حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’میں نے آقا و مولیٰ ﷺ سے زیادہ حسین نہ دیکھا، یوں محسوس ہوتا تھا گویا آفتاب آپ ﷺ کے چہرہ ٔ اقدس میں جلوہ گر تھا ‘‘۔ ( شمائل ترمذی، ص112)
خامۂ قدرت کا حسنِ دست کاری واہ واہ
کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ
حضرت کعب بن مالک رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’نور مجسم ﷺ جب بھی خوش ہو تے تو آپ ﷺ کا چہرہ ٔ اقدس ایسے منور ہوجاتا کہ چاند کا ٹکڑا معلو م ہوتا‘‘۔
(بخاری، ج12، ص276، حدیث نمبر:3600، ومسلم، ج4، ص2120، حدیث نمبر:2769)
حضر ت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ سے دریافت کیا گیا، کیا نبی کریم ﷺ کا چہرۂ اقدس تلوار کی طرح چمکدار تھا؟آپ نے فرمایا،
نہیں بلکہ و ہ سورج و چاند کی طرح چمکدار تھا (یعنی گولائی کی طرف مائل تھا )‘‘۔ (بخاری، ج11، ص387، حدیث نمبر:3288، ومسلم، ج4، ص1818، حدیث نمبر:2337 )
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’میں نے آقا و مولیٰ ﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا۔ آپ سرخ دھاری دار لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آقا و مولیٰ ﷺ کو، آخر کار میں نے یہی فیصلہ کیا کہ نور مجسم ﷺ چاند سے بہت زیادہ حسین و خوبصورت ہیں‘‘ ۔ (شمائل ترمذی، ص39)
مجد دِ دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں،
مہِ بے داغ کے صدقے جاؤں
یوں دمکتے ہیں دمکنے والے
عرش تک پھیلی ہے تابِ عارض
کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے
حضرت ابو عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ رضی اللّٰہ عنہا سے عرض کی کہ مجھے حضور ﷺکے حسن وجمال کے بارے میں بتائیں۔انہوں نے فرمایا،
’’اے بیٹے !اگر تو سرکارِ دو عالم ﷺ کادیدار کرتا تو یہ محسوس کرتا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے ‘‘۔
(سنن دارمی،ج1، ص72، حدیث نمبر:61 ، مشکوٰۃ ، ج3، ص259، حدیث نمبر:5793)
اللّٰہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جانِ جاں! میں جانِ تجلّی کہوں تجھے
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،
’’حضور ﷺ کا چہرہ تمام انسانوں سے زیادہ حسین اور نورانی تھا۔ آپ ﷺ کے چہرہ ٔاقدس کی تعریف کرنے والے ہر شخص نے اسے چودھویں کے چاند سے تشبیہ دی۔ آقا ﷺ کے چہرۂ انور پر پسینہ کی بوندیں موتیوں کی مثل معلوم ہوتی تھیں اور پسینہ مبارک خالص کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتا‘‘۔ (دلائل النبوۃ، ج2،ص181، حدیث نمبر:537، مواہب الدنیہ، ج5، ص536)
حضرت امام زین العا بدین رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
مِنْ وَجْھِہٖ شَمْسُ الضُّحٰی مِنْ خَدِّہٖ بَدْرُ الدُّجٰی
مِنْ ذَاتِہٖ نُوْرُ الْھُدٰی مِنْ کَفِّہٖ بَحْرُ الْھِمَمِ
’’وہ جن کا چہرہ چمکتا ہوا سورج ہے اور رخسار مبارک چودھویں کاچاند ، وہ جن کی ذات ہدایت کا نور ہے اور جن کی ہتھیلی میں سخاوت کا دریا ہے ‘‘۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’مجھے نور مجسم ﷺ کے چہرہ ٔ اقدس کا آخری دیدار اُس وقت نصیب ہوا جب (وصال سے قبل ) پیر کے دن آپ ﷺ نے پردہ اٹھا کر ہمیں نماز پڑھتے ہوئے ملاحظہ فرمایا۔ پس میں نے آپ کے چہرۂ انور کو مصحف کا ایک ورق پایا ، لوگ اس وقت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔
(شمائل ترمذی، ص327)
امام نووی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں ،
’’حضور ﷺ کے چہرۂ انور کو مصحف پاک کا ورق اس لیے کہا کہ جس طرح قرآنی ورق کلام الٰہی ہونے کی وجہ سے حسی و معنوی انوار کا خزینہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کا چہرہ ٔانور بھی حسی و معنوی انوار کا منبع ہے‘‘۔
(شرح مسلم، ج4، ص142)

