Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 32 of 120
لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
5... سراقدس :
رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سر اقدس نہ چھوٹا اور نہ بہت بڑا ،البتہ حسن اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ مواہب الدنیہ میں شیخ ابراھیم بیجوری کا قول منقول ہے کہ سرکا بڑا ہونا دماغی قویٰ کے کامل ہونے کے علاوہ سردار ہونے کی بھی علامت ہے۔ محدث علی قار ی آ پ کے سراقدس کے عظیم ہونے کو آپ کی رفعت شان اور عظمت پر دلیل قرار دیتے ہیں۔()
شیرِ خداسیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرما تے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سر اقدس موزونیت کے ساتھ بڑا تھا‘‘۔()
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ نے بھی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے آپ کے سرا قدس کاحسن اعتدال کے ساتھ بڑاہونا بیان فرمایا ہے۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ’’آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سر مبارک اعتدا ل کے ساتھ بڑا تھا‘‘۔()
چونکہ عرب میں سرکا چھوٹا ہونا عیب سمجھا جاتا ہے اور بہت بڑا سر حسین نہیں ہوتا، اس لیے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سر اقدس چھوٹا نہیں تھا بلکہ اعتدال کے ساتھ بڑا تھا اور آپ کے حسن وجمال کو چار چاند لگارہا تھا۔ اس بات کی تائید مذکور ہ بالاروا یت میں حضر ت انس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے ہوتی ہے،{لَمْ اَرَ بَعْدَہٗ وَلَا قَبْلَہٗ}
’’آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جیسا حسین وجمیل نہ میں نے آ پ سے پہلے دیکھا اور نہ بعد میں‘‘۔()
اللہ تعا لیٰ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سرا نور پر اپنی محبوبیت کا تاج ایسے سجایا کہ سار ی نعمتیں انہی کے درِاقدس سے تقسیم ہوتی ہیں۔ گویا جس کو جو کچھ خد اسے ملتا ہے، درِ خیر الوریٰ سے ملتا ہے۔
جس کے آگے سر سروراں خم رہیں
اس سر تاج رفعت پہ لاکھوں سلام
ابو جہل ملعون نے ایک با ر حبیبِ کبریا سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سر اقدس کو پتھر سے کچلنے کا ناپاک ارادہ کیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حالتِ نماز میں تھے وہ اس ناپا ک ارادے سے پتھر لیے قریب آیا اور پھر اچانک خو فزدہ ہوکر پیچھے پلٹا۔اس کے جسم پر لرز ہ طار ی تھا اور پتھر اس کے ہاتھ سے زمین پر گر چکا تھا۔ اپنے ساتھیو ں کے پوچھنے پر بولا، میں جب ان کے قریب ہوا تو میں نے ایک مست اونٹ سامنے پایا۔ اتنے بڑے سر، لمبی گردن اور خوفناک دانتوں والا اونٹ میں نے کبھی نہیں دیکھا ، اگر میں جان بچا کرنہ بھا گتا تو و ہ مجھے پھا ڑ کھاتا۔
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ سنا توفرمایا، و ہ جبرائیل (علیہ السلام ) تھے۔اور اگر ابوجہل میرے قریب آتا تووہ اسے ہلاک کردیتے۔()
6...موئے مبارک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بال مبارک نہ تو گھنگھر یا لے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیات کے درمیا ن یعنی کچھ خمدار تھے۔ آ پ کے بال مبارک پہلے کانوں کی لوتک ہوتے پھر بڑ ھ کر کانوں سے نیچے ہوجاتے اور کبھی دوش اقدس تک پہنچ جاتے۔
بعض لوگ رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زلف مبارک کاذکر کرنے پر چراغ پا ہوتے ہیں کہ ’’یہ کون سادین کی باتیں ہیں ‘‘۔وہ بنظر انصاف ان احادیث کریمہ کامطالعہ فرمائیں جن میں سرکار ابد قرارصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گیسوئے مبارک کاذکر حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرا م نے فرمایا ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up