں ابروؤں کے درمیان اتنا کم فاصلہ تھا کہ غور سے دیکھنے پر واضح ہو تا ‘‘۔()
اسی لیے بعض صحابہ کرام نے ابرو مبارک کے باہم متصل ہو نے کا ذکر کیا ہے جبکہ وہ حقیقت میں ملے ہو ئے نہ تھے۔حضر ت ام معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ابرو مبارک باریک اور ملے ہوئے تھے ‘‘۔()
جن کے سجدے کو محراب کعبہ جھکی
ان بھنووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ابرو مبارک خم دار، باریک،گھنے اور الگ الگ تھے،دونوں ابروؤں کے درمیا ن رگ تھی جو جلا ل کے وقت سرخ ہو جاتی تھی‘‘۔()
اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ اس رگ کو رگِ ہاشمیت قرار دیتے ہوئے یو ں سلام عرض کرتے ہیں ،
چشمۂ مہر میں موجِ نورِ جلال
اس رگِ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام
محدث ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ وصال ظاہری کے وقت آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب غسل دیا گیا تو سیدنا مولیٰ علیرضی اللہ عنہنے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے ابرو مبارک میں لگے ہو ئے پانی کو چاٹ لیا، اسی کے سبب ان کا مبارک سینہ قرآن و حدیث کے اسرار ورمو زکا گنجینہ بن گیا۔
Page 35 of 120

