Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 26 of 118

باب سوم

جمالِ اعضائےمبارکہ مطھرہ

 

1... جسم اطہر:

تمام صحابہ کرام علیہم الر ضوان کا اس بات پر اتفاق تھا اور ائمہ دین نے اسے ایمان کامل کی شرط بھی قرار دیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم کے جسم اطہر کو ایسا حسین و خوبصورت بنایا ہے کہ اس کی مثل نہ تو پہلے کوئی ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔

فَھُوَ     الَّذِیْ      تَمَّ     مَعْنَاہُ        وَصُوْرَتُہٗ 

ثُمَّ اصْطَفَاہُ حَبِیْبًا بَارِیُٔ النَّسَمٖ

مُنَزَّہٌ        عَنْ    شَرِیْکٍ      فِیْ         مَحَاسِنِہٖ

فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ

’’آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی  ہی کی مقدس ذات ایسی ہے جو اپنے ظاہری کمالات اور باطنی ترقیوں میں مکمل ہے اور جن کو خالق ارواح  نے محبوبیت کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ کی مقدس ہستی اپنے اوصاف ومحاسن میں کسی کی شرکت سے بالا تر ہے اور آپ کا جوہر حسن کسی دوسرے میں تقسیم شدہ نہیں۔ (العمدۃ فی اعراب البردہ، ج1، ص96)

 

امام ابو نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو تمام انبیاء کرام بلکہ سار ی مخلوق سے زیادہ حسن وجمال دیا گیا تھا مگر ہمارے آقا و مولیٰ  کو اللّٰہ عزوجل نے ایسا بے مثل حسن و جمال عطا فرمایا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن و جمال کا ایک حصہ دیا گیا تھا اور آقا کریم کو تمام حسن و جمال یعنی حسن کل عطا فرما دیا گیا۔ (خصائص الکبری، ج1، ص82)

 

نبیِ کریم کا جسم اطہر اعضائے مبارکہ کی ساخت کے اعتبار سے حسن اعتدال کا آئینہ دار تھا۔ بلاشبہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ حسنِ مجسم پیکرِ انسانی کی صورت میں ظاہر ہوگیا ہے۔

حضرت عامر بن واثلہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’نبیِ اکرم نورِ مجسم کا جسمِ اطہر حسنِ اعتدال کا مرقع تھا‘‘۔

(مسلم ،ج4، ص1784، حدیث نمبر:706)

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ آقا کے جسمِ اقدس کی تعریف یوں فرماتے ہیں،

’’رسولِ معظم  کا جسمِ اطہر نہایت حسین و خوبصورت تھا‘‘۔

(شمائل ترمذی، ص29)

 

حضرت اُمِّ معبد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں،

’’حضور اکرم ﷺ   نمایاں حسن اور خوبصورت جسم والے تھے ‘‘۔

(البدایہ والنہایہ ، ج6، ص33)

 

آپ ہی سے مروی ہے کہ آقا کریم دور سے دیکھنے پر سب لوگوں سے زیادہ دلکش اور جاذبِ نظر دکھائی دیتے اور قریب سے دیکھنے پر سب سے زیادہ حسین و جمیل معلوم ہوتے۔(البدایہ والنہایہ ، ج6، ص34 )

 

حضر ت براء بن عازب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’نورِ مجسم  اپنی تخلیق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے زیادہ حسین و جمیل تھے ‘‘۔ (بخاری، ج11، ص386، حدیث نمبر:3287 )

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ حضور  کا حسن و جمال یوں بیان فرماتے ہیں،

’’میں نے اپنے آقا ومولیٰ سے بڑھ کر کسی کو حسین نہ پایا‘‘۔

(مسند احمد، ج20، ص216، حدیث نمبر:9673)

 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،

اللّٰہ  کی  سر  تا  بقدم  شان  ہیں  یہ

اِن سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں یہ

قرآن     تو    ایمان   بتاتا   ہے    انہیں

ایمان  یہ  کہتا  ہے  میری  جان  ہیں یہ

 

حضور کے جسم اقدس اور جلد مبارک کی نرمی کے بارے میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’میں نے کبھی کسی ایسے ریشم یا دیباج کو نہیں چھوا جو نبی کریم کی مبارک ہتھیلی کی طرح نرم و ملائم ہو‘‘۔

(بخاری، ج11، ص396، حدیث نمبر:3297، مسلم ، ج4، 1814، حدیث نمبر2330)

 

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

’’نبی کریم کا جسم اطہر نہایت نرم و ملائم تھا‘‘۔

(الوفا،  الباب السابع والعشرون، ص294)

Share:
keyboard_arrow_up