Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 34 of 118

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں،

شانہ ہے پنجۂ قدرت ترے بالوں کے لیے

کیسے ہاتھوں نے شہا تیرے سنوارے گیسو

 

حضر ت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’آقا سر مبارک پر اکثر تیل لگاتے اور داڑھی مبارک میں بھی اکثر کنگھی کیا کرتے اور عمامہ مبارک کے نیچے ایک رومال رکھ لیتے (تاکہ عمامہ خراب نہ ہو)، وہ رومال تیل سے تر رہتا تھا‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص51)

 

اعلیٰ حضرت نے اس کی بہت خوب منظر کشی فرمائی ہے، فرماتے ہیں،

تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضاؔ

صبح  عارض  پہ  لٹاتے  ہیں  ستارے  گیسو

 

عشق مصطفی کا جذبہ ہے جو امام اہلسنّت کو اپنے آقا کریم کی بارگاہ میں یوں لب کشا کرتا ہے،

دیکھ قرآں میں شب قدر ہے تا مطلع فجر 

یعنی نزدیک ہیں عارض کے وہ پیارے گیسو

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے

چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو

 

حضور  نے جب حج کے موقع پر بال مبارک ترشوائے تو صحابہ کرام حلقہ باندھے ہوئے مستعد تھے کہ حضور کا کوئی موئے مبارک زمین پر نہ گرے بلکہ ہم میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ آئے۔ (مسلم ،ج2، ص947، حدیث نمبر:1305)

 

دوسری روایت میں ہے کہ آقا  نے اپنے موئے مبارک اپنے پروانوں میں خود تقسیم فرما دئیے۔ (مسند احمد، ج26، ص312، حدیث نمبر:12765)

 

ابن سیرین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ سے کہا، ہمارے پاس آقا ومولیٰ کے کچھ موئے مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ یا ان کے اہل خانہ سے ملے ہیں۔

تو حضرت عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ’’

آقا کا ایک بال مبارک میرے پاس ہونا مجھے دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔ (بخاری، ج1، ص296، حدیث نمبر:165)

صحابہ کرام ان بالوں سے برکت حاصل کرتے تھے۔

 

ام المومنین ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس آپ  کا ایک موئے مبارک چاندی کی ڈبیا میں محفوظ تھا آپ اس موئے مبارک کو پانی میں ڈبوتیں، جو بیمار اس پانی کو پیتا، شفا پاتا۔ (بخاری، ج18، ص255، حدیث نمبر:5446)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ نے وصیت فرمائی کہ بعد وصال آقا کا موئے مبارک میری زبان کے نیچے رکھ دیا جا ئے پس ایسا ہی کرکے انہیں دفن کیا گیا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ،ج 1، ص127)

 

حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللّٰہ عنہ  نے بھی حضور  کے مبارک بال اور ناخن کے ترا شے کفن میں رکھنے کی وصیت فرمائی، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

(الطبقا ت الکبری، ج5، ص406)

 

حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں موئے مبارک سی رکھے تھے جس کی برکت سے وہ جنگوں میں فتح پاتے تھے۔ (دلائل النبوۃ، ج6،ص491، حدیث نمبر:2512)

 

جنگ یرموک میں ان کی ٹوپی گرگئی تو دورانِ جنگ تلوار و نیزہ چلانے کی بجائے انہوں نے ٹوپی تلاش کی۔ بعد ازاں یہ وجہ بیان فرمائی کہ یہ ٹوپی جس جنگ میں میرے سر پر ہوتی ہے، میں موئے مبارک کی برکت سے ضرور فتح پاتا ہوں۔ (مستدرک ، ج3، ص338، حدیث نمبر:5299)

 

ہم بھی عاشقِ صادق، فاضل بریلوی کے لفظوں میں دعا گوہیں،

ہم سیہ کاروں پہ یا رب تپشِ محشر میں

سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو

 

7...جبین سعادت:

رحمت عالم کی مبارک پیشانی کشادہ اور چمک دار تھی جس پر بیزاری اور دنیاوی تفکرات کے آثار تک نہ تھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’حضور کی پیشانی مبارک کشادہ تھی ‘‘۔ (دلائل النبوۃ ، ج1، ص264، حدیث نمبر:234)

 

حضرت ہندبن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’آقا و مولیٰ چمکدار رنگت اور کشادہ پیشانی والے تھے ‘‘۔

(شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)

Share:
keyboard_arrow_up