Jamal e Mustafa

Total Pages: 120

Page 26 of 120
٭٭٭٭٭





باب سوم

جمالِ اعضائےمبارکہ مطھرہ






1... جسم اطہر:
تمام صحابہ کرام علیہم الر ضوان کااس بات پر اتفاق تھا اور ائمہ دین نے اسے ایمان کامل کی شرط بھی قرار دیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اطہر کو ایسا حسین و خوبصورت بنایا ہے کہ اس کی مثل نہ تو پہلے کوئی ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔
فَھُوَ الَّذِیْ تَمَّ مَعْنَاہُ وَصُوْرَتُہٗ
ثُمَّ اصْطَفَاہُ حَبِیْبًا بَارِیُٔ النَّسَمٖ
مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ فِیْ مَحَاسِنِہٖ
فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ
’’آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی مقدس ذا ت ایسی ہے جو اپنے ظاہری کمالات اور باطنی ترقیوں میں مکمل ہے اور جن کو خالق ارواح نے محبوبیت کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ کی مقدس ہستی اپنے اوصاف و محا سن میں کسی کی شرکت سے بالا تر ہے اورآپ کاجوہر حسن کسی دوسرے میں تقسیم شدہ نہیں۔()
امام ابو نعیم فرماتے ہیں کہ حضر ت یوسف علیہ السلام کو تمام انبیا ء کر ام بلکہ سار ی مخلوق سے زیادہ حسن وجمال د یا گیا تھا مگر ہمارے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکو اللہ عزوجل نے ایسا بے مثل حسن وجمال عطافرمایا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن و جمال کاایک حصہ دیا گیا تھا اور آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تمام حسن وجمال یعنی حسن کل عطا فرمادیا گیا۔()
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جسم اطہر اعضائے مبارکہ کی ساخت کے اعتبار سے حسن اعتدا ل کا آئینہ دار تھا۔ بلاشبہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ حسنِ مجسم پیکرِ انسانی کی صورت میں ظاہر ہوگیا ہے۔ حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،
’’نبیِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جسمِ اطہر حسنِ اعتدال کا مرقع تھا‘‘۔()
حضرت انس رضی اللہ عنہ آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسمِ اقدس کی تعریف یوں فرماتے ہیں، ’’رسولِ معظم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجسمِ اطہر نہایت حسین وخوبصورت تھا‘‘۔()
حضرت اُمِّ معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نمایا ں حسن اور خوبصورت جسم والے تھے ‘‘۔()
آپ ہی سے مروی ہے کہ آقاکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دور سے دیکھنے پرسب لوگوں سے زیادہ دلکش اور جاذبِ نظر دکھائی دیتے اور قریب سے دیکھنے پر سب سے زیاد ہ حسین وجمیل معلوم ہوتے۔()
حضر ت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،’’نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی تخلیق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے زیادہ حسین وجمیل تھے ‘‘۔()
حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحسن وجمال یوں بیان فرماتے ہیں،’’میں نے اپنے آقا ومولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بڑھ کر کسی کو حسین نہ پایا‘‘۔()
اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ
اِن سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے میری جان ہیں یہ
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم اقدس اور جلد مبارک کی نرمی کے بارے میں حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،’’میں نے کبھی کسی ایسے ریشم یادیباج کو نہیں چھوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک ہتھیلی کی طرح نرم وملائم ہو‘‘۔()
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریمصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاجسم اطہر نہایت نرم وملائم تھا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up