حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے موئے مبارک نہ بالکل خم دار تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کے درمیا ن تھے‘‘۔()
حضر ت ہند ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بال مبارک قدرے بل کھائے ہوئے تھے اگر سر کے بالو ں میں اتفاقاً مانگ نکل آتی تو مانگ رہنے دیتے ورنہ آپ خود مانگ نہ نکالتے۔ جب بال مبارک بڑھ جاتے تو کان کی لو سے تجاوز کر جاتے ‘‘۔()
اس حدیث کی شرح میں علماء فرماتے ہیں کہ اگر آسانی سے مانگ نکل آتی توآپ نکال لیتے۔ اور اگر کنگھی کی ضرورت ہوتی تو کنگھی نہ ہونے کی صورت میں نہ نکالتے اور جس وقت کنگھی موجود ہوتی،آپ مانگ نکال لیتے۔
بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ابتد امیں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مشرکوں کی مخالفت اور اہل کتا ب کی مو افقت کی وجہ سے مانگ نہ نکالتے تھے پھر آپ اہل کتاب کی مخا لفت میں مانگ نکالنے لگے جیسا کہ شمائل ترمذی کی ایک اور حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بال مبارک نہ تو زیادہ پیچ دار تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ کچھ خمدار تھے ‘‘۔()آپ ہی سے مرو ی ایک اور روایت میں ہے کہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے موئے مبارک نہایت حسین و خوبصورت تھے۔()
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ہ ٔانور کی حسین سفید رنگت اور آپ کی زلفوں کی گہر ی سیاہی کو میں بھول نہیں سکتا ‘‘۔()
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک گیسوؤں کا ذکر یوں کرتے ہیں ،’’میں نے کوئی زلفوں والا سرخ جبہ میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ حسین وجمیل نہیں دیکھا آپ کے پیارے پیارے گیسو آپ کے مبارک شانوں کو چھور ہے تھے ‘‘۔()
اما م بیہقی فرماتے ہیں کہ حضر ت براء بن عازب رضی اللہ عنہ جب یہ بات بیا ن فرماتے تو ہمیشہ مسکرا دیتے۔()
آپ سے مرو ی دوسری روایت میں ہے کہ ’’جان کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گیسومبارک کانوں کی لوتک تھے۔میں نے سرخ جبے میں ملبوس آپ سے بڑھ کر کوئی حسین نہ دیکھا‘‘۔()
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے با ل مبارک کانوں اور دونوں شانوں کے درمیا ن تھے۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بال مبارک نصف کانوں تک تھے۔ ()
ان احادیث مبارکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے موئے مبارک کی دوحالتیں واضح ہیں۔ ایک ابتدائی یعنی کان کے نصف یاکان کی لوتک گیسو مبارک ہوتے اور دوسری انتہا ئی کہ گیسوئے مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم شانوں کو چھونے لگتے۔نیز حجۃ الوداع کے موقع پر سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کابال مبارک منڈوا دینا بھی ثابت ہے۔ اب ان تینوں حالتوں کو عاشقِ صادق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے دوایمان افروزاشعار میں ملاحظہ فرمائیں۔
گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تا دوش
کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو
آخر حج غمِ امت میں پریشاں ہو کر
تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو
امام قر طبی خصائص مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیان میں فرماتے ہیں ،
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بال مبارک پیدائشی طور پر کنگھی شد ہ تھے‘‘۔ اس لیے ایک صحابی کاارشاد ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کبھی کبھار کنگھی کرتے تھے‘‘۔()
Page 33 of 120

