حضرت ابن عطا ء فرماتے ہیں کہ سورۂ قٓ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قلب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی قوت کی قسم ارشاد فرمائی ہے۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قرآن پاک میں والنجم سے مراد حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکاقلب اقدس ہے۔()
سورۃ البلد کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک قدموں سے لگنے والی خاک کی قسم ارشاد فرمائی،سور ہ الحجر میں جانِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک جان کی قسم ارشاد فرمائی() اور سور ۃ الز خرف میں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیار ی پیاری گفتگوکی قسم ارشاد فرمائی۔()
امام نعت گویا ں ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی علیہ ر حمۃالقو ی آپ کی اس شانِ محبوبیت کویوں بیان فرماتے ہیں ،
وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کوملے نہ کسی کو ملا
کہ کلام مجید نے کھائی شہا تیرے شہر و کلام و بقا کی قسم
استادِ ز من مولانا حسن رضا خاں بریلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ،
تیرے صانع سے کوئی پوچھے ترا حسن و جمال
خود بنایا اور بنا کر آپ پیارا ہو گیا
نام تیرا، ذکر تیرا، تو، ترا پیارا خیال
ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہو گیا
اے حسنؔ قربان جاؤں اس جمال پاک کے
سینکڑوں پردوں میں رہ کر عالم آرا ہو گیا
غزو ہ اُحد میں ایک صحابیہ کے والد ، بھائی اور شوہرشہید ہوگئے۔ اسے ان کی شہادت کی خبردی گئی مگر اس نے باربار یہی پوچھا کہ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کیسے ہیں ؟ مجھے جمالِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کادیدار کرا دو۔ پھر جب اس نے آقاصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھ لیا تو کہنے لگی :کُلُّ مُصِیْبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَل یعنی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسلامت ہیں تو میرے لیے ہر مصیبت آسان ہے۔ ()
حضر ت عمررضی اللہ عنہ ایک رات رعا یا کی نگہبانی کے لیے گشت پر تھے کہ دیکھا، ایک گھر میں چراغ روشن ہے اور ایک بوڑھی عورت اُون بُن رہی ہے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی یاد میں نعت پڑھ رہی ہے اور حضور کے دیدار کی شدیدآرزو ظاہر کر رہی ہے۔ حضر ت عمررضی اللہ عنہ اس کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا، ان کلمات کو دوبار ہ کہو۔ اس نے غمزدہ آواز میں ان اشعار کو دہرایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہکی آنکھوں سے زار و قطار آنسوبہنے لگے۔()
آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دیدار کو صحابہ کرام بہت بڑی نعمت جانتے تھے۔ سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرو ی ہے کہ ایک صحابی حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ انور کو پلکیں جھپکائے بغیر مسلسل دیکھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ؟
عرض کی،میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں میرے آقا! میں آپ کی بابرکت زیارت سے لذ ت حاصل کررہاہوں۔()
جس مسلماں نے دیکھا اُنہیں اک نظر
اُس نظر کی بصارت پہ لاکھوں سلام
ایک عورت نے سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی، میں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے اسے حجر ہ مبارک میں آنے کی اجازت عطا فرمائی۔ وہ عورت روضۂ انور دیکھ کر اتنا روئی کہ وہیں جان قربان کرد ی۔()
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو آقا و مولیٰصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دیدارِ پرُانوا ر کی تٹرپ عطافرمائے۔ آمین
ا س ایمان افروز تمہیدی گفتگو کے بعد اب اللہ تعالیٰ عزوجل کے محبوب رسول اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے جسم اطہر و اعضا ئے مقدسہ کاحسن وجمال احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
Page 25 of 120

