تجھ سے در، در سے سگ، سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دُور کا ڈورا تیرا
3...جسم اطہر کی رنگت مبارک:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اطہر کی رنگت مبارک نہ تو بالکل سفید تھی اور نہ ہی گندمی بلکہ سرخی مائل سفید تھی جو ملاحت آمیز ہونے کی وجہ سے نہایت جاذب نظر تھی۔
’’ملاحت ایسی خوبی ہے جو دیکھنے میں خوشنما اور دلنشیں ہے اور جس کا ادراک ذوقِ سلیم ہی کرسکتا ہے‘‘۔()
اس ملاحت آمیز رنگت کو اعلیٰ حضرت بریلوی نے نمکین حسن سے تعبیر فرمایا ہے،
حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم
وہ ملیح دل آرا ہمارا نبی
ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو
نمکین حسن والا ہمارا نبی
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کارنگ سرخی مائل سفید تھا‘‘۔()
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رنگت مبارک کو صحابہ کرا م نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بیان فرمایالیکن یہ امرطے شدہ ہے کہ آپ کے جسم اقدس کی رنگت روشن اور چمکدار تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم روشن اور چمکدار رنگت والے تھے۔()
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس قدر سفید رنگ اور حسین تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ کاجسم چاند ی میں ڈھالا گیاہے۔()
چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں درود
نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اقدس کی جلد مبارک تمام لوگوں سے زیادہ حسین وخوبصورت تھی۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکاپھول جیسا کھلا ہوا رنگ تھا ،نہ بالکل سفید اور نہ گندمی (یعنی جاذب نظر تھا )۔ ()
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’رسول معظم نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا رنگ مبارک سفید تھا جس میں (سرخی مائل ہونے کی وجہ سے )ملاحت بھی تھی‘‘۔()
ان کے حسنِ با ملاحت پر نثار
شیرۂ جاں کی حلاوت کیجیے
برادرِ امام اہلسنّت مولا نا حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں ،
دنیاکے حسینوں کو جو دینی تھی ملاحت
تھوڑا سا نمک اُن کے نمک داں سے نکالا
حضر ت انس رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ نورِمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا رنگ مبارک نہایت خوش نما اور چمکدار تھا ، پسینہ مبارک آپ کے جسم اقدس پر ایسے دکھا ئی دیتا جیسے موتی۔()
بقول اعلیٰ حضرت، حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مبارک پسینہ اللہ تعالیٰ کے باغ کی شبنم ہے۔
شبنم باغِ حق یعنی رُخ کا عرق
اُس کی سچی براقت پہ لاکھوں سلام
ابو طالب کایہ شعر صحابہ کرا م میں بہت معروف تھا ،
وَاَبْیَضُ یُسْتَقْیَ الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
ثَمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِّلْاَرَامِلٖ
’’یہ گورے رنگ والا ہے جس کے صدقہ میں بارش مانگی جاتی ہے جو یتیموں کی پنا ہ گاہ اور بیواؤں کا محافظ ہے‘‘۔()
4... قد مبارک :
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنہ بہت دراز قدتھے اور نہ پست قامت، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا بے مثل شاہکار تخلیق فرمایا کہ جب آپ تنہا کھڑ ے ہوتے تو میا نہ قد نظر آتے اور اپنے پروانوں کے جھرمٹ میں جلوہ گر ہوتے تو بلند قامت دکھا ئی دیتے۔
حضرت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میانہ قد والے سے قدر ے لمبے اور زیادہ دراز قد سے قد رے پست تھے ‘‘۔()
Page 30 of 120

