Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 29 of 118

جلوہ موئے محاسن چہرۂ انور کے گرد

آبنوسی رحل پہ رکھا ہے قرآنِ جمال

 

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں ،

’’ایک رات میں کچھ سی رہی تھی کہ سوئی زمین پر گر پڑی میں اسے تلاش کر رہی تھی کہ نور مجسم تشریف لے آئے اور آپ کے چہر ۂ انور سے نکلنے والی نوری شعاعوں سے میں نے وہ سوئی تلاش کرلی‘‘۔

(تاریخ دمشق، ج3، ص310 )

 

حضور  کے چہر ۂ انور کی روشنی میں سوئی مل جانے کا واقعہ اتفاقاً نہیں ہوا بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

’’میں رات کے اندھیرے میں بھی رسول اللّٰہ کے چہر ۂ اقدس کی روشنی میں سوئی میں دھاگا ڈال لیا کرتی تھی‘‘۔ (خصائص الکبری، ج1، ص109)

 

سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے ترے

شام    کو    صبح  بناتا  ہے   اُجالا  تیرا

 

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،

’’اگر زلیخا کو طعنے دینے والی عورتیں آپ کی منور پیشانی دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کی بجائے اپنے دل کاٹ دیتیں ‘‘۔ (مواہب اللدنیہ،ج12، ص109)

 

حضور کے چہرۂ انور کو پہلی نظر میں دیکھ کر حضرت عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ جو پہلے یہود کے بہت بڑے عالم تھے ، پکار اُٹھے: ’’یہ مقدس اور نورانی چہر ہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا ‘‘۔

(مشکوٰۃ ، ج1، ص430، حدیث نمبر:1907)

 

حضر ت حارث بن عمر و سہمی رضی اللّٰہ عنہ فرما تے ہیں کہ منیٰ کے مقام پر حضور جلوہ گر تھے اور جو اعرابی آپ کا دیدار کرتا، بے اختیار کہہ اٹھتا، ’’یہ نورانی چہرہ با برکت ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد، ج5، ص65، حدیث نمبر:1480)

 

حضرت ابو رافع رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’مجھے قریش  نے حضور  کے پاس بطور قاصد بھیجا، جب میری پہلی نظر آقا و مولیٰ کے چہر ۂ اقدس پر پڑی تو میرے دل میں اسلام داخل ہوگیا‘‘۔ (سنن ابی داؤد،ج 7، ص398، حدیث نمبر:237)

 

جس کے جلوے سے مرجھائی کلیاں کھلیں

اُس  گلِ  پاکِ   منبت  پہ  لاکھوں   سلام

 

حضرت کعب الاحبار رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’اگر آپ اپنی زبان سے اعلانِ نبوت نہ فرماتے تب بھی آپ  کے انوار و کمالات سے آپ کی نبوت واضح ہوجاتی‘‘۔ (تفسیر مظہری، سورۃ النور، آیت نمبر35)

 

حضرت عبداللّٰہ بن رواحہ رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے، لَوْ

لَمْ        تَکُنْ          فِیْہِ          آیَاتٌ              بَیِّنَۃٌ

لَکَاَن     مَنْظَرُہٗ       یُنَبِّئُکَ    بِا لْخَبْرِ

’’اگر آپ سے معجزات کا اظہار نہ بھی ہوتا تب بھی آپ کے حسن و جمال کا منظر ہی آپ کے نبی ہونے کی دلیل تھا‘‘۔ (خصائص الکبری، ج1 ، ص436)

 

اہل مدینہ نے آپ کا استقبال کرتے ہوئے کہا،

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع

’’ہم پر چودہویں کا چاند ثنیات الوداع پہاڑ ی سے طلوع ہوا‘‘۔

 

حضرت عباد بن عبدالصمد رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

ہم حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ کے گھر گئے۔ آپ نے کنیز سے کھانا لانے کے لیے کہا۔جب وہ لے آئی تو فرمایا، رومال لا۔ وہ ایک میلا رومال لائی۔ آپ نے تندور گرم کروا کے وہ رومال آگ میں ڈال دیا اور پھر اسے نکالا تو وہ دودھ کی طرح سفید نکلا۔ ہم نے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے پوچھا، یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے فرمایا، ’’یہ وہ روما ل ہے جس سے نبی کریم ﷺ  اپنا چہرۂ اقدس مَس کیا کرتے تھے۔ جب یہ میلا ہو جاتا ہے تو ہم اسے اسی طرح صاف کر تے ہیں کیوں کہ اس شے پر آگ اثر نہیں کرتی جو انبیاء کرام علیہم السلام کے چہرہ مبارک سے مَس ہوجائے‘‘۔ (خصائص الکبری، ج2، ص123)

Share:
keyboard_arrow_up