امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:
آقا و مولیٰ ﷺ جس راستے سے مسجد کو تشریف لے جاتے وہ راستہ آپ ﷺ کے جسم اقدس کی خوشبو کے باعث پہچانا جاتا تھا‘‘۔ (شرح مسند ابی حنفیہ، ص40)
بعثت سے قبل بادل کا ایک ٹکڑا دھوپ میں ہمیشہ نورِ مجسم ﷺ کے جسم اقدس پر سایہ کیے رہتا۔ آقا ﷺ کے جسم اقدس کی ایک اور خوبی احادیث کریمہ میں یہ بھی وارد ہے کہ آپ کو چالیس جنتی مردوں کی قوت عطا فرمائی گئی۔ (خصائص الکبری، ج1 ،ص119)
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے،
’’میں ختنہ کیا ہوا پیدا ہوا، اور کسی نے میرے ستر کو نہیں دیکھا ‘‘۔
(خصائص الکبری، 1، ص91)
آقا کریم ﷺ کے جسم اطہر کی پاکیزگی سے متعلق آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
ولادت کے وقت حضور ﷺ کے جسم اطہر پر کوئی نجاست نہیں تھی، حضور ﷺ پاک و صاف حالت میں پیدا ہوئے۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص66)
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب حضور ﷺ اس عالم آب وگل میں جلوہ گر ہوئے اور میں نے آپ کے جسم اقدس کی طرف نگاہ کی توآ پ کو چودھویں کے چاند کی طرح پایا جس سے تازہ کستوری کی خوشبوئیں اُٹھ رہیں تھیں۔
(دلائل النبوۃ، ابو نعیم، ج2، ص196، حدیث نمبر:549)
اما م زرقانی اور اکابر ائمہ فرماتے ہیں کہ:
نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر تو بہت اعلیٰ ہے آپ ﷺ کے لباس پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی اور آپ ﷺ جوؤں وغیرہ سے بھی محفوظ رہے کیوں کہ آپ ﷺ نور ہیں اور آپ کا جسم اطہر ہر قسم کی گندگی اور بدبو سے پاک تھا۔ (مواہب اللدنیہ، ج5،ص536)
اما مِ نعت گویاں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،
نورِ عینِ لطافت پہ اَلطف درود
زیب و زینِ نظافت پہ لاکھوں سلام
2...چہر ہ ٔاقدس:
نبی کریم ﷺ اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کے حسن و جمال کے کا مل مظہر ہیں۔ جو بھی آپ کا دیدار کرتا آپ پر فدا ہوجاتا ۔ سید نا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی سب سے بڑ ی خواہش یہی تھی کہ ’’ آقا و مولیٰ ﷺ کے چہرۂ اقدس کا ہمیشہ دیدار کرتا رہوں ‘‘۔ (مواہب اللدنیہ، ج5،ص539)
آپ کے حسن و جمال کے بارے میں حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’میں نے رسول معظم ﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا‘‘۔
(بخاری، ج11، ص386، حدیث نمبر:3287 ، مسلم، ج4، ص1818، حدیث نمبر:2337)
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’ آپ ﷺ کو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہوجاتا اور آپ ﷺ کے ساتھ رہنے والا آپ سے محبت کرتا، اور آپ ﷺ کی تعریف کرنے والا ہر شخص یہ کہتا کہ میں نے حضور ﷺ کی مثل نہ آپ ﷺ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آ پ کے بعد‘‘۔ (شمائل ترمذی، ص31)
وصف جس کا ہے آئینۂ حق نما
اُس خدا ساز طلعت پہ لاکھوں سلام
حضر ت ہند بن ابی ہالہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’حضور ﷺ اپنی ذاتِ والا صفات کے لحاظ سے بھی بڑ ی شان والے تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی عظمت والے تھے۔ آپ کا چہرہ ٔاقدس چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا‘‘ ۔ (شمائل ترمذی، ص35)
حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،
’’حضور ﷺ صورت کے لحاظ سے سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے اور سیرت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے‘‘۔
(بخاری، ج11، ص386، حدیث نمبر:3287 ، مسلم ، ج4، ص1818، حدیث نمبر:2337)

