اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سر ہٗ فرماتے ہیں ،
شانہ ہے پنجۂ قدرت ترے بالوں کے لیے
کیسے ہاتھوں نے شہا تیرے سنوارے گیسو
حضر ت انسرضی اللہ عنہفرماتے ہیں ،’’آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سرمبارک پر اکثر تیل لگا تے اور داڑھی مبارک میں بھی اکثر کنگھی کیا کرتے اور عمامہ مبارک کے نیچے ایک رومال رکھ لیتے (تاکہ عمامہ خراب نہ ہو)، وہ رومال تیل سے تر رہتا تھا‘‘۔()
اعلیٰ حضرت نے اس کی بہت خوب منظرکشی فرمائی ہے ، فرماتے ہیں ،
تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضاؔ
صبح عارض پہ لٹاتے ہیں ستارے گیسو
عشق مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجذبہ ہے جوامام اہلسنّت کو اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں یوں لب کشاکرتا ہے،
دیکھ قرآں میں شب قدر ہے تا مطلع فجر
یعنی نزدیک ہیں عارض کے وہ پیارے گیسو
سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے
چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو
حضو رصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جب حج کے موقع پر بال مبارک ترشوائے تو صحابہ کرام حلقہ باندھے ہوئے مستعد تھے کہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاکوئی موئے مبارک زمین پر نہ گرے بلکہ ہم میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ آئے۔()
دوسری روایت میں ہے کہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے اپنے موئے مبارک اپنے پروانوں میں خود تقسیم فرمادئیے۔()
ابن سیر ین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید ہ رضی اللہ عنہ سے کہا ، ہمارے پاس آقا ومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کچھ موئے مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ یا ان کے اہل خانہ سے ملے ہیں۔ تو حضرت عبیدہرضی اللہ عنہ نے فرمایا، ’’آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاایک بال مبارک میرے پاس ہونا مجھے دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔()
صحابہ کرام ان بالوں سے برکت حاصل کرتے تھے۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاایک موئے مبارک چاند ی کی ڈبیا میں محفوظ تھا آپ اس موئے مبارک کو پانی میں ڈبو تیں ، جو بیمار اس پانی کو پیتا، شفا پاتا۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی کہ بعد وصا ل آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا موئے مبارک میری زبان کے نیچے رکھ دیا جا ئے پس ایسا ہی کرکے انہیں دفن کیا گیا۔()
حضرت عمر بن عبد العز یز رضی اللہ عنہنے بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک بال اورنا خن کے ترا شے کفن میں رکھنے کی وصیت فرمائی، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔()
حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہنے اپنی ٹوپی میں موئے مبارک سی رکھے تھے جس کی برکت سے وہ جنگوں میں فتح پاتے تھے۔()
جنگ یرموک میں ان کی ٹوپی گرگئی تو دورانِ جنگ تلوا رو نیزہ چلانے کی بجائے انہوں نے ٹوپی تلاش کی۔ بعد ازاں یہ وجہ بیان فرمائی کہ یہ ٹوپی جس جنگ میں میرے سر پرہوتی ہے، میں موئے مبارک کی برکت سے ضرور فتح پاتا ہوں۔()
ہم بھی عاشقِ صادق، فاضل بریلوی کے لفظوں میں دعا گوہیں ،
ہم سیہ کاروں پہ یا رب تپشِ محشر میں
سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو
7...جبین سعادت :
رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک پیشانی کشاد ہ اور چمک دار تھی جس پر بیزاری اور دنیاوی تفکرات کے آثار تک نہ تھے۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیشانی مبارک کشادہ تھی ‘‘۔()
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہفرماتے ہیں ،’’آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چمکدار رنگت اور کشادہ پیشانی والے تھے ‘‘۔()
Page 34 of 120

