Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 28 of 120
حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’میں نے آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ حسین نہ دیکھا، یوں محسوس ہوتا تھا گویا آفتاب آ پ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ہ ٔاقدس میں جلوہ گر تھا ‘‘۔()
خامۂ قدرت کا حسنِ دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ
حضرت کعب بن مالکرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب بھی خوش ہوتے تو آپصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاچہرہ ٔاقدس ایسے منور ہوجاتا کہ چاندکاٹکڑا معلو م ہوتا‘‘۔()
حضر ت بر اء بن عازب رضی اللہ عنہسے دریافت کیا گیا، کیانبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا چہرۂ اقدس تلوار کی طرح چمکدار تھا؟آپ نے فرمایا، نہیں بلکہ و ہ سورج و چاند کی طرح چمکدار تھا (یعنی گولائی کی طرف مائل تھا )‘‘۔ ()
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا۔ آپ سرخ دھاری دار لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو، آخر کار میں نے یہی فیصلہ کیا کہ نور مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چاند سے بہت زیادہ حسین و خوبصورت ہیں‘‘۔()
مجد دِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سر ہ فرماتے ہیں،
مہِ بے داغ کے صدقے جاؤں
یوں دمکتے ہیں دمکنے والے
عرش تک پھیلی ہے تابِ عارض
کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے
حضرت ابو عبید ہ رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حسن وجمال کے بارے میں بتائیں۔
انہوں نے فرمایا، ’’اے بیٹے !اگرتو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کادیدار کرتا تو یہ محسوس کرتاکہ سورج طلوع ہوگیا ہے ‘‘۔()
اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جانِ جاں! میں جانِ تجلّی کہوں تجھے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاچہرہ تمام انسانوں سے زیادہ حسین اور نورانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرہ ٔاقدس کی تعریف کرنے والے ہرشخص نے اسے چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی۔ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ انور پر پسینہ کی بوندیں موتیوں کی مثل معلوم ہوتی تھیں اور پسینہ مبارک خالص کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتا‘‘۔()
حضرت امام زین العا بدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،
مِنْ وَجْھِہٖ شَمْسُ الضُّحٰی مِنْ خَدِّہٖ بَدْرُ الدُّجٰی
مِنْ ذَاتِہٖ نُوْرُ الْھُدٰی مِنْ کَفِّہٖ بَحْرُ الْھِمَمِ
’’وہ جن کا چہرہ چمکتا ہوا سورج ہے اور رخسار مبارک چودھویں کاچاند ، وہ جن کی ذات ہدایت کا نور ہے اور جن کی ہتھیلی میں سخاوت کادریا ہے ‘‘۔
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’ مجھے نورمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرہ ٔ اقدس کا آخری دیدار اُس وقت نصیب ہواجب (وصال سے قبل ) پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے پرد ہ اٹھا کر ہمیں نماز پڑھتے ہوئے ملاحظہ فرمایا۔ پس میں نے آپ کے چہرۂ انو رکو مصحف کاایک ور ق پایا ، لوگ اس وقت ابوبکررضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔()
امام نوو ی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں ، ’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ انور کو مصحف پاک کاورق اس لیے کہا کہ جس طرح قرآنی ورق کلام الٰہی ہونے کی وجہ سے حسی و معنوی انوار کاخزینہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاچہر ہ ٔانور بھی حسی و معنوی انوار کامنبع ہے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up