Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 27 of 120
امام اعظم ابو حنیفہرضی اللہ عنہنے حضرت عبداللہ بن مسعو درضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جس راستے سے مسجد کو تشریف لے جاتے وہ راستہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے جسم اقدس کی خوشبو کے باعث پہچانا جاتا تھا‘‘۔()
بعثت سے قبل بادل کا ایک ٹکڑا دھوپ میں ہمیشہ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے جسم اقدس پر سایہ کیے رہتا۔ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اقدس کی ایک اور خوبی احادیث کریمہ میں یہ بھی وارد ہے کہ آپ کو چالیس جنتی مردوں کی قوت عطا فرمائی گئی۔()
آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاارشاد گرامی ہے،’’میں ختنہ کیا ہوا پیدا ہوا، اور کسی نے میرے ستر کو نہیں دیکھا ‘‘۔()
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اطہر کی پاکیزگی سے متعلق آپ کی والد ہ ماجد ہ سید ہ آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ولادت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اطہر پر کوئی نجاست نہیں تھی، حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پاک وصاف حالت میں پیدا ہوئے۔()
آپ نے یہ بھی فرمایاکہ جب حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس عالم آب وگل میں جلو ہ گر ہوئے اور میں نے آپ کے جسم اقدس کی طرف نگاہ کی توآ پ کو چودھویں کے چاند کی طرح پایا جس سے تازہ کستوری کی خوشبو ئیں اُٹھ رہیں تھیں۔ ()
اما م زرقانی اور اکابرائمہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجسم اطہر تو بہت اعلیٰ ہے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لباس پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جوؤ ں وغیرہ سے بھی محفوظ رہے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نو ر ہیں اور آپ کا جسم اطہر ہر قسم کی گندگی اور بدبو سے پاک تھا۔()
اما م ِنعت گویاں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
نورِ عینِ لطافت پہ اَلطف درود
زیب و زینِ نظافت پہ لاکھوں سلام
2...چہر ہ ٔاقدس:
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ عزوجل کے حسن وجمال کے کا مل مظہر ہیں۔ جوبھی آپ کا دیدار کرتا آپ پر فد اہوجا تا۔ سید نا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑ ی خواہش یہی تھی کہ ’’آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہر ۂ اقدس کا ہمیشہ دیدار کرتا رہوں ‘‘۔()
آپ کے حسن وجمال کے بار ے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’میں نے رسول معظمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا‘‘۔()
حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،
’’آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہوجاتا اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ رہنے والا آپ سے محبت کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف کرنے والا ہر شخص یہ کہتا کہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مثل نہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آ پ کے بعد‘‘۔()
وصف جس کا ہے آئینۂ حق نما
اُس خدا ساز طلعت پہ لاکھوں سلام
حضر ت ہند بن ابی ہالہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی ذاتِ والا صفات کے لحاظ سے بھی بڑ ی شان والے تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی عظمت والے تھے۔ آپ کا چہرہ ٔاقد س چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا‘‘۔()
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صورت کے لحاظ سے سب سے زیاد ہ حسین وجمیل تھے اور سیرت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up