اسی بات کو دورِ حاضر کے ایک شاعر نے یوں بیا ن کیا ہے ،
لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
5... سراقدس:
رسول ﷺ کا سر اقدس نہ چھوٹا اور نہ بہت بڑا، البتہ حسن اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ مواہب الدنیہ میں شیخ ابراھیم بیجوری کا قول منقول ہے کہ سرکا بڑا ہونا دماغی قوت کے کامل ہونے کے علاوہ سردار ہونے کی بھی علامت ہے۔
محدث علی قاری آ پ کے سر اقدس کے عظیم ہونے کو آپ کی رفعت شان اور عظمت پر دلیل قرار دیتے ہیں۔ (مرقاۃ، ج16، ص466)
شیرِ خدا سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ فرما تے ہیں،
’’حضور ﷺ کا سر اقدس موزونیت کے ساتھ بڑا تھا‘‘۔
(شمائل ترمذی، ص31، حدیث نمبر:5 ، دلائل النبوۃ، ج1، ص164، حدیث نمبر:142)
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے آپ کے سر اقدس کا حسن اعتدال کے ساتھ بڑا ہونا بیان فرمایا ہے۔ (شمائل ترمذی،ص184، حدیث نمبر:225)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’آقا و مولیٰ ﷺ کا سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا‘‘۔
(بخاری، ج12، ص292، حدیث نمبر:3548، مسند احمد، ج27، ص78، حدیث نمبر:13031)
چونکہ عرب میں سرکا چھوٹا ہونا عیب سمجھا جاتا ہے اور بہت بڑا سر حسین نہیں ہوتا، اس لیے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ آقا ﷺ کا سر اقدس چھوٹا نہیں تھا بلکہ اعتدال کے ساتھ بڑا تھا اور آپ کے حسن و جمال کو چار چاند لگا رہا تھا۔
اس بات کی تائید مذکورہ بالا روایت میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کے ان الفاظ سے ہوتی ہے،
{لَمْ اَرَ بَعْدَہٗ وَلَا قَبْلَہٗ}
’’آقا ﷺ جیسا حسین و جمیل نہ میں نے آپ سے پہلے دیکھا اور نہ بعد میں‘‘۔(صحیح بخاری، ج18، ص266، حدیث نمبر5455)
اللّٰہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم ﷺ کے سر انور پر اپنی محبوبیت کا تاج ایسے سجایا کہ سار ی نعمتیں انہی کے درِ اقدس سے تقسیم ہوتی ہیں۔ گویا جس کو جو کچھ خدا سے ملتا ہے، درِ خیر الوریٰ سے ملتا ہے۔
جس کے آگے سر سروراں خم رہیں
اس سر تاج رفعت پہ لاکھوں سلام
ابو جہل ملعون نے ایک بار حبیبِ کبریا سیدِ عالم ﷺ کے سر اقدس کو پتھر سے کچلنے کا نا پاک ارادہ کیا۔ جب حضور ﷺ حالتِ نماز میں تھے وہ اس ناپاک ارادے سے پتھر لیے قریب آیا اور پھر اچانک خو فزدہ ہوکر پیچھے پلٹا۔اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا اور پتھر اس کے ہاتھ سے زمین پر گر چکا تھا۔ اپنے ساتھیوں کے پوچھنے پر بولا، میں جب ان کے قریب ہوا تو میں نے ایک مست اونٹ سامنے پایا۔ اتنے بڑے سر، لمبی گردن اور خوفناک دانتوں والا اونٹ میں نے کبھی نہیں دیکھا، اگر میں جان بچا کرنہ بھا گتا تو وہ مجھے پھاڑ کھاتا۔
آقا ﷺ نے یہ سنا توفرمایا،
وہ جبرائیل (علیہ السلام ) تھے۔اور اگر ابوجہل میرے قریب آتا تو وہ اسے ہلاک کردیتے۔ (دلائل النبوۃ، بیہقی، ج2، ص62، حدیث نمبر:497، دلائل النبوۃ، ابو نعیم، ج1، ص177، حدیث نمبر:150)

