حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ فرماتے ہیں ،
’’آقا ﷺ نہ بہت دراز قد تھے اور نہ ہی بہت چھوٹے قد والے بلکہ آپ میانہ قد تھے ‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص31،حدیث نمبر:5)
مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
ہے گلِ باغِ قدس رخسارِ زیبائے حضور
سرو گلزارِ قدم قامت رسول اللّٰہ کی
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’رسول اللّٰہ ﷺ قد مبارک اور چہر ۂ اقدس کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے ‘‘۔ (تاریخ دمشق، ج3، ص281)
حضرت اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’حضور ﷺ کا قد مبارک درمیانہ تھا، نہ اتنا لمبا کہ آنکھوں کو برا لگے اور نہ اتنا چھوٹا کہ دیکھنے والوں کو حقیر نظر آئے۔ آپ دو شاخوں کے درمیا ن ایک ایسی شاخ کی طر ح تھے جو سب سے زیاد ہ سر سبز و شاداب اور حسن و جمال میں نمایاں ہو‘‘۔ (البدایہ والنہایہ ، ج6، ص33 )
یاد قامت کرتے اٹھیے قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجیے
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’ حبیب خدا ﷺ جب دو دراز قد مردوں کے ساتھ چل رہے ہوتے تو ان سے زیادہ بلند نظر آتے اور جب وہ آپ ﷺ سے جدا ہو جاتے تو دونوں دراز قد دکھائی دیتے مگر حضور ﷺ میانہ قد نظر آتے ‘‘۔ (دلائل النبوۃ، ج2، ص196، حدیث نمبر:549)
امام شہاب الدین خفاجی اس کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں،
’’اللّٰہ تعالیٰ نے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں یہ بات پیدا فرمادی تھی کہ آپ انہیں بلند قامت نظر آتے۔ یہ خصوصیت اس لیے عطا فرمائی گئی کہ کوئی شخص صورت کے لحاظ سے بھی نبی ﷺ سے بلند دکھائی نہ دے اور آپ کی تعظیم میں اضافہ ہو۔ اسی لیے جب یہ ضرور ت نہیں رہتی تو آپ اسی قد مبارک پر دکھائی دیتے جس پر آپ ﷺ کی تخلیق ہوئی تھی‘‘۔
(نسیم الریاض شرح شفائے عیاض)
طائرانِ قدس جس کی ہیں قمریاں
اس سہی سر وقامت پہ لاکھوں سلام
حضور ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ نہیں تھا۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں حضر ت ذکوان رضی اللّٰہ عنہ (تابعی) سے روایت کیا ہے کہ
’’سور ج کی روشنی اور چاند کی چاندنی میں نور مجسم ﷺ کا سایہ نہیں ہوتا تھا ‘‘۔ (خصائص الکبری، ج1، ص117)
حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کی،
’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کا سایہ زمین پر اس لیے نہیں بنایا کہ کوئی اس پر پاؤں نہ رکھ دے‘‘۔ (تفسیر مدارک، ص 772 دار المعرفۃ بیروت)
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ:
’’حضور آقا کریم ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔ جب آپ سورج کے سامنے کھڑے ہوتے تو آپ کے چہرہ کی نورانیت سورج کی روشنی پر غالب آجاتی۔
‘‘ امام قاضی عیاض مالکی، امام قسطلانی، امام رازی، امام ابن حجر، امام سیوطی، امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی، امام ربانی حضر ت مجدد الف ثانی، امام احمد رضا محدث بریلوی اور بے شمار محدثین وائمہ دین رحمہم اللّٰہ تعالیٰ نے یہی بات بیان فرمائی ہے۔
(المواھب اللدنیہ،2 /223،اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی، ص79، مدارج النبوۃ ،ج1، ص20، مکتوبات امام ربانی،3 /187، تفسیر عزیزی، سورۃ الضحٰی ، ص312)
قد بے سایہ کے سایۂ مرحمت
ظلِ ممدودِ رأفت پہ لاکھوں سلام
’’ ظلِ ممدود ِرأفت‘‘ کا مطلب ہے، رحمت و عنایت کا کبھی نہ ختم ہونے والا سایہ۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ ﷺ کے قد انور کا سایہ نہیں ہے مگر آپ کی ذاتِ اقدس تمام جہان پر اللّٰہ تعالیٰ کے رحم و کرم کا دائمی سایہ ہے۔
باری تعالیٰ دنیا و آخرت میں ہمیں اس سایۂ رحمت میں رکھے، آمین۔

