Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 29 of 120
جلوہ موئے محاسن چہرۂ انور کے گرد
آبنوسی رحل پہ رکھا ہے قرآنِ جمال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،’’ایک رات میں کچھ سی رہی تھی کہ سوئی زمین پر گر پڑی۔ میں اسے تلاش کررہی تھی کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ انور سے نکلنے والی نوری شعاعوں سے میں نے وہ سوئی تلاش کرلی‘‘۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ انور کی روشنی میں سوئی مل جانے کاواقعہ اتفا قاً نہیں ہوا بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’میں رات کے اندھیرے میں بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ اقدس کی روشنی میں سوئی میں دھاگا ڈا ل لیا کرتی تھی‘‘۔()
سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا
اُمُّ المؤمنین حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،
’’اگر زلیخا کو طعنے دینے والی عورتیں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی منور پیشانی دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کی بجائے اپنے دل کاٹ دیتیں ‘‘۔()
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ انور کو پہلی نظر میں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو پہلے یہود کے بہت بڑ ے عالم تھے ، پکار اُٹھے:
’’یہ مقدس اور نورانی چہر ہ کسی جھوٹے شخص کانہیں ہوسکتا ‘‘۔()
حضر ت حارث بن عمر و سہمی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ منیٰ کے مقام پر حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جلو ہ گر تھے اور جو اعرابی آ پ کا دیدار کرتا ، بے اختیار کہہ اٹھتا، ’’یہ نورانی چہر ہ بابرکت ہے‘‘۔()
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
’’مجھے قریش نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس بطور قاصد بھیجا، جب میری پہلی نظر آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ اقدس پر پڑی تو میرے دل میں اسلام داخل ہوگیا‘‘۔()
جس کے جلوے سے مرجھائی کلیاں کھلیں
اُس گلِ پاکِ منبت پہ لاکھوں سلام
حضرت کعب الاحباررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’اگر آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی زبان سے اعلانِ نبوت نہ فرماتے تب بھی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے انواروکمالات سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت واضح ہوجاتی‘‘۔()
حضر ت عبد اللہ بن رواحہرضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے،
لَوْ لَمْ تَکُنْ فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَۃٌ
لَکَاَن مَنْظَرُہٗ یُنَبِّئُکَ بِا لْخَبْرِ
’’اگر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے معجزات کااظہار نہ بھی ہوتا تب بھی آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال کامنظرہی آپ کے نبی ہونے کی دلیل تھا‘‘۔()
اہل مدینہ نے آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کااستقبال کرتے ہوئے کہا ،
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع
’’ہم پر چودہویں کاچاندثنیات الوداع پہاڑ ی سے طلوع ہوا‘‘۔
حضر ت عبادبن عبدالصمدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر گئے۔ آپ نے کنیز سے کھانا لانے کے لیے کہا۔جب وہ لے آئی تو فرمایا،رومال لا۔ وہ ایک میلا رومال لائی۔ آپ نے تنور گرم کرواکے وہ رومال آگ میں ڈال دیا اور پھر اسے نکالا تو وہ دودھ کی طرح سفید نکلا۔ہم نے حضرت انسرضی اللہ عنہ سے پوچھا ،یہ کیا ماجراہے؟ انہوں نے فرمایا،
’’یہ وہ روما ل ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنا چہرۂ اقدس مَس کیا کرتے تھے۔ جب یہ میلا ہو جاتا ہے تو ہم اسے اسی طرح صاف کر تے ہیں کیوں کہ اس شے پر آگ اثر نہیں کرتی جو انبیاء کرامعلیہم السلا م کے چہرہ مبارک سے مَس ہوجائے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up