Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 33 of 118

6...موئے مبارک:

نبی کریم کے بال مبارک نہ تو گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیات کے درمیان یعنی کچھ خمدار تھے۔ آپ کے بال مبارک پہلے کانوں کی لو تک ہوتے پھر بڑھ کر کانوں سے نیچے ہوجاتے اور کبھی دوش اقدس تک پہنچ جاتے۔

بعض لوگ رحمت عالم ﷺ  کی زلف مبارک کا ذکر کرنے پر چراغ پا ہوتے ہیں کہ ’’یہ کون سا دین کی باتیں ہیں ‘‘۔ وہ بنظر انصاف ان احادیث کریمہ کا مطالعہ فرمائیں جن میں سرکار ابد قرار کے گیسوئے مبارک کا ذکر حضور کے تربیت یافتہ صحابہ کرا م نے فرمایا ہے۔

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ،

’’رسول کریم ﷺ  کے موئے مبارک نہ بلکل خم دار تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کے درمیا ن تھے‘‘۔ (بخاری، ج12، ص291، حدیث نمبر:3547)

 

حضرت ہندابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ،

’’آپ  کے بال مبارک قدرے بل کھائے ہوئے تھے اگر سر کے بالوں میں اتفاقاً مانگ نکل آتی تو مانگ رہنے دیتے ورنہ آپ خود مانگ نہ نکالتے۔ جب بال مبارک بڑھ جاتے تو کان کی لو سے تجاوز کر جاتے ‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:8)

 

اس حدیث کی شرح میں علماء فرماتے ہیں کہ:

اگر آسانی سے مانگ نکل آتی تو آپ نکال لیتے۔ اور اگر کنگھی کی ضرورت ہوتی تو کنگھی نہ ہونے کی صورت میں نہ نکالتے اور جس وقت کنگھی موجود ہوتی،آپ مانگ نکال لیتے۔

بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

ابتدا میں حضور مشرکوں کی مخالفت اوراہل کتاب کی موافقت کی وجہ سے مانگ نہ نکالتے تھے پھر آپ اہل کتاب کی مخالفت میں مانگ نکالنے لگے جیسا کہ شمائل ترمذی کی ایک اور حدیث سے ثابت ہے۔

 

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں،

’’نبی کریم کے بال مبارک نہ تو زیادہ پیچ دار تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ کچھ خمدار تھے ‘‘۔ (شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:7)

 

آپ ہی سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ: آقا ﷺ  کے موئے مبارک نہایت حسین و خوبصورت تھے۔ (تاریخ دمشق، ج3 ،ص249)

 

حضرت ابو طفیل رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’حضور کے چہرہ ٔ انور کی حسین سفید رنگت اور آپ کی زلفوں کی گہری سیاہی کو میں بھول نہیں سکتا ‘‘۔ (ابن عساکر، ج3، ص 304)

 

حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ رحمت عالم کے مبارک گیسوؤں کا ذکر یوں کرتے ہیں،

’’میں نے کوئی زلفوں والا سرخ جبہ میں اپنے آقا  سے زیادہ حسین و جمیل نہیں دیکھا آپ کے پیارے پیارے گیسو آپ کے مبارک شانوں کو چھور ہے تھے ‘‘۔

(شمائل ترمذی،ص35، حدیث نمبر:4 )

 

امام بیہقی فرماتے ہیں کہ:

حضر ت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ جب یہ بات بیان فرماتے تو ہمیشہ مسکرا دیتے۔ (دلائل النبوۃ، ج1، ص177، حدیث نمبر:154)

 

آپ سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ

’’جان کائنات کے گیسو مبارک کانوں کی لوتک تھے۔ میں نے سرخ جبے میں ملبوس آپ سے بڑھ کر کوئی حسین نہ دیکھا‘‘۔

(بخاری، ج18، ص261، حدیث نمبر:5450)

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

حضور نبی کریم کے بال مبارک کانوں اور دونوں شانوں کے درمیا ن تھے۔(سنن ابی داؤد، ج1، ص168، حدیث نمبر:116)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

سرکارِ دو عالم نورِ مجسم  کے بال مبارک نصف کانوں تک تھے۔

(شمائل ترمذی، ص29، حدیث نمبر:2)

 

ان احادیث مبارکہ سے نبی کریم  کے موئے مبارک کی دو حالتیں واضح ہیں۔

ایک ابتدائی یعنی کان کے نصف یا کان کی لوتک گیسو مبارک ہوتے۔

اور دوسری انتہائی کہ گیسوئے مصطفی شانوں کو چھونے لگتے۔

نیز حجۃ الوداع کے موقع پر سید عالم کا بال مبارک منڈوا دینا بھی ثابت ہے۔

اب ان تینوں حالتوں کو عاشقِ صادق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے دو ایمان افروز اشعار میں ملاحظہ فرمائیں۔

گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تا دوش

کہ  بنیں  خانہ  بدوشوں کو  سہارے گیسو

آخر  حج   غمِ   امت   میں   پریشاں    ہو کر

تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو

 

امام قرطبی خصائص مصطفی کے بیان میں فرماتے ہیں،

’’نبی کریم کے بال مبارک پیدائشی طور پر کنگھی شد ہ تھے‘‘۔ اس لیے ایک صحابی کا ارشاد ہے کہ ’’حضور  کبھی کبھار کنگھی کرتے تھے‘‘۔

(شمائل ترمذی، ص54، حدیث نمبر:36)

Share:
keyboard_arrow_up