حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ،’’آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نہ بہت دراز قد تھے اور نہ ہی بہت چھوٹے قد والے بلکہ آپ میا نہ قد تھے ‘‘۔()
مجد دِدین وملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
ہے گلِ باغِ قدس رخسارِ زیبائے حضور
سرو گلزارِ قدم قامت رسول اللہ کی
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قد مبارک اور چہر ۂ اقدس کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیا د ہ حسین تھے ‘‘۔()
حضرت اُم معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قد مبارک درمیا نہ تھا ،نہ اتنا لمباکہ آنکھوں کو برا لگے اور نہ اتنا چھوٹا کہ دیکھنے والوں کو حقیر نظر آئے۔ آپ دو شاخوں کے درمیا ن ایک ایسی شاخ کی طر ح تھے جو سب سے زیاد ہ سر سبز و شا داب اور حسن وجمال میں نمایا ں ہو‘‘۔()
یاد قامت کرتے اٹھیے قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجیے
حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،’’حبیب خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب دو دراز قد مردوں کے ساتھ چل رہے ہوتے توان سے زیاد ہ بلند نظر آتے اور جب وہ آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسے جدا ہو جاتے تو دونوں دراز قد دکھائی دیتے مگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میا نہ قد نظرآتے ‘‘۔()
امام شہاب الدین خفاجی اس کی حکمت یہ بیا ن فرماتے ہیں ،
’’اللہ تعالیٰ نے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں یہ بات پید افرماد ی تھی کہ آپ انہیں بلند قامت نظر آتے۔ یہ خصوصیت اس لیے عطا فرمائی گئی کہ کوئی شخص صورت کے لحاظ سے بھی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بلند دکھائی نہ دے اور آپ کی تعظیم میں اضافہ ہو۔ اسی لیے جب یہ ضرور ت نہیں رہتی تو آ پ اسی قد مبارک پر دکھائی دیتے جس پر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تخلیق ہوئی تھی‘‘۔()
طائرانِ قدس جس کی ہیں قمریاں
اس سہی سرو قامت پہ لاکھوں سلام
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اقد س کاسایہ نہیں تھا۔ حکیم ترمذی نے نو ادر الا صول میں حضر ت ذکوان رضی اللہ عنہ(تابعی ) سے روایت کیا ہے کہ ’’سور ج کی روشنی اور چاند کی چاندنی میں نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سایہ نہیں ہوتا تھا ‘‘۔()
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہنے بارگاہ نبوت میں عرض کی،’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کا سایہ زمین پر اس لیے نہیں بنایا کہ کوئی اس پر پاؤں نہ رکھ دے‘‘۔()
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
’’ حضور آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سایہ نہیں تھا۔جب آپ سورج کے سامنے کھڑے ہوتے تو آپ کے چہر ہ کی نورانیت سورج کی روشنی پر غالب آجاتی۔‘‘
اما م قا ضی عیا ض مالکی،امام قسطلانی،امام رازی، اما م ابن حجر ، اما م سیوطی، اما م المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی، امام ربانی حضر ت مجد دالف ثانی، اما م احمد رضا محدث بریلوی اور بے شما ر محدثین وائمہ دین رحمہم اللہ تعا لیٰ نے یہی بات بیان فرمائی ہے۔ ()
قد بے سایہ کے سایۂ مرحمت
ظلِ ممدودِ رأفت پہ لاکھوں سلام
’’ظلِ ممد ود ِرأفت‘‘ کامطلب ہے ، رحمت وعنایت کا کبھی نہ ختم ہونے والا سایہ۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قد انور کا سایہ نہیں ہے مگرآپ کی ذاتِ اقدس تمام جہان پر اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کا دائمی سایہ ہے۔ باری تعالیٰ دنیا وآخرت میں ہمیں اس سایۂ رحمت میں رکھے، آمین۔
اسی بات کو دور ِحاضر کے ایک شاعر نے یوں بیا ن کیا ہے ،
Page 31 of 120

