Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 30 of 118

تجھ سے در، در سے سگ، سگ سے ہے مجھ کو نسبت

میری   گردن   میں   بھی   ہے   دُور   کا   ڈورا   تیرا

 

3...جسم اطہر کی رنگت مبارک:

نبی کریم ﷺ  کے جسم اطہر کی رنگت مبارک نہ تو بلکل سفید تھی اور نہ ہی گندمی بلکہ سرخی مائل سفید تھی جو ملاحت آمیز ہو نے کی وجہ سے نہایت جاذب نظر تھی۔

’’ملاحت ایسی خوبی ہے جو دیکھنے میں خوشنما اور دلنشیں ہے اور جس کا ادراک ذوقِ سلیم ہی کرسکتا ہے‘‘۔ (مدارج النبوۃ،ج1 ص 22)

 

اس ملاحت آمیز رنگت کو اعلیٰ حضرت بریلوی نے نمکین حسن سے تعبیر فرمایا ہے،

حسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم

وہ    ملیح     دل     آرا     ہمارا    نبی

ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو

نمکین    حسن    والا    ہمارا    نبی

 

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’حضور کا رنگ سرخی مائل سفید تھا‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص32، حدیث نمبر:7)

 

نبی کریم کی رنگت مبارک کو صحابہ کرام  نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بیان فرمایا لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ آپ کے جسم اقدس کی رنگت روشن اور چمکدار تھی۔

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

رسول اللّٰہ  روشن اور چمکدار رنگت والے تھے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، ج1، ص300)

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

نور مجسم اس قدر سفید رنگ اور حسین تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ کا جسم چاندی میں ڈھالا گیا ہے۔ (شمائل ترمذی، ص40، حدیث نمبر:12)

 

چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں درود

نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام

جس  سے  تاریک   دل   جگمگانے   لگے

اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام

 

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم نورِ مجسم  کے جسم اقدس کی جلد مبارک تمام لوگوں سے زیادہ حسین و خوبصورت تھی۔

(مجمع الزوائد،ج8، ص 579، حدیث نمبر:14202)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

آقا و مولیٰ کا پھول جیسا کھلا ہوا رنگ تھا، نہ بالکل سفید اور نہ گندمی (یعنی جاذب نظر تھا )۔ (بخاری، ج11، ص382، حدیث نمبر:3283)

 

حضرت ابو طفیل رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’رسول معظم نبی مکرم کا رنگ مبارک سفید تھا جس میں (سرخی مائل ہونے کی وجہ سے )ملاحت بھی تھی‘‘۔ (مسلم، ج4، ص1820، حدیث نمبر:2340)

 

ان  کے  حسنِ با  ملاحت  پر  نثار

شیرۂ  جاں  کی  حلاوت  کیجیے

 

برادرِ امام اہلسنّت مولا نا حسن رضا بریلوی فرماتے ہیں،

دنیا کے  حسینوں  کو  جو  دینی  تھی  ملاحت

تھوڑا  سا  نمک  اُن  کے  نمک  داں  سے  نکالا

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ نورِ مجسم کا رنگ مبارک نہایت خوش نما اور چمکدار تھا ، پسینہ مبارک آپ کے جسم اقدس پر ایسے دکھائی دیتا جیسے موتی۔ (بخاری، ج11، ص382، حدیث نمبر:3283، مسلم، ج4، ص1814، حدیث نمبر:2330)

 

بقول اعلیٰ حضرت، حضور کا مبارک پسینہ اللّٰہ تعالیٰ کے باغ کی شبنم ہے۔

شبنم  باغِ   حق   یعنی   رُخ  کا   عرق

اُس کی سچی براقت پہ لاکھوں سلام

 

ابو طالب کا یہ شعر صحابہ کرام میں بہت معروف تھا ،

وَاَبْیَضُ یُسْتَقْیَ الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ

ثَمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِّلْاَرَامِلٖ

 

’’یہ گورے رنگ والا ہے جس کے صدقہ میں بارش مانگی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کا محافظ ہے‘‘۔  (خصائص النبوۃ، ج1ص145)

 

4... قد مبارک:

نبی کریم  نہ بہت دراز قد تھے اور نہ پست قامت، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا بے مثل شاہکار تخلیق فرمایا کہ جب آپ تنہا کھڑے ہوتے تو میانہ قد نظر آتے اور اپنے پروانوں کے جھرمٹ میں جلوہ گر ہوتے تو بلند قامت دکھائی دیتے۔

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’حضور  میانہ قد والے سے قدرے لمبے اور زیادہ دراز قد سے قد رے پست تھے ‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص35،حدیث نمبر:8)

Share:
keyboard_arrow_up