Jamal e Mustafa

Total Pages: 118

Page 25 of 118

حضرت ابن عطاء فرماتے ہیں کہ سورۂ قٓ کے آغاز میں اللّٰہ تعالیٰ نے قلب مصطفیٰ کی قوت کی قسم ارشاد فرمائی ہے۔

امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے کہ قرآن پاک میں والنجم سے مراد حضور کا قلب اقدس ہے۔ (کتاب الشفاء، ج1، ص34)

 

سورۃ البلد کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم کے مبارک قدموں سے لگنے والی خاک کی قسم ارشاد فرمائی، سور ہ الحجر میں جانِ کائنات کی مبارک جان کی قسم ارشاد فرمائی(پارہ نمبر: 13، سورۃ  الحجر، آیت نمبر:72)

اور سورۃ الزخرف میں آقا و مولیٰ کی پیار ی پیاری گفتگو کی قسم ارشاد فرمائی۔ (پارہ نمبر: 25، سورۃ  الزخرف، آیت نمبر:88)

 

امام نعت گویاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ ر حمۃالقو ی آپ کی اس شانِ محبوبیت کویوں بیان فرماتے ہیں،

 

وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کوملے نہ کسی کو ملا

کہ کلام مجید نے کھائی شہا تیرے شہر و کلام و بقا کی قسم

 

استادِ زمن مولانا حسن رضا خاں بریلو ی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں،

تیرے صانع سے کوئی پوچھے ترا حسن و جمال

خود     بنای ا   اور    بنا   کر   آپ  پیارا   ہوگیا

نام   تیرا،    ذکر    تیرا،   تو،   ترا   پیارا   خیال

ناتوانوں    بے   سہاروں   کا    سہارا    ہو گیا

اے   حسنؔ  قربان   جاؤں   اس  جمال  پاک  کے

سینکڑوں  پردوں  میں  رہ  کر  عالم  آرا  ہو گیا

 

غزو ہ اُحد میں ایک صحابیہ کے والد، بھائی اور شوہر شہید ہوگئے۔ اسے ان کی شہادت کی خبردی گئی مگر اس نے بار بار  یہی پوچھا کہ آقا کیسے ہیں؟

مجھے جمالِ مصطفی کا دیدار کرا دو۔ پھر جب اس نے آقا کو دیکھ لیا تو کہنے لگی:

کُلُّ مُصِیْبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَل  

یعنی آپ سلامت ہیں تو میرے لیے ہر مصیبت آسان ہے۔

(سیرۃ الحلبیہ، ج2، ص542، سیرت ابن ہشام، ج4، ص50)

 

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ ایک رات رعایا کی نگہبانی کے لیے گشت پر تھے کہ دیکھا، ایک گھر میں چراغ روشن ہے اور ایک بوڑھی عورت اُون بُن رہی ہے۔ وہ حضور کی یاد میں نعت پڑھ رہی ہے اور حضور کے دیدار کی شدید آرزو  ظاہر کر رہی ہے۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اس کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا،

ان کلمات کو دوبار ہ کہو۔ اس نے غمزدہ آواز میں ان اشعار کو دہرایا تو سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے۔ (مدار ج النبوۃ)

 

آقا ﷺ  کے دیدار کو صحابہ کرام بہت بڑی نعمت جانتے تھے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک صحابی حبیبِ کبریا کے چہرۂ انور کو پلکیں جھپکائے بغیر مسلسل دیکھ رہے تھے۔

آپ نے فرمایا، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ؟

عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں میرے آقا! میں آپ کی با برکت زیارت سے لذ ت حاصل کر رہا ہوں۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص20)

 

جس مسلماں نے دیکھا اُنہیں اک نظر

اُس نظر کی بصارت پہ لاکھوں سلام

 

ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی خدمت میں عرض کی، میں آقا کے روضۂ اقدس کی زیارت کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے اسے حجرہ مبارک میں آنے کی اجازت عطا فرمائی۔ وہ عورت روضۂ انور دیکھ کر اتنا روئی کہ وہیں جان قربان کردی ۔ (کتاب الشفاء، ج2، ص23) 

 

اللّٰہ تعالیٰ ہر مسلمان کو آقا و مولیٰ کے دیدارِ پرُ انوار کی تڑپ عطا فرمائے۔  آمین

اس ایمان افروز تمہیدی گفتگو  کے بعد اب اللّٰہ تعالیٰ عزوجل کے محبوب رسول اور آقائے دو جہاں  کے جسم اطہر و اعضا ئے مقدسہ کا حسن و جمال احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔

Share:
keyboard_arrow_up